ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کی جانب سے ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ریکارڈ شدہ انٹرویو دورانِ نشریات اچانک روک دیے جانے پر اسپیکر کی ٹیم نے سخت ردِعمل دیا ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ گفتگو نشریات سے 2 گھنٹے قبل ہی اسلامی جمہوریہ ایران براڈ کاسٹنگ (IRIB) کے حوالے کر دی گئی تھی تاہم اسے دورانِ نشریات اچانک روک دیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چونکہ یہ ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو تھا اس لیے اگر سرکاری نشریاتی ادارہ اس کا کوئی حصہ نشر نہ کرنے کا فیصلہ کرتا تو کم از کم پارلیمنٹ کے میڈیا سینٹر سے پیشگی رابطہ اور مشاورت کی جانی چاہیے تھی۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انٹرویو کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس کا دوسرا حصہ بدھ کی شب نشر کیا جائے گا۔
پارلیمانی میڈیا سینٹر کے مطابق جن حصوں کو نشر نہیں کیا گیا اُن میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنے، ایران کے منجمد مالی اثاثوں اور 300 ارب ڈالرز کے تعمیرِ نو کریڈٹ سے متعلق موضوعات شامل تھے۔