اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ہی حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتہائی دائیں بازو کے وزرا اتمار بن گویر، بیزلیل سموٹریچ اور قدامت پسند مذہبی (حریدی) جماعتیں نیتن یاہو پر اثرانداز ہو چکی ہیں۔
براڈکاسٹر ماریو نوفل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نفتالی بینیٹ نے کہا کہ نیتن یاہو اپنی ہی حکومت نہیں چلا سکتے، کیونکہ بن گویر، سموٹریچ اور حریدی جماعتیں انہیں کنٹرول کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی حکومت میں ایسے افراد کو کبھی جگہ نہ دیتا جو بن گویر اور سموٹریچ جیسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں۔ میں تو ابتدا ہی میں بن گویر کو اپنی کابینہ کا حصہ نہ بناتا۔ اگر میری حکومت کا کوئی وزیر اس نوعیت کا بیان دیتا تو میں فوری طور پر اسے تنبیہ کرتا لیکن نیتن یاہو اب ایسا نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے انہی جماعتوں پر انحصار کرتے ہیں۔
نفتالی بینیٹ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق اس کی وجہ بیرونی پروپیگنڈا یا جانبدار میڈیا نہیں بلکہ حکومتی طرزِ عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی وزرا کے بیانات اور اقدامات اسرائیل کی عالمی ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ حکومت نے مؤثر عوامی سفارت کاری (پبلک ڈپلومیسی) پر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ، لبنان اور ایران کے محاذ پر طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگیں اسرائیل کے روایتی عسکری نظریے کے خلاف ہیں اور ان سے ملک کے وسائل پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیل کا عسکری نظریہ نہیں ہے۔ اگر جنگ ناگزیر ہو تو اسے تیزی اور بھرپور انداز میں لڑنا چاہیے، کامیابی حاصل کر کے جلد از جلد خطے کو مستحکم کرنا چاہیے لیکن جب جنگ کو غیر ضروری طور پر طویل کر دیا جائے تو اس سے معیشت کمزور ہوتی ہے اور ریزرو فوج پر بھی بھاری بوجھ پڑتا ہے۔