• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بی آر ٹی یلو لائن میں مبینہ کرپشن: ملزم کی مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست کا تحریری حکم نامہ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

اینٹی کرپشن کورٹ سندھ نے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ ساڑھے 8 ارب روپے کے کرپشن کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کو مبینہ جرم سے جوڑنے والا ابتدائی شواہد موجود ہیں جبکہ مزید شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر مقدمے کی حقیقت کا تعین کرنا ممکن نہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 63 کے تحت ڈسچارج کا اختیار صرف غیر معمولی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایف آئی آر میں نامزدگی اور ابتدائی شواہد کی موجودگی میں مقدمہ قبل از وقت ختم کرنا عدالت کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہوگا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے الزامات صرف کسی ایک فرد کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے اور قومی خزانے کے خلاف جرم تصور ہوتے ہیں۔ اس لیے عدالت پر آئینی اور قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔

تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس مرحلے پر ملزم کو ڈسچارج کرنا بدعنوان سرکاری اہلکاروں کو احتساب سے بچنے کا راستہ فراہم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے مقدمہ قانون کے مطابق اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔

قومی خبریں سے مزید