بینک مینجر کے ہاتھوں مالی فراڈ کی شکار نابینا خاتون کو ایک کروڑ 92 لاکھ روپے کی رقم واپس مل گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بقایا رقم کے ازالے کیلئے بینک مینجر کی دونوں گاڑیاں نابینا خاتون کے حوالے کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف آئی اے کو فراڈ کرنے والے رمیز جاوید سے دونوں گاڑیاں ریکور کر کے تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
نابینا خاتون درخواست گزار خاتون نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ آپ دونوں ججز صاحبان کا بہت بہت شکریہ۔
بینک مینجر رمیز جاوید کروڑوں روپے کے فراڈ کیس میں سزا یافتہ، اڈیالہ جیل میں قید ہیں بینک مینجر پر خاتون درخشاں مرزا کی دو کروڑ سے زائد رقم ہڑپ کرنے کا الزام ہے۔
ٹرائل کورٹ نے بینک مینجر رمیز جاوید پر جرم ثابت ہونے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس راجا انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے نابینا خاتون درخشاں مرزا کی رقم ریکوری کی متفرق درخواست پر سماعت کی۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ نے بتایا کہ پہلی رقم ایک کروڑ 59 لاکھ ان کو موصول ہو چکی ہے گزشتہ روز 28 لاکھ کا ایک جبکہ 5 لاکھ 30 ہزار کا دوسرا چیک موصول ہوا جبکہ دونوں گاڑیاں ایک ہفتے میں ریکور کروا کے دیں گے۔
ڈویژن بین نے رمیز جاوید کی سزا کے خلاف اپیل بھی مسترد کردی۔ سزا مسترد کرنے کے فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے رقم کی ریکوری کا بھی آرڈر کیا تھا۔
مکمل رقم نہ ملنے پر درخشاں مرزا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 جولائی تک ملتوی کر دی۔