عالمی بینک نے دنیا کے نقشے کا ايک حصہ نئے سرے سے ترتیب دیدیا ہے۔ اپنی علاقائی گروہ بندیوں کی ايک حالیہ ازسرنو درجہ بندی میں، جو مالی سال 26ء سے مؤثر ہے، ادارے نے پاکستان کو جنوبی ایشیا سے نکال کر مشر ِق وسطٰی، شمالی افریقہ کے ايک وسیع تر گروپ میں شامل کر دیا ہے ۔ عالمی بینک کی اپنی ميٹا ڈيٹا لغت کے مطابق یکم جولائی 2025ء، یعنی مالی سال 26ء سے افغانستان اور پاکستان کو مشر ِق وسطٰی اور شمالی افریقہ کے خطے کا حصہ قرار دیا گیا ہے، اس طرح انہیں جنوبی ایشیا کے خطے سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔يہ ايک ایسی انتظامی توضيح ہے جو شاذ و نادر ہی سرخيوں ميں جگہ پاتی ہے، اور عين ممکن ہے کہ ہمارے رہنماؤں نے ابھی تک اسے پوری طرح محسوس نہ کيا ہو، کيونکہ وہ ايران اور امریکا کے درميان ثالثی کے کٹھن کام ميں مصروف رہے ہیں، ايک ایسی کوشش جس نے پاکستان کے کریڈٹ پر واقعی کاميابی حاصل کی ہے۔ ليکن جیسے جیسے يہ کشیدگیاں کم ہوتی ہیں، يہ نسبتاً خاموش پیش رفت توجہ کی مستحق ہے، کيونکہ اسکی اہمیت اس کے دفتری پس منظر سے کہیں زيادہ ہو سکتی ہے۔
اس اقدام کو ايک معمولی فائلنگ تبدیلی سمجھنے کا رجحان پيدا ہو سکتا ہے، یا اسے دفاعی انداز ميں یوں پڑھا جا سکتا ہے جیسے پاکستان کو اس پڑوس سے دور کيا جا رہا ہو جسے وہ طویل عرصے سے اپنا گھر کہتا آیا ہے۔ دونوں رِدعمل غیر دانشمندانہ ہوں گے۔ ادارہ جاتی منطق جو بھی رہی ہو، پاکستان کے لئے کہیں بہتر ہوگا کہ وہ اس کو تزویراتی طور پر ايک اہم موقع سمجھے، ايسا موقع جسے قومی سطح پر دانستہ ازسرنو صف بندی ميں بدل دیا جائے۔ايک سطح پريہ ازسرنو درجہ بندی محض اس منطق کی عکاس ہے جو برسوں سے تشکیل پا رہی تھی۔ پاکستان کی معاشی زندگی اب اس جنوبی ایشیائی فریم تک محدود نہیں رہی جس ميں اسے روایتی طور پر رکھا جاتا رہا ہے۔ اس کی افرادی قوت کی نقل و حرکت، ترسيلا ِت زر، توانائی کا تحفظ اور سرمايہ کاری کا مستقبل اب مشرقی سرحدوں کی نسبت خليج کے ساتھ کہیں زیادہ گہرائی سے وابستہ ہے۔ لاکھوں پاکستانی کارکن خلیجی معيشتوں کو سہارا دیتے ہیں، وہ جو رقم وطن بھیجتے ہیں وہ قومی مالیاتی استحکام کو تقویت دیتی ہے، ملک کی توانائی کی شہ رگيں مشر ِق وسطٰی سے گزرتی ہیں، اور اس کے سب سے اہم سرمايہ کاری تعلقات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کے ساتھ ہیں۔ اس معنی میں عالمی بینک نے محض اس حقیقت کو تسلیم کيا ہے جو پہلے ہی موجود تھی۔
اصل اہمیت اس کے وقت میں پوشیدہ ہے۔ عالمی نظام نئے تنازعات، بدلتے اتحادوں، متاثرہ توانائی راستوں اور علاقائی بلاکس کے مسلسل ابھار کے ذریعے تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور اس ہلچل کے اندر گزشتہ ايک سال ميں پاکستان کا اپنا مقام نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔ ملک کو اب صرف ايک ایسی ریاست کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا جو داخلی معاشی دباؤ کو سنبھال رہی ہو، بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا جغرافیہ، فوجی صلاحیت، بڑی افرادی قوت اور بااثر بیرو ِن ملک پاکستانی برادری اسے جنوبی ایشیا، خليج، وسطی ایشیا، چین اور وسیع تر مسلم دنیا کو جوڑنے کے قابل بناتی ہے۔
اس ازسرنو صف بندی کو ايک واضح تزویراتی حقیقت کے تناظر میں بھی پڑھنا ہوگا: آج کی خلیجی دنیا مضبوطی سے مغرب کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اس کی بڑی ریاستیں امریکا اور مغربی دنیا کے ساتھ گہرے سلامتی، معاشی اور سفارتی روابط رکھتی ہیں۔ خود کو خليج کی معاشی اور تزويراتی قوس ميں زیادہ مضبوطی سے لنگر انداز کر کے پاکستان محض ايک علاقائی تعلق کو گہرا نہیں کر رہاوہ خود کو ایسے بلاک کے اندر پوزیشن کر رہا ہے جو مغربی طاقت، سرمایہ اور اثر و رسوخ کے مراکز سے قریبی طور پر جڑا ہوا ہے۔ اس پہلو کو ہر اگلے قدم کے پیچھے موجود خواہش اور سمت کو متعین کرنا چاہئے۔ کئی ترجیحات فطری طور پر اسی سے جنم لیتی ہیں۔ پاکستان کو جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے کو ايک محدود تجارتی مذاکرات کے بجائے تزویراتی آلے کے طور پر تیزی سے آگے بڑھانا چاہئے، اپنی کسٹمز، سرمایہ کاری اور ٹیکسیشن پالیسیوں کو خلیجی توقعات سے ہم آہنگ کرنا چاہئے، اور فوڈ پروسیسنگ، حلال برآمدات، لاجسٹکس، ادویہ سازی اور آئی ٹی سروسز میں موضوعاتی خصوصی اقتصادی زونز قائم کرنے چاہئیں۔ اسے خود کو کم لاگت افرادی قوت کے فراہم کنندہ سے ایک حقیقی مہارتوں کے شراکت دار کے طور پر بھی ازسرنو پیش کرنا چاہئے۔
اسی طرح پاکستان کو اپنی خلیجی ڈائسپورا کو محض ترسیلا ِت زر کا ذریعہ سمجھنا بند کرنا چاہئے۔ بیرو ِن ملک موجود يہ لاکھوں پیشہ ور افراد اور کاروباری شخصيات اپنی جگہ تجارتی رابطہ کار اور ممکنہ سرمايہ کار ہیں، اور ايک منظم حکمت عملی انہیں علاقائی اثر و رسوخ کے نیٹ ورک ميں بدل سکتی ہے۔ اس سب کے باوجود احتیاط کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔
مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ کا فريم پاکستان کو ایک ایسے خطے کے قریب رکھتا ہے جو تنازعات اور توانائی راستوں کے خطرات سے متعین ہے، اور ملک کو بلاک سياست ميں کھینچنے سے بچنا ہوگا۔ اس کی اصل قدر ايک مستحکم پل بننے میں ہے۔خليج کے قریب، ايران کا احترام کرنے والا، چین سے جڑا ہوا اور امریکا کے ساتھ مصرو ِف عمل، بہت سوں کے لئے ناگزیر، مگر کسی ایک طاقت کے تابع نہیں۔
اس پورے عمل ميں لہجہ اہم ہے۔ پاکستان کو اپنی نئی علاقائی جگہ کو اعتماد کے ساتھ اختيار کرنا چاہئے، موقع کو حقیقی سمجھتے ہوئے اور اس کے ساتھ آنے والے خطرات کو نظم و ضبط کے ذريعے قابِل انتظام مانتے ہوئے۔ اسے خود کو بحران کے عدسے سے نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے مشرقی کنارے پر ايک اصلاح پذير، سرمايہ کاری کے لئے تيار، خطوں کو جوڑنے والی معیشت کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔
ايک ايسے عالمی نظام میں جو پہلے ہی ازسرنو تشکيل پا رہا ہے، پاکستان کو اس لمحے کو غير فعال انداز ميں نہیں لینا چاہئے۔ اسے شناخت کو ساکھ ميں، ساکھ کو اثر و رسوخ ميں، اثر و رسوخ کو سرمايہ کاری ميں، اور سرمايہ کاری کو پائيدار قومی طاقت ميں بدلنا ہوگا۔ نقشہ شايد دوسروں نے ازسرنو بنايا ہو، مگر اس سے پيدا ہونے والا موقع اب پاکستان کا ہے۔