• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ پہلا بجٹ 28 فروری 1948ء کو اُس وقت کے وزیرِ خزانہ غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا تھا۔یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا تھا جب پاکستان کو قائم ہوئے صرف چند ماہ ہی گزرے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کے دیگر رہنما موجود تھے جو ملک کی سیاسی و معاشی بنیادیں مضبوط کرنے میں مصروف تھے۔دستور ساز اسمبلی کے اس اجلاس کی صدارت مولوی تمیزالدین خان کر رہے تھے۔ غلام محمد نے شام پانچ بجے اپنی بجٹ تقریر شروع کی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ساڑھے چھ بجے تقریر مکمل کردی تھی۔ اجلاس میں 33اراکین موجود تھے جنہوں نے پوری تقریر خاموشی اور پوری توجہ سے سنی تھی۔ اس بجٹ میں کل آمدنی: 79کروڑ 57 لاکھ روپے اور دفاعی اخراجات: 37کروڑ 11 لاکھ روپے بیان کئے گئے تھے جبکہ کل اخراجات 89 کروڑ 68 لاکھ روپے اور کل خسارہ 10 کروڑ 11 لاکھ روپے بتائے گئے تھے۔ اس بجٹ میں سب سے زیادہ رقم ریل، ڈاک اور تار کے شعبے کے لیے مختص کی گئی تھی جبکہ دفاعی اخراجات بھی تقریباً اسی سطح پر رکھے گئے تھے۔مجموعی طور پر بجٹ کا حجم 89 کروڑ 68 لاکھ روپے تھا اور آمدنی 79 کروڑ 57 لاکھ روپے ہونے کے باعث 10 کروڑ 11 لاکھ روپے کا خسارہ نظر آرہا تھا۔خسارے کو پورا کرنے اور حکومتی آمدنی بڑھانے کیلئے متعدد نئے ٹیکس عائد کردیے گئے، پوسٹ کارڈ کی قیمت دو پیسے سے بڑھا کر تین پیسے کر دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ حقہ، بیڑی، تمباکو اور شراب پر ٹیکس لگا دیا گیا تھا۔ چینی، شکر، مٹی کے تیل، پٹرول اور چھالیہ پر بھی محصولات عائد کردیے گئے تھے جبکہ خام روئی، چمڑے اور کھالوں پر ڈیوٹی لگا دی گئی تھی۔

حسن اتفاق دیکھئے کہ آج بھی وفاقی بجٹ 2026-27 ءمیں اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گھی، کوکنگ آئل، بچوں کا فارمولا دودھ، کراکری، سینٹری، کچن وئیر اور باتھ روم فٹنگ پر جنرل سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا ہے اور سوٹ کیس، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحہ جات پر جنرل ٹیکس نافذ کردیا گیا ہے، اسی طرح ہیر آئل، شیمپو، جوتے، پرفیوم، بیکری آئٹمز، زرعی ادویات اور جراثیم کش مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس نافذ کردیا گیا اور تو اور حکومت نے غربت کی نئی حد جاری کر دی ہے کہ اگر آپ ماہانہ ساڑھے آٹھ ہزار کما رہے ہیں تو آپ غریب نہیں ہیں ۔ نئے وفاقی میزانیے کے یہ خد و خال آپ کی نظروں سے گزر چکے ہوں گے جس میں اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، کم آمدنی والے طبقات، مہنگائی پر قابو پانے اور ہاؤسنگ و تعمیرات، زراعت و صنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر ’’خصوصی توجہ‘‘ مرکوز کی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اور کم سے کم ماہانہ اجرت میں دس فیصد اضافہ کر دیاگیا ہے، بڑے تنخواہ داروں کیلئے ریلیف، دفاع کیلئے تین ہزار ارب، قرض ادا کرنے کیلئے آٹھ ہزار ارب روپے مختص، قرض کی ادائی وفاقی بجٹ کا 42.9 فیصد ہڑپ کر جائے گا، باقی کیا بچے گا، کہاں خرچ ہوگا آپ کو بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ 2022ءکے پندرہ فیصد اور 2025 ءکے دس فیصد ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اسی طرح تمام وفاقی سرکاری ملازمین کو رننگ بیسک پے پر سات فیصد ایڈہاک الاؤنس دیا جائے گا جسے اونٹ کے منہ میں زیرہ قرار دیا جارہا ہے۔ سرکاری ملازمین نے سات فیصد تنخواہوں میں اضافہ مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر میں تنخواہوں میں صرف سات فیصد اضافہ ان کے لیے ناکافی ہے جبکہ ملک میں مہنگائی کی جو صورت حال ہے اس کے حساب سے تو زیادہ اضافہ ہونا چاہیے۔ کنوینس الاؤنس میں موجود رقم سے پچاس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ سول آرمڈ فورسز کے لیے کانسٹینٹ اٹینڈنٹ الاؤنس سات ہزار روپے سے بڑھا کر تیس ہزار روپے اسی پر بس نہیں بلکہ کابینہ ڈویژن کے افسران اور عملے کی اسپیشل تنخواہ ماہانہ چھ ہزار روپے سے بڑھا کر بیس ہزار روپے کردی گئی ہے جب کہ موٹروے پولیس کے گریڈ ایک سے بائیس کے تمام ملازمین کا اسپیشل الاؤنس دس فیصد سے بڑھا کر پچاس فیصد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی طرح موٹروے پولیس کا اسپیشل کنوینس الاؤنس چھے ہزار روپے سے بڑھا کر دس ہزار روپے کیا جارہا ہے یعنی ان ملازمین کی اب پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑھائی میں ہوگا۔ عام آدمی کا مسئلہ وہی ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگی ہے، اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ دیہاتوں میں غربت کی شرح 28.2 سے بڑھ کر 36.2 فیصد اور شہروں میں 11 سے بڑھ کر 17.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ غربت بلوچستان میں 47 فیصد ریکارڈ، خیبرپختونخوا میں شرح 35.3 فیصد ریکارڈ، سندھ میں شرح 32.6 فیصد اور پنجاب میں غربت کی شرح 23.3 فیصد اور امیر اور غریب کی آمدن میں فرق 28 سے بڑھ کر 33 فیصد ہوگئی ہے ایسے میں پیٹرول کی قیمت میں حالیہ ردو بدل کے باوجود صارفین پر بھاری لیویز مارجنز اور دیگر چارجز کا بوجھ برقرار ہے۔ سب گنگا میں اشنان کرنے میں اگلے بجٹ تک مصروف رہیں گے اور عوام بھاری ٹیکسوں اور سرکاری ملازمین و اشرافیہ کے کردہ گناہوں کا بوجھ ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرکے کم کرتے رہیں گے۔ یہ ہے اس ملک کی صورت حال اور یہ ہے بجٹ کا تازیانہ۔ عوام کہاں ہجرت کر جائیں کسی کو معلوم نہیں۔ بات اپوزیشن کی چیخ و پکار کی، کی جائے تو نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے اور دوسری بات موجودہ صورت حال میں اپوزیشن تو کہیں بھی نظر نہیں آرہی اور نہ ہی اس کا کوئی کردار نظر آرہا ہے ملکی سیاست میں۔

تازہ ترین