• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملتان محض ایک شہر کا نام نہیں بلکہ یہ تہذیب و تمدن کا وہ زندہ جاوید استعارہ ہے جس نے صدیوں تک دنیا کو علم، امن اور لازوال ہنر کا درس دیا ہے۔ ملتان کی مٹی سے جنم لینے والی بلیو پاٹری (کاشی گری) کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان کا شعور۔ یہاں کے ہنرمندوں نے مٹی اور نیلگوں رنگوں کے ملاپ سے فنِ تعمیر اور دستکاری کی دنیا میں وہ عظیم کارنامے سرانجام دیئے ہیں جن کی گونج سات سمندر پار تک سنائی دیتی رہی ہے۔ مٹی کے بے جان برتنوں پر آسمانی نیلا ہٹ تاننے والے ان مٹی کے خدائوں نے دنیا بھر کی بین الاقوامی نمائشوں میں نہ صرف پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ ہمیشہ فرسٹ پرائز اور طلائی تمغے حاصل کر کے ملتان کی مہارت کا لوہا منوایا۔ یہ ان کاشی گروں کے فن کے ہی شاہکار تھے جنہیں دیکھ کر ہند کی تاریخ میں یہ مشہور کہاوت شامل ہوئی کہ ’’آگرا اگر، دلی مگر، ملتان سب کا پدر‘‘۔ یعنی فن و ثقافت میں دلی اور آگرہ کا کوئی بھی مقام ہو، ملتان ہمیشہ ان سب کا استاد اور سرپرست ہی رہے گا۔

ملتان کرافٹ بازار کے صدر اور ملتانی کاشی گری کے خاندانی وارث، ملک عبدالرحمن کی زبانی جو داستانِ غم سامنے آئی ہے، وہ دراصل ہماری تہذیبی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک وقت تھا جب ملتان کا کرافٹ بازار دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، مگر افسوس کہ اس تاریخی بازار کو ترقی کے نام پر مسمار کر دیا گیا۔ اس وقت کے حکمرانوں نے ہنرمندوں کو عارضی طور پر قلعہ کہنہ قاسم باغ پر ملتان اسٹیڈیم کی دکانوں پر منتقل کرتے ہوئے یہ دلاسہ دیا تھا کہ انہیں ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ جدید کرافٹ بازار بنا کر دیا جائے گا، لیکن وہ وعدہ آج تک ایفا نہ ہو سکا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ہنرمندوں کو ملتان گھنٹہ گھر کی ایک ایسی پرانی اور اجاڑ عمارت میں بٹھا دیا گیا ہے جہاں کوئی خریدار تو دور کی بات، پرندہ بھی پر نہیں مارتا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ آئے روز عمارت کی مرمت کے بہانے ان بوڑھے اور معزز فنکاروں کو وہاں سے بھی بے دخل کر کے کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیا جاتا، جس کے باعث یہ قدیم اور نایاب فن دم توڑ رہا ہے۔

کسی بھی خطے کے ہنرمند اور کاریگر اس کا سب سے بڑا قومی اثاثہ ہوتے ہیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے محسنوں اور فنکاروں کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتیں، وہ ہمیشہ بدنیتی اور بد نصیبی کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج سے ایک ہزار سال قبل جب محمود غزنوی نے ملتان پر حملہ کیاجسے تاریخ میں ایک حملہ آور کے طور پر یاد کیا جاتا ہےاس نے ملتان سے بے پناہ دولت، سونا اور چاندی تو لوٹا ہی، ساتھ ہی بڑے پیمانے پر خونریزی بھی کی۔ لیکن اس ظالم جرنیل کے اندر بھی ہنر کی پرکھ موجود تھی۔ اس نے اپنی فاتح فوجوں کو سخت ہدایت کی تھی کہ ملتان کے ہنرمندوں اور کاشی گروں کو قتل کرنے کے بجائے زندہ گرفتار کیا جائے۔ چنانچہ وہ سینکڑوں ملتانی ہنرمندوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ غزنی لے گیا، جہاں ان فنکاروں نے وہاں کے مقامی لوگوں کو علم و ہنر سے آشنا کیا، اور نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی سالوں میں غزنی کا نام دنیا کے نقشے پر ہنرمندی کے حوالے سے چمکنے لگا۔

میں اس دھرتی کا بیٹا ہونے کے ناطے اور سرائیکستان وطن پارٹی کے پلیٹ فارم سے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آج کے حکمران اس ایک ہزار سال پرانے حملہ آور محمود غزنوی سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ایک وہ تھا جس نے مفتوحہ دھرتی کے ہنرمندوں کی زندگیوں کو امان دی تاکہ ان کا علم محفوظ رہ سکے، اور ایک آج کے یہ جمہوریت اور ترقی کے علمبردار حکمران ہیں جو اپنے ہی ملک کے عالمی ایوارڈ یافتہ ہنرمندوں کو فاقوں کی موت مار رہے ہیں۔ ان کے علم، فن اور ثقافتی ورثے سے فائدہ اٹھانے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کے بجائے، انہیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ ان مٹی کے جادوگروں کو دانے دانے کا محتاج کر کے دراصل ملتان کی ہزار سالہ ثقافت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ یہ حکمران محلوں میں بیٹھ کر ترقی کے دعوے تو کرتے ہیں، مگر ان کی ناکام پالیسیوں نے اس خطے کے تاجدار ہنرمندوں کو ویران اور بند کمروں میں لا کھڑا کیا ہے اور وہ زبوںحالی کا نمونہ بنے ہوئے ہیں، بڑی بات یہ ہے کہ صوبائی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمران تو اپنی جگہ رہے مگر ملتان کے مقامی کمشنر، ڈی سی کو بھی ذرہ برابر کرافٹ بازار کی زبوں حالی کا احساس نہیں۔

وقت کا سب سے بڑا تقاضا اور ہماری قومی غیرت کا امتحان یہ ہے کہ ملتان کے کرافٹ بازار کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ فوری طور پر اصل جگہ بحال کیا جائے۔ یہ صرف چند دکانوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس قدیم ترین فن کو بچانے کی آخری کوشش ہے جو دم توڑتی سانسوں کے ساتھ حکمرانوں کی توجہ کا منتظر ہے۔ اگر اب بھی ریاست نے جاگنے کا ثبوت نہ دیا اور ان ہنرمندوں کی داد رسی نہ کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جہاں ان کاریگروں کو مستقل چھت، وظائف اور ان کے فن پارے دنیا بھر میں بیچنے کیلئے حکومتی سرپرستی حاصل ہو۔ ملتان کے ہنرمند بھیک نہیں مانگ رہے، وہ اپنا وہ حق مانگ رہے ہیں جو انہوں نے اپنے خون پسینے سے کمایا ہے۔ ہم اپنے اس قومی اثاثے کو یوں بے دردی سے مٹنے نہیں دیں گے اور ان کے حقوق کی بحالی تک ہماری آواز ایوانوں کو جھنجھوڑتی رہے گی۔

تازہ ترین