اس افسوسناک صورتحال پر ہر صاحب اولاد کا دل دکھنا چاہئے کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کی عمر کے ڈھائی کروڑ سے زائد اور سندھ میں چھیاسی لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے کیونکہ مالی سکت نہ ہونے کیوجہ سے ان کے والدین انہیں اسکولوں میں داخلے دلوا ہی نہیں سکتے۔ پرائیویٹ اسکول تو تقریباً ہر گلی محلے میں موجود ہیں مگران کی فیسیںاتنی زیادہ ہیں کہ اوسط آمدنی والے لوگ بھی اپنے بچوں کو ان میں داخلہ دلوانے کے متحمل نہیںہو سکتے۔ پھر یہ اسکول ایسی عمارتوں میں قائم ہیں کہ ہر چند کہیں کہ ہیں، نہیں ہیں۔ ایسے ہی ایک اسکول کی ٹی آر گارڈر والی چھت گرنے سے پچھلے دنوں 14؍ معصوم بچے ملبے میں دب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ ایک بڑا واقعہ تھا مگر ایسے واقعات پورے ملک میں معمول کی بات ہیں۔ جو بچے اسکولوں میں پڑھنے کے لئے نہیں جاسکتے ان میں سے لاکھوں ایسے ہیں جو اپنے کنبوں کی کفالت کیلئے محنت مزدوری کرنے پرمجبور ہیں ۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں 86؍ لاکھ بچے چائلڈ لیبر کی سختیاں برداشت کررہے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ یہ اعداد وشمار درست بھی ہوں۔ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اکثریت ایسے خطرناک پیشوں سے وابستہ ہے جن کے تصور سے بھی انسان لرز جاتا ہے۔
چائلڈ لیبر کے حوالے سے پنجاب سرفہرست ہے کیونکہ آبادی کے لحاظ سے یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے یہاں 60؍ لاکھ سے زائد بچے محنت مزدوری کرکے اپنے گھروں کے چولہے جلتے رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔سندھ دوسرے نمبر پر آتا ہے، یہاں 16؍ لاکھ بچے جبری مشقت کے صدمے سے دو چار ہیں، خیبرپختونخوا میں 7؍ لاکھ سے زائد، بلوچستان میں دو لاکھ 1352اور اسلام آباد میں 15ہزار 180؍ بچے اسکول جانے کی بجائے روزی کمانے کے دھندوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آئین پاکستان کے ایک آرٹیکل کی رو سے 14؍ سال سے کم عمر بچوں پر سخت مشقت کے کاموں میں حصہ نہ لینے کی پابندی ہے اسی آئین کا آرٹیکل 25 اے ضمانت دیتا ہے کہ بچوں کیلئے تعلیم لازمی اور مفت ہوگی لیکن یہ ضمانت صرف آئین کی دستاویزمیں محفوظ ہے اصل صورتحال اس سے مختلف ہے۔ چائلڈ لیبر میں آئین کو نہیں ، کم عمر بچوں کے خاندانی حالات، صحت، سماجی حیثیت، غذائی ضروریات اور دوسری مجبوریوں کو دیکھا جاتا ہے۔ جو بچے اسکول نہیں جاسکتے وہ زیادہ تر مشقت کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں اس دوران زخمی بھی ہوتے ہیں اور بیمار بھی، ذہنی امراض میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 32؍ سے 58؍ فیصد تک کم عمر بچے مشقت کی قوت سے بھی محروم ہیں مگر کرنے پرمجبور ہیں ان میں شرح اموات بھی زیادہ ہے۔ جن بچوں کے کنبوں کی کفالت کرنے والا کوئی نہ ہو ان کے پاس محنت مزدوری کی تلاش کرنے کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔ حکومت کے پاس بھی ان کی کفالت کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہے۔ تاہم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور وفاقی حکومت کی وزارت انسانی حقوق نے باہمی مشاورت سے ملک کے گیارہ کروڑ 20؍ لاکھ بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ایک منصوبے پر کام شروع کیا ہے، منصوبے کا مقصد بچوں کو مختلف قسم کے تشدد اور نامساعد حالات سے بچانے کیلئے ایک قومی تزویراتی پلان مرتب کرنا ہے تاکہ ان کے حقوق کے تحفظ، مالی استحکام، محفوظ ماحول، استعداد کار بڑھانے اور عملی معا ونت کویقینی بنایا جاسکے اس سلسلے میں نئی حکمت عملی تیارکی جارہی ہے جواقوام متحدہ کے زیراہتمام بچوں کے حقوق کی روشنی میں بین الاقوامی ایجنسیوں کی سفارشات پر مبنی ہے۔ یہ ایک کثیرالجہتی پالیسی ہے جو تعلیم، صحت، قانون پر عملدرآمد اور کمیونٹی نظام کے دائرہ کار سے متعلق ہے۔ اس حکمت عملی پر عمل درآمد سے مشترکہ سوچ، طے شدہ اہداف، مکمل نگرانی اور اطلاعات کے تقاضوں کے مطابق فریم ورک کی فراہمی میں مدد کرے گی۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بچے کی ولادت کی رجسٹریشن نہ ہونےسے اس کے حقوق کے حوالے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں جو زیاد ہ تر نقل مکانی سے لے کر گم شدگی جیسے معاملات سے متعلق ہیں۔ کم عمری کی شادی ،بچوں کے اغوا، جبری مشقت اور ایسے ہی کئی دوسرے مسائل بھی خاص طور پر دیہی آبادی میں دیکھے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے اشتراک سے جس منصوبےپر غور کیا جارہا ہے اس میں پاکستانی حکام اور ماہرین کی مشاورت بھی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں بچوں کو کسی نہ کسی حوالے سے اور کسی نہ کسی قسم کے نقصان پہنچانے کے خدشات موجود ہیں۔ جسمانی اور جنسی استحصال، نفسیاتی تشدد اور ظالمانہ بے اعتنائی کی شکایات عام ہیں۔ سڑکوں کے حادثات اور مین ہول میں گرنے جیسے واقعات میں بچوں کی اموات روزمرہ کا معمول بنتی جارہی ہیں۔ ایسے واقعات کی تفتیش اور تحقیقات کے فوری احکامات تو جاری کئے جاتے ہیں مگر اس کا عام طور پر نتیجہ کوئی نہیں نکلتا اور وقت گزرنے کے ساتھ معاملے لاینحل رہ جاتا ہے۔ حکومت خود والدین اور معاشرے کواس حوالے سےمتحرک ہونا پڑے گا ورنہ آنے والے وقتوں میں یہ سلسلہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے کیونکہ بڑھتی آبادی کے ساتھ مسائل میںبھی اضافہ ہورہا ہے۔ بچوں کو پہنچنے والے بعض نقصانات کو بڑے بھی چھپا لیتے ہیں اور اسے بدنامی سے بچنے کے عذر میں دفن کردیتے ہیں۔ اس سے جرائم پیشہ افراد کا حوصلہ بڑھتا ہے ۔ضرورت اس امرکی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معاشرے کے ذمہ دار افراد کی مدد اور مشاورت سے اس برائی کی روک تھام کا طریقہ نکالیں۔ سائبر کرائم ، نجی فون کا غلط استعمال، تصویروں کے ذریعے بدنام کرنا وغیرہ آج کے دور کی نئی اذیتیں ہیں پولیس اور تفتیشی اداروں میں فرسودہ تصور کو ترک کرکے حقیقت پسندانہ اور منصفانہ تحقیق و تفتیش کا انداز اپنایا جائے اور جرائم کے خاتمے کے لئے مو ثر طریقہ رائج کیا جائے۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے ریسرچ ہورہی ہے جس سے پاکستان بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں ادارے رشوت ستانی کے گڑھ بن چکے ہیں انصاف کی تلاش میں لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں جس کا ملنا اب مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن ہوگیا ہے ایسے میں کم عمر بچوں کو بگڑے ہوئے حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنا قوم کے مستقبل سے کھلنے کے مترادف ہے انہیں بچانے کیلئے کوئی بھی حکومتی سرمایہ کاری وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔