• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہوئی ہیں کہ ہزاروں میل دور ہونے والا کوئی واقعہ بھی پاکستان کے عام شہری کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ چند ہفتے قبل مشرق وسطیٰ میں جنگی کشیدگی نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر پہنچا دیا۔ حکومت، ٹرانسپورٹرز، ایل پی جی ڈیلرز اور تاجروں نے فوری طور پر اس اضافے کو بنیاد بنا کر پٹرول، کرایوں، گیس سلنڈروں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ عوام کو بتایا گیا کہ عالمی حالات کے باعث قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہے۔ لیکن اب جبکہ جنگ ختم ہو چکی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو چکی ہیں اور پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی کمی کی جا چکی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر عوام کو حقیقی ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟

پاکستان میں ایک عجیب معاشی روایت جنم لے چکی ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر چند گھنٹوں یا چند دنوں میں پاکستانی بازاروں تک پہنچ جاتا ہے، مگر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ مہینوں تک عوام تک نہیں پہنچتا۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ آزاد منڈی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے لیے عالمی حالات کا حوالہ دیا جاتا ہے، مگر کمی کے وقت مختلف بہانے تراش لیے جاتے ہیں۔سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو دیکھیے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود نہ بین الاضلاعی بسوں کے کرایوں میں کمی آئی، نہ شہری ٹرانسپورٹ سستی ہوئی اور نہ ہی مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں کوئی واضح فرق آیا۔ یہی اضافی کرایے بعد میں سبزی، پھل، آٹا، چینی، دالوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یوں تیل سستا ہونے کے باوجود مہنگائی اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ایل پی جی کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ عالمی قیمتوں میں کمی اور مقامی سطح پر نرخ کم ہونے کے باوجود بہت سے علاقوں میں صارفین سے پرانے ریٹ وصول کیے جا رہے ہیں۔ کہیں مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے، کہیں ٹرانسپورٹ کے اضافی اخراجات کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں ڈیلرز اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عوام کو سرکاری اعلانات کا عملی فائدہ نہیں پہنچتا۔اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ انتظامی نااہلی ہے۔ متعلقہ ادارے قیمتوں کے تعین، نگرانی اور نفاذ میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ محکمے صرف سرکاری اجلاسوں اور بیانات تک محدود نظر آتے ہیں۔ اگر بازاروں میں باقاعدہ نگرانی، جرمانے اور مؤثر کارروائیاں ہوں تو ناجائز منافع خوری میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے ایسا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔تاہم صرف انتظامی نااہلی کو ذمہ دار قرار دینا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کمزور مسابقت، کارٹلائزیشن اور بعض اوقات پالیسی سازی میں تاخیر بھی اہم عوامل ہیں۔ جب چند بڑے تاجر یا سپلائر کسی شعبے پر حاوی ہو جائیں تو وہ قیمتوں کو اپنی مرضی سے برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں آزاد منڈی کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے اور صارف سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے۔ایک اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قیمتوں کے تعین کا نظام زیادہ تر ’اوپر جانے‘کی سمت کام کرتا ہے۔ ایک مرتبہ قیمت بڑھ جائے تو اسے واپس لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ مزدوری، کرایوں، پیکنگ، ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخراجات کے نام پر پرانی قیمتوں کو برقرار رکھا جاتا ہے، حالانکہ ان میں سے کئی اخراجات تیل سستا ہونے سے خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

اس مسئلے کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ تاجر جانتے ہیں کہ اگر صارفین مہنگی چیز خریدنے پر مجبور ہیں تو قیمت کم کرنے کی فوری ضرورت نہیں۔ دوسری طرف صارفین کے پاس متبادل ذرائع محدود ہوتے ہیں، اس لیے وہ مجبوراً مہنگی اشیاء خریدتے رہتے ہیں۔ اس ماحول میں حکومت کی نگرانی اور مارکیٹ ریگولیشن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔حکومت اگر واقعی مہنگائی کم کرنا چاہتی ہے تو صرف پٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں کا ازسرنو تعین کیا جائے، ایل پی جی کی فروخت کی سخت نگرانی ہو، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مختلف شہروں میں قیمتوں کی نگرانی، شکایات کے فوری ازالے اور روزانہ کی بنیاد پر عوام کو معلومات فراہم کی جا سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ مسابقت کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ چند افراد یا گروہ پوری منڈی کو یرغمال نہ بنا سکیں۔ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو فعال بنایا جائے، صارفین کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور ضلعی انتظامیہ کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی نتائج کا پابند بنایا جائے۔آخر میں سوال یہی ہے کہ اگر جنگ کے اثرات عوام تک فوراً پہنچ سکتے ہیں تو امن کے ثمرات کیوں نہیں؟ اگر عالمی منڈی میں اضافہ پاکستانی صارف برداشت کرتا ہے تو عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ بھی اسی صارف کو ملنا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف قیمتوں کے اعلانات تک محدود نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا بھی ہے کہ ریلیف واقعی عوام تک پہنچے۔ جب تک انتظامی کمزوری، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور کمزور نگرانی کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کی خبریں صرف اخبارات کی سرخیاں رہیں گی، جبکہ عام آدمی کی زندگی بدستور مہنگائی کے بوجھ تلے دبی رہے گی۔

تازہ ترین