امریکہ میں فیفا ورلڈ کپ 2026ءجوش و خروش سے جاری ہے اور پاکستان سمیت دنیا کا ہر شخص فٹ بال فیور میں مبتلا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کا میدان جب بھی سجتا ہے، برازیل، ارجنٹائن، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی جیسی روایتی طاقتور ٹیموں کا نام ہمارے ذہن میں آتا ہے مگر گزشتہ چند برسوں میں ایک ایسی ٹیم نے دنیا کو حیران اور یہ ثابت کردیا ہے کہ عزم اور بہترین حکمت عملی کے سامنے بڑی سے بڑی طاقتور ٹیم بھی بے بس ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیم مراکو کی ہے جس نے فٹ بال کی عالمی تاریخ میں اپنی شناخت نئے انداز میں متعارف کرائی ہے۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں مراکو نے اپنی شاندار کارکردگی سے نہ صرف فٹبال کے میدان میں نئی تاریخ رقم کی بلکہ پوری دنیا کو یہ بھی دکھادیا کہ کھیل اور اسلامی اقدار ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ مراکو کی فٹ بال ٹیم نے 1970ءمیں پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کی اور مسلسل محنت اور منصوبہ بندی کے ذریعے خود کو دنیا کی بہترین ٹیموں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ 1986ءمیں مراکو کی ٹیم پہلی بار گروپ مرحلہ عبور کرکے پہلی افریقی اور عرب ٹیم بن گئی۔ یہ کامیابی اُس دور میں ایک انقلاب سے کم نہ تھی کیونکہ اس سے قبل افریقی ٹیموں کو عالمی سطح پر زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا تاہم مراکو کی اصل تاریخی داستان 2022ءکے فیفا ورلڈ کپ قطر میں لکھی گئی۔ اس ٹورنامنٹ میں مراکو نے ثابت کیا کہ فٹ بال صرف وسائل یا بڑے ناموں کا کھیل نہیں بلکہ حکمت عملی، اتحاد اور غیر متزلزل عزم کا امتحان بھی ہے۔ قطر کے فیفا ورلڈ کپ میں مراکو نے یورپ کی دو سابق عالمی چمپئن ٹیموں اسپین اور پرتگال کو شکست دے کر دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کو حیرت زدہ کردیا۔ اس طرح مراکو فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے والا پہلا افریقی اور عرب ملک بن گیا۔ یہ صرف ایک فٹ بال میچ کی جیت نہیں تھی بلکہ پورے براعظم افریقہ اور عرب دنیا کی اجتماعی خوشی اور فخر کا لمحہ تھا۔ حالیہ فیفا ورلڈ کپ 2026 ءمیں بھی مراکو کی ٹیم نے بڑے نامی گرامی ممالک کی طاقتور اور مضبوط ٹیموں کو شکست دے کر اور کوارٹر فائنل میں پہنچ کر دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ یہ کامیابیاں محض اتفاق نہیں تھیں بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی، محنت اور قومی جذبے کا نتیجہ تھیں۔ مراکو کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے میں ہر فیفا ورلڈ کپ کے موقع پر اپنے گھر کے وسیع لان میں قد آور اسکرین پر مراکو کے اہم میچز براہ راست دکھانے کا اہتمام کرتا ہوں جس میں سندھ میں مقیم مراکن فیملیاں بڑے جوش و خروش سے شرکت کرتی ہیں۔ اس بار بھی میں نے مراکو اور کینیڈا کے درمیان کھیلا جانے والا پری کوارٹر فائنل میچ بڑی اسکرین پر براہ راست دکھانے کا اہتمام کیا۔ تقریب میں مراکن فیملیاں، میرے دوستوں اور دیگر شائقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مہمانوں نے مراکو کے قومی پرچم کی مناسبت سے لباس زیب تن کئے ہوئے تھے اور وہ کینیڈا کے خلاف مراکو کی ٹیم کے ہر گول پر جشن منارہے تھے۔ مراکو نے یہ میچ 3-0 سے جیتا جس کے بعد تقریب میں موجود مراکن فیملیوں اور ان کے بچوں نے خوشی میں رقص کیا۔ اس پرمسرت موقع پر میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج کی فتح صرف مراکو کی فتح نہیں بلکہ پاکستان سمیت ہر مسلم ملک کی فتح ہے کہ ایک مسلم ملک فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ تقریب کے اختتام پر کیک کاٹا گیا جس پر مراکو کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کا گروپ فوٹو آویزاں تھا۔ بعد ازاں آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔
ماضی کی طرح حالیہ فیفا ورلڈ کپ میں بھی مراکو کی ٹیم کی اصل فتح صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ مراکو کی ٹیم نے عالمی سطح پر اسلام، اسلامی ثقافت اور مذہبی شناخت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہر میچ جیتنے کے بعد مراکو کی ٹیم کے کھلاڑیوں کا گرائونڈ میں سجدے میں گرکر اللّٰہ کا شکر بجا لانا، اپنی ماؤں کے پاس آکر انہیں گلے لگانا، اُن کے ہاتھ چومنا اور خوشی میں والدین کے ساتھ رقص کرنے جیسے مناظر نے دنیا بھر کے ناظرین کو بے حد متاثر کیا۔ اس موقع پر ایک یورپی کمنٹیٹر یہ کہتے سنا گیا کہ ’’ہم نے مراکو کو فٹ بال کھیلنا سکھایا مگر آج یہ ہمیں فٹ بال میچز میں مات دے رہے ہیں، وقت آگیا ہے کہ ہم ان سے ماں باپ کی عزت و احترام کا سبق سیکھیں۔‘‘ فیفا ورلڈ کپ میں مراکو کی ٹیم نے جہاں ایک طرف اپنے ملک کا وقار بلند کیا، ساتھ ہی اپنی ثقافت، روایات اور اسلامی اقدار کو بھی دنیا کے سامنے مثبت انداز میں پیش کیا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ کامیابی صرف ٹرافی اٹھانے کا نام نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کا مظاہرہ بھی ہے۔ مراکو کی ٹیم نے دنیا کو بتادیا کہ فٹ بال میں صرف نامور ممالک کی تاریخ نہیں بلکہ موجودہ کارکردگی فیصلہ کن ہوتی ہے۔ مراکو کی ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ کے میچوں میں صرف فتوحات حاصل نہیں کیں بلکہ لوگوں کے دل بھی جیتے اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایک قوم اپنی تہذیب، اپنے دین، اپنے والدین اور اپنی روایات سے جڑی رہ کر بھی عالمی سطح پر کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ یہی مراکو کی سب سے بڑی کامیابی اور پوری دنیا خصوصاً مسلم نوجوانوں کیلئے ایک روشن مثال ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں گزشتہ 20 برس سے مراکو کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے اس عظیم ملک کی نمائندگی کررہا ہوں اور میری انہی کاوشوں اور خدمات کے صلے میں مراکو کے بادشاہ نےمجھے مراکو کے اعلیٰ اعزاز ’’وسام علاوی‘‘ سے نوازا ہے جو نہ صرف میرے بلکہ پاکستان کیلئے بھی باعث اعزاز ہے۔ مجھے امید ہے کہ جمعہ کے مبارک دن فرانس کے ساتھ ہونے والے کوارٹر فائنل میچ میں بھی مراکو کی ٹیم کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر یہ ثابت کردے گی کہ فیفا ورلڈ کپ صرف یورپی ممالک کی میراث نہیں۔