میں ایک ایسے صاحب کوجانتاہوںجوخود تو بہت سنجیدہ طبع ہیں لیکن اُن کی وجہ سے اُن کے خاندان والوں کو ایک اعلیٰ درجے کی تفریح میسر ہے۔یہ بھائی صاحب ایک کمال صلاحیت کے مالک ہیں۔ آپ بے شک کھجوروں کی بات ہی کیوں نہ کررہے ہوں یہ اس میں بڑی مہارت سے پیسوں کا ذکر کھینچ لاتے ہیں اور پھر بتانے لگتے ہیں کہ ان کے پاس سب رشتے داروں سے زیادہ دولت ہے۔ایک دفعہ طے پایا کہ کوئی ایسی بات کی جائے کہ موصوف کسی طرح دولت کا ذکر نہ چھیڑ پائیں۔ایک رشتہ دار نے موت کے بعد کی زندگی پر رقعت آمیز گفتگو شروع کر دی۔سب کن انکھیوں سے پیسے والے بھائی صاحب کو دیکھنے لگے۔ بھائی صاحب نے کچھ دیر تو پہلو بدلا، پھر آہ بھرکر بولے ’زندگی کاواقعی کوئی اعتبار نہیں میں اسی لیے چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی اپنی مرسڈیز، لینڈکروزر اور دس کنال کے فارم ہاؤس کو انجوائے کرجاؤں‘۔یہ بھائی صاحب کبھی خاندان کے کسی دوسرے بندے کی کامیابی پر خوش ہوتے نہیں دیکھے گئے۔اِن کی ڈیمانڈ ہے کہ ہر جگہ صرف انہی کی بات ہونی چاہیے، انہی کا گھر، انہی کی فیملی، انہی کے بچے ڈسکس ہوں اور بھرپور تعریفی انداز میں ہوں۔شروع شروع میں تو سب ان کے سامنے سہم جاتے تھے لیکن اب خاندان کے بچے بھی بڑے ہوچکے ہیں اور اِن سے ڈرنے کی بجائے اِنہیں انجوائے کرتے ہیں۔
بھائی صاحب اب بھی اپنی عادتوں سے باز نہیں آتے لیکن اب سارا خاندان قہقہے لگاتے ہوئے اِن کی باتیں سناتاہے۔میں چونکہ ان کو ایک طویل عرصے سے جانتا ہوں لہٰذا میری حسرت ہی رہی کہ کبھی ان کے منہ سے کتاب، افسانہ، فلسفہ، شاعری یاسائنس پرہی کوئی بات سن سکوں۔قبلہ نے جب بھی منہ کھولا اندرسے سِکّوں کی جھنکار ہی سنائی دی۔ایسے لوگ آپ نے بھی دیکھے ہوں گے۔ یہ دوسروں کی قابلیت کا ذکرکرتے وقت ایسا عامیانہ لہجہ اپناتے ہیں کہ لگتا ہے گالی دے رہے ہیں۔اگر آپ سول انجینئر تو عین ممکن ہے ایسے لوگ آپ کا تعارف یوں کروائیں کہ’یہ میرے رشتہ دار ہیں، مکان وغیرہ بناتے ہیں‘۔اب اس ’مکان وغیرہ‘ سے پورا تاثر انجینئر کی بجائے ٹھیکیدار کا ابھرتاہے۔خود قبلہ کا بیٹا دوکان پرشوارما بھی بناتا ہو توبڑے اہتمام سے بتائیں گے’ریحان آج کل شوارمامیکنگ سٹاف کا پریزیڈنٹ ہے‘۔اچھی زندگی اور پرلطف زندگی دو مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔ لوگ اچھی زندگی کیلئے پیسہ کماتے ہیں اور پرلطف زندگی کا بیڑا غرق کر بیٹھتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
کہاجاتاہے کہ نئی نسل میں پڑھنے لکھنے کا شوق اس لیے بھی دم توڑ گیا ہے کیونکہ اب لائبریریاں نہیں رہیں، کتابیں نہیں فروخت ہوتیں۔ حالانکہ صورتحال بالکل الٹ ہے۔ لائبریریاں بے شک نہیں رہیں لیکن لاکھوں کی تعداد میں کتابیں اب انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جہاں تقریباً ہر اچھی اور کلاسک کتاب مفت میں پڑھنے کو مل جاتی ہے۔جولوگ کتابوں کے شوقین ہیں وہ انٹرنیٹ پر بھی کتابیں پڑھنا سیکھ گئے ہیں۔جہاں یہ رجحان نہیں ہے وہاں آپ بے شک ان کے گھر کے دروازے پر لائبریریاں کھول دیں، کتابیں زبردستی ہاتھوں میں تھماجائیں انہوں نے نہیں پڑھنی۔کتابیں پڑھنے والوں کا ڈی این اے ہی الگ ہوتاہے۔ایسے لوگ کبوتربازوں کی طرح دیوانے ہوتے ہیں۔آپ کبھی کسی کبوتر باز کو دیکھیں، اس کے گھر میں اپنے لیے کھانے کو کچھ ہونہ ہو وہ کبوتروں کا دانہ ضرور ارینج کرلیتاہے۔ کتابیں پڑھنے والے بھی بے شک ہزار معاشی مسائل کا شکار ہوں کتاب خریدنے کاجگاڑ کرہی لیتے ہیں۔
ایک دلیل یہ ہے کہ اب چونکہ کہانیاں وڈیو فارمیٹ میں ڈھل چکی ہیں اس لیے نئی نسل متحرک کہانی پسند کرتی ہے۔ یہ ایک اور جھوٹ ہے۔جین زی آرٹ فلموں سے کوسوں دور ہے۔آپ کسی بچے کو بیسیوں آرٹ فلموں کی لسٹ تھمادیں، وہ ایک بھی پوری دیکھ جائے تو بات کیجئے گا۔کتاب، آرٹ، لٹریچر سے محبت نہ وراثتی ہوتی ہے نہ زبردستی پیدا کی جاسکتی ہے۔یہ خودروبیل کی طرح اُگتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے وجود کو ڈھانپ لیتی ہے۔نوٹ کیجئے گا جن گھروں میں کتابیں پڑھنے یا کتابوں کے ذکر کا رواج نہیں وہاں آج بھی تواہم پرستی عروج پر ہوگی،دلیل عنقاہوگی اور تھوڑی سی علمی و عقلی گفتگو پر لوگ جماہیاں لینا شروع کردیں گے البتہ پیزے یا برگر کے ذکر پر سب کے چہروں پر طمانیت سی محسوس ہوگی۔
٭ ٭ ٭
کچھ لوگوں کو اپنے اوپرزبردستی قسمیں چڑھانے کا شوق ہوتاہے۔میرے ایک پرانے کولیگ تھے۔تعلیم ایف اے تھی اور چاہتے تھے کہ کم ازکم بی اے کرلیں۔ایک دن انہوں نے ٹھان لی اور پرائیویٹ داخلہ بھیج دیا۔کتابوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتے تھے لیکن ہروقت پتا کرتے رہتے تھے کہ ڈیٹ شیٹ کب آئے گی۔ انہیں یقین تھا کہ جتنااُن کا علم ہے، جتنی ریاضت ہے اور جتنا تجربہ ہے اس کے سامنے بی اے جیسی گھٹیا ڈگری ایک پل بھی نہیں ٹھہر سکتی۔بالآخر ڈیٹ شیٹ آگئی۔ انہوں نے بڑے اہتمام سے پیپردیے اور امتیازی نمبروں سے فیل ہوگئے۔اپنی ناکامی کی خبر پاتے ہی اُن پر جنون سوار ہوگیا۔دوستوں کے حلقے میں غراکر کہنے لگے کہ اب میں گھر میں بند ہوکر بی اے کی تیاری کروں گا اور اُسی وقت گھر سے نکلوں گا جب بی اے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے نہ صرف خود پر بے شمار قسمیں چڑھا لیں بلکہ پورے یقین سے خود کو ناقابل بیان گالیاں دیتے ہوئے چلائے کہ اگر میں بی اے کیے بغیر گھر سے نکلوں تو مجھے فلاں فلاں کہا جائے۔اس کے بعد صورتحال یہ بنی موصوف نے ایک ملازم رکھا جو صرف یہ دیکھتاتھا کہ گلی خالی ہے کہ نہیں۔ پوری احتیاط سے رات کو کالی چادر اوڑھ کر نکلتے تھے تاکہ کوئی پہچان والا نہ مل جائے۔پیپر ز کی تیاری سے زیادہ ان کی محنت گھر سے چھپ چھپا کرنکلنے میں صرف ہوتی رہی، نتیجتاً پھر فیل ہوگئے۔
اب کی بار انہوں نے شرم کا پردہ اتار پھینکا، دھڑلے سے دوستوں کے سامنے آئے اور پرعزم لہجے میں بولے’میں تیسری دفعہ بھی بی اے میں فیل ہوکر دکھاؤں گا تاکہ اپنی ناکامی کی ہیٹرک مکمل کرسکوں‘۔ تاہم حیرت انگیز طور پر تیسری دفعہ وہ ہائی تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوگئے۔آج کل یوٹیوب پرموٹیویویشنل لیکچردیتے ہیں اور نوجوانوں کو بھرپور اندازمیں بتاتے ہیں کہ ’تم کرسکتے ہو‘۔