بین الاقوامی سیاست میں ریاستوں کے درمیان تعلقات عموماً مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ وقت، حالات اور طاقت کے توازن کیساتھ اتحادی بدلتے رہتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں اور سفارتی زبان بھی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔تاہم بعض تعلقات ایسے بھی ہوتے ہیں جو محض ریاستی مفادات کی پیداوار نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، تہذیبی شعور، عوامی وابستگی اور قیادتوں کے باہمی اعتماد سے جنم لیتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کا تعلق اسی منفرد نوعیت کی سفارتی میراث ہے۔ یہ رشتہ وقتی ضرورتوں سے کہیں بلند، مشترکہ احساسِ ذمہ داری اور ایک دوسرے پر غیرمتزلزل اعتماد کی بنیاد پر استوار ہے۔ استنبول میں صدر رجب طیب ایردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حالیہ ملاقات نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ یہ تعلق جذباتی نعروں کی حد تک محدود نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ایک بالغ، متحرک اور تزویراتی شراکت داری کی صورت اختیار کر رہا ہے۔دنیا اس وقت طاقت کے ایک نئے توازن سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ مسلسل کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، عالمی معیشت غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے، توانائی کے ذرائع نئے جغرافیائی مفادات کو جنم دے رہے ہیں اور بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت بین الاقوامی نظام کو نئی سمت دے رہی ہے۔ ایسے غیرمستحکم ماحول میں پاکستان اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے مزید قریب آنا محض دوطرفہ سفارت کاری نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی اور سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے درحقیقت ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہےکہ پاکستان اور ترکیہ کے سیاسی تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے، مگر ان کی معاشی بنیاد ابھی اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق مستحکم نہیں ہو سکی۔ یہی خلا اب دونوں قیادتیں پُر کرنا چاہتی ہیں۔ کراچی میں ترک سرمایہ کاروں کیلئےخصوصی اقتصادی زون کا منصوبہ، ترجیحی تجارتی معاہدے کی توسیع، صنعتی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کا فروغ اس بات کا اظہارہے کہ دونوں ممالک اپنی دوستی کو اب اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔درحقیقت موجودہ عالمی نظام میں صرف وہی ریاستیں پائیدار اثر و رسوخ قائم رکھ سکتی ہیں جو سیاسی ہم آہنگی کو اقتصادی انضمام میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون جو عالمِ اسلام کیلئےڈھال ثابت ہو رہا ہے۔پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی منصوبے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی اشتراک اس بات کی علامت ہیں کہ دونوں ممالک روایتی خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلق سے آگے بڑھ کر دفاعی خود انحصاری کے مشترکہ سفر پر گامزن ہیں۔ یہ شراکت داری مستقبل میں مسلم دنیا میں دفاعی تعاون کے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر بھی سامنے آسکتی ہے۔صدر ایردوان کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عالمی امن کیلئے اہم قرار دینا اور پاکستان کی امن کوششوں کو سراہنا دراصل اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کا اعتراف ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا طاقت کے استعمال اور عسکری تصادم کے خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے، پاکستان اور ترکیہ کا مذاکرات، سفارتکاری اور سیاسی مفاہمت پر مشترکہ اصرار ایک متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔اسی تناظر میں صدر ایردوان کا یہ انتباہ بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی عمل کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش خطے کے امن کیلئے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ بیان صرف ایک سیاسی ردعمل نہیں بلکہ اس وسیع تر ترک خارجہ پالیسی کا اظہار ہے جو تنازعات کے عسکری حل کے بجائے سفارتی راستوں کو ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف بھی اسی سوچ سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ یہی ہم آہنگی دونوں ممالک کو خطے میں ایسے ذمہ دار شراکت داروں کے طور پر پیش کرتی ہے جو محاذ آرائی کے بجائے استحکام کو اپنی خارجہ حکمتِ عملی کا محور سمجھتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کو"دو دل، ایک روح"قرار دے کر دراصل اس تعلق کی روح کو ایک جملے میں سمو دیا۔ شہباز شریف کی جانب سے صدر ایردوان کی قیادت کو خراجِ تحسین بھی محض رسمی سفارتی آداب کا حصہ نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ترکیہ نے اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے، دفاعی خودکفالت، سائنسی تحقیق اور آزاد خارجہ پالیسی کے ذریعے خود کو ایک بااثر علاقائی طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ پاکستان کیلئے ترکیہ کا تجربہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ قومی خوداعتمادی، صنعتی ترقی اور سفارتی خودمختاری ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی قومی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں۔اسی طرح کشمیر پر ترکیہ کی مسلسل اصولی حمایت اور شمالی قبرص کے معاملے پر پاکستان کے غیرمتزلزل مؤقف نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کو محض سفارتی بیان بازی نہیں بلکہ عملی خارجہ پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اصل امتحان اس وقت ہوگا جب اقتصادی منصوبے بروقت مکمل ہوں، سرمایہ کاری میں حقیقی اضافہ ہو، صنعتی تعاون نئی شکل اختیار کرے، جامعات، تحقیقاتی ادارے اور نجی شعبے مزید قریب آئیں اور عوامی روابط کو نئی وسعت ملے۔ اگر سیاسی عزم کو ادارہ جاتی استحکام اور معاشی نتائج میں ڈھال دیا گیا تو پاکستان اور ترکیہ کی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی کا محرک بنے گی بلکہ مسلم دنیا میں تعاون، خودانحصاری اور مشترکہ ترقی کا ایک قابلِ تقلید نمونہ بھی ثابت ہوگی۔