مُجھ سمیت پاکستان اور بھارت کی ایک سو سترہ شخصیات نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے نام ایک مشترکہ خط ارسال کیا، اس خط کا مدعا نہ کسی کی فتح تھا اور نہ کسی کی شکست؛ اس کا واحد پیغام یہ تھا کہ اس خطے کے قریب دو ارب انسانوں کا مستقبل دائمی کشیدگی میں نہیں، بلکہ پائیدار امن میں پوشیدہ ہے، اور بندوقوں کے دہانے کبھی قوموں کے مقدر نہیں لکھ سکتے۔قوموں کی اصل دانش اس میں نہیں کہ وہ اپنے اختلافات کو طاقت سے دبا دیں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ انہیں حکمت، انصاف اور مکالمے کے ذریعے سلجھانے کا حوصلہ پیدا کریں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی ایک ایسی ہی تاریخی آزمائش سے گزر رہے ہیں، جہاں ہر صاحبِ بصیرت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت کے بجائے مکالمے، تصادم کے بجائے تدبر، اور جنگ کے بجائے امن کی زبان کو فروغ دے۔کیا ایسے خطوط سے بھی تاریخ کا دھارا بدلاجا سکتاہے؟ یہ سوال بجا معلوم ہوتا ہے، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مکالمے کا پہلا جملہ بسا اوقات معاہدوں کی بنیاد بن جاتا ہے۔ سفارتکاری کا حسن یہی ہے کہ وہ اختلاف کو ختم کرنے سے پہلے، گفتگو کا راستہ ہموار کرتی ہے۔بھارت کے وزیر خارجہ پرناب مکھرجی پاکستان تشریف لائے انڈین سفارت خانے نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میںانکی میاں نواز شریف سے ملاقات کا اہتمام کروں ،میں اس ملاقات میں شریک بھی ہوا۔ گفتگو کے آغاز میں پرناب مکھرجی نے پیرس کے ایک ہوٹل میں ہونے والی پہلی ملاقات کی یاد تازہ کی، جہاں دونوں ایک ہی لفٹ میں چند لمحوں کیلئے اکٹھے ہوئے تھے۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ تھا، مگر اسی مختصر یاد نے ماحول میں ایسی نرمی پیدا کر دی کہ پوری نشست خوش گواری کے احساس کے ساتھ آگے بڑھی اور یہی کسی بھی سفارتی عمل کی پہلی کامیابی ہوتی ہے۔ ایک اور ملاقات بھی میری یادداشت کا حصہ ہے۔ جب بھارتی وزیر خارجہ ایس۔ کرشنا پاکستان آئے اور ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، میں اس میں بھی شریک تھا ۔ایس کرشنا نے پاکستان کی ایک شخصیت اور اس سے وابستہ تنظیم کوآغاز میں ہدف تنقید بنالیا ، جو شہباز شریف کو جانتے ہیں وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ قومی مفاد بیان کرنے سے کبھی نہیں چوکتے لہٰذا انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے حالات پوری شدت سے سامنے رکھ دیے ؛ ملاقات میں ایک تناؤ کی کیفیت در آئی ۔میری نگاہ میں امن کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات کو فراموش کر دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کو انصاف اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ وہ امن جو انصاف سے خالی ہو، زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا، اور وہ انصاف جو مکالمے سے محروم ہو، کبھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتا۔ جب بھارتی ذرائع ابلاغ نے دستخط کنندگان کی فہرست دیکھی تو پاکستان کے چھپن ناموں میں سے صرف مجھ سمیت پانچ افراد کو بھارت کا "ورودھی" قرار دیا۔ گویا ان کے نزدیک ہر وہ آواز دشمنی کی آواز ہے جو مستقل تصادم کے بجائے مستقل مکالمے کی بات کرے، میں نے اس خط کے روح رواں انڈیا کے اوپی شاہ سے اس کا تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ ان جیسے لوگوں کے سبب سے ہی بندوقيں تنی ہوئی ہیں ورنہ امن کی افاديت کا کون منکر ہو سکتا ہے ۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ نے نہ اسے قومی مفادکے خلاف قرار دیا اور نہ ریاستی حلقوں کی جانب سے مذاکرات کی ضرورت کا انکار کیا گیا۔ پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ خطے کے پیچیدہ مسائل کا حل مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جانا چاہیے۔ پہلگام کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ ایک غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ حقائق دنیا کے سامنے آ سکیں۔ جس قوم کو اپنے مؤقف کی سچائی پر اعتماد ہو، وہ تحقیق سے خوف زدہ نہیں ہوتی۔ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری ہے اگرچہ اس کی سرکاری حیثیت نہیں ہے لیکن اس سےایسے دروازے بھی کھلےہیں جہاں رسمی بیانات کی جگہ نسبتاً آزادانہ گفتگو ممکن ہوتی ہے۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں اطلاعات کے مطابق جب پاکستانی وفد نےسندھ طاس معاہدے کا معاملہ بیان کیا تو انڈینز نے فضائی حدود کی بندش پر بات کی اور کہا کہ اگر پاکستان فضائی حدود کو کھول دے تو انڈیا کی جانب سے پانی کے حوالے سے بیانات آنا بند ہو سکتے ہیں ۔ یہ گفتگو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب فریقین آمادۂ گفتگو ہوں تو سخت ترین اختلافات بھی بحث کا موضوع بن سکتے ہیں۔اور جب بات چیت رک جائے تو معمولی مسائل بھی ناقابلِ عبور دیوار بن جاتے ہیں۔ قوموں کی اصل عظمت دشمن پیدا کرنے میں نہیں، بلکہ دشمنی ختم کرنے میں ہوتی ہے۔ حقیقت مگریہ ہے کہ امن کے تمام بڑے سفر ایک چھوٹے سے قدم ہی سے شروع ہوتے ہیں، اور وہ قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں جویہ پہلا قدم اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔اس سفر کی ابتدا شاید کسی معاہدے سے نہ ہو، صرف ایک خط سے ہو، خیر سگالی کے صرف ایک جملے سےہو، یا شاید کسی ہوٹل کی لفٹ میں ہونے والی پہلی ملاقات کی ایک دھندلی سی یاد سے۔