بحیرہ عرب میں گزشتہ روز نجی کمپنی کے کارگو طیارے کے حادثے میں جاں بحق ایئرکرافٹ انجینئر محمد عارف صدیقی کے گھر رشتہ داروں اور دوستوں کی آمد جاری ہے۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں محمد عارف صدیقی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ والد کی میری والدہ سے آخری بات چیت کل شام 5 بجے ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ والد نے رات ساڑھے نو بجے تک کراچی پہنچنے کا بتایا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ رات کراچی سے 155 میل مغرب میں اورماڑا کے قریب سمندر پر نجی کمپنی کا کارگو طیارہ ریڈار سے غائب ہوکر لاپتہ ہوگیا تھا۔
لاپتہ کارگو طیارے کا ملبہ آج اورماڑہ کے ساحل سے 53 نوٹیکل میل جنوب سے مل گیا ہے۔ پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے نے سمندر میں 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن میں ملبہ تلاش کیا۔
لاپتہ طیارے نے شام 7 بج کر 12 منٹ پر اڑان بھری تھی، جس نے 9 بج کر 20 منٹ پر کراچی میں لینڈ کرنا تھا۔ طیارہ 34 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔
اطلاعات کے مطابق طیارے میں 5 افراد سوار تھے جن میں ایئرکرافٹ انجینیئر محمد عارف صدیقی کے علاوہ پائلٹ محمد رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود جتوئی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان اور ایئرکرافٹ انجینیئر محمد حامد شامل تھے۔
طیارہ ضروری مرمت کیلئے شارجہ گیا تھا، کارگو طیارہ KTA1732، بوئنگ 400-737، رجسٹریشن AP-BOI، شارجہ سے کراچی آرہا تھا۔