بنکاک(اے ایف پی) خلیج میں امریکہ۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران حملےکا نشانہ بننے والے تھائی کارگو جہاز ’مایوری ناری‘ کے تین سابق عملے کے ارکان نے مبینہ لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر جہاز کے مالکان اور کپتان کے خلاف بینکاک لیبر کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔متاثرہ افرادنےمالکان پر غفلت برتنے کا الزام لگایا ہے، عدالت نے مقدمے کی پہلی سماعت کیلئے28ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔تفصیلات کےمطابق 11مارچ کو خلیج میں جاری کشیدگی کے دوران اس جہاز پر حملے میں تین تھائی شہری ہلاک ہوگئے تھے جبکہ 20کو ریسکیو کیا گیا تھا۔ متاثرہ ارکان (پنیتی تمکیو، نوپاڈون وونگسوون اور سوراڈچ مانپوین) کے وکیل کے مطابق ان کے موکلین کو حملے کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ مقدمے میں اپنائے گئے موقف کےمطابق کمپنی نے جنگی حالات میں جہاز کو آبنائے سے گزارنے کا حکم دے کر غفلت برتی۔معاہدہ ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی انہیں نکال دیا گیا اور معاؤضہ بھی ناکافی دیا گیا۔وکیل کے مطابق تینوں ارکان حملے کے بعد شدید ذہنی صدمے کا شکار ہیں اوروہ کام کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔متاثرہ عملے کا کہنا ہے کہ وہ اب بلند آوازوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور انہیں ایک سال سے زائد کے علاج کی ضرورت ہے۔ عدالت نے مقدمے کی پہلی سماعت 28 ستمبر کے لیے مقرر کر دی ہے۔