• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی ریاستی نظم ونسق میں ادارے محض انتظامی ڈھانچے کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشی نظام کی سمت متعین کرتے ہیں۔ ایف بی آر بھی انہی اداروں میں شامل ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ایف بی آر میں کرپشن کیلئے عدم برداشت اور اصلاحات کے تسلسل پر زور محض ایک انتظامی ہدایت نہیں بلکہ ایک بڑے پالیسی بیانیے کی عکاسی ہے جسکی کامیابی کا انحصار الفاظ سے زیادہ عملی اقدامات پر ہے۔ پاکستان کی مالی مشکلات کا بنیادی سبب صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ اورمؤثر تقسیم کا فقدان بھی ہے۔ ٹیکس وصولی کا نظام اگر محدود ہو اور بداعتمادی کا شکار ہو تو ریاست کے مالی اہداف محض اعداد و شمار کی مشق بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایف بی آر میں گزشتہ ڈھائی سال سے جاری اصلاحات ، ڈیجیٹائزیشن پر توجہ اور ٹیم ورک کی بدولت ایف بی آرریکارڈ ٹیکس اکٹھا کرنے میں کامیاب ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کا اولین ایجنڈا ہے، اس تناظر میں ایف بی آر کی اصلاحات کو کسی ایک مالی سال کی کارکردگی کے پیمانے پر نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے تعلق کی ازسرنو تشکیل کے عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ ڈیجیٹل نظام، کم سے کم انسانی مداخلت اور فیس لیس طریقہ کار بد عنوانی کے امکانات کو کم کرنے میںمددگار تو ثابت ہوتے ہیں مگر ٹیکنا لوجی بذات خود دیانت داری کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ اگر ادارہ جاتی احتساب، شفاف تقرریاں اور کار کردگی کی واضح جانچ موجود نہ ہو تو جدید ترین نظام بھی پرانی خرابیوں کا نیا چہرہ بن سکتا ہے۔ اسلئے کرپٹ عناصر کیلئے عدم برداشت کا اعلان اس وقت مؤثر ہو گا جب اس کیساتھ بلا امتیاز احتساب کا مستقل اور قابل اعتماد نظام بھی موجود ہو۔ ٹیکس دہندگان کیلئے سہولت اور احترام کا اصول بھی اصلاحات کا مرکز ہونا چاہئے۔ پاکستان میں ایک بڑی شکایت یہ رہی ہے کہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنیوالوں کو غیر ضروری پیچیدگیوں اور انتظامی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ٹیکس سے بچنے والے مختلف راستے نکال لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں رضاکارانہ ٹیکس کلچر پروان نہیں چڑھ سکتا۔ ریاست کو یہ تاثر مضبوط کرنا ہو گا کہ قانون کی پابندی کرنیوالے شہری ریونیو کے ذرائع نہیں بلکہ اس کے شراکت دار ہیں۔ اسی طرح ٹیکس نیٹ میں توسیع کا ہدف بھی محض نئے افراد یا شعبوں کو شامل کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ معیشت کے ان حصوں کو دستاویزی دائرے میں لانے کی ضرورت ہے جو برسوں سے رسمی نظام سے باہر کام کر رہے ہیں۔ جب تک ٹیکس کا بوجھ محدود طبقوں پر مرتکز رہے گا، نہ محصولات میں مطلوبہ اضافہ ممکن ہوگا اور نہ ہی معاشی انصاف کا تصور مضبوط ہو سکے گا۔ اس ضمن میں پالیسی کی مستقل مزاجی اور سیاسی عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ افسران کی پیشہ ورانہ ترقی اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ بھی اصلاحاتی عمل کا نا گزیر جزو ہے۔ بہتر کار کردگی کیلئے صرف اہداف کا تعین کافی نہیں بلکہ ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں دیانت دار اور اہل افسران کو آگے بڑھنے کے واضح مواقع میسر ہوں ۔ اگر کار کردگی اور شہرت کو تقرریوں اور ترقیوں کا بنیادی معیار بنایا جائے تو ادارے کے اندر مثبت مسابقت پیدا ہو سکتی ہے۔دوسری جانب یہ امر واقع ہے کہ پاکستان کی جیلیں اس وقت اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مقدمات کا برسوں تک زیر التوا رہنا اور انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر ہے۔ ہزاروں ایسے قیدی موجود ہیں جو ابھی تک سزا یافتہ نہیں اور زیر سماعت مقدمات کے باعث جیلوں میں بند ہیں۔ بعض ملزمان معمولی نوعیت کے جرائم میں برسوں تک جیل میں قید رہتے ہیں، حالانکہ ان کے مقدمات بروقت نمٹا دئیے جائیں تو یا وہ بری ہو جائیں یا انہیں سزا کی مدت سے بھی کم عرصہ جیل میں گزارنا پڑے۔ قیدیوں کو بغیر فیصلے کے طویل عرصے تک جیل میں رکھنا نہ صرف انسانی حقوق کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی بھی نفی کے مترادف ہے۔اندریں حالات فوری،بے لاگ اور شفاف انصاف کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک انصاف میں تاخیر کے کلچر کا خاتمہ نہیں کیا جاتا۔ انصاف میں تاخیر درحقیقت انصاف سے انکار کے مترادف ہے چنانچہ بروقت انصاف کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اعلیٰ اور ماتحت عدلیہ دونوں کو مطلوبہ وسائل، جدید انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل سہولیات، تربیت یافتہ عملہ اور مناسب فنڈز فراہم کرے۔ اسی طرح عدالتوں میں ججوں کی خالی اسامیاں فوری پر کی جائیں تاکہ عدالتوں پر مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ اگر ججوں کی تعداد ناکافی رہے گی تو لاکھ کوششوں کے باوجود مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے ارشادات کے مطابق جیلوں کی حالت بہتر بنانا بے شک آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے چاروں صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ جیلوں کو صرف قید خانہ نہ سمجھیں بلکہ انہیں اصلاحی مراکز بنانے کیلئے عملی اقدامات کریں۔اس ضمن میں جیلوں میں اصلاحات کیلئے صوبائی حکومتوں کی قائم کردہ جیل ریفارم کمیٹیوں اور ہیومن رائٹس کمیشن سمیت انسانی حقوق کے اداروں کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان اداروں کو چاہیے کہ وہ جیلوں کے باقاعدہ دورے کریں، قیدیوں کے مسائل کا جائزہ لیں، اپنی سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کریں اور متعلقہ حکام کو جوابدہ بنائیں۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ریاست کے تمام متعلقہ اداروں نے جیل اصلاحات اور فوجداری نظامِ انصاف کو بہتر بنانے کیلئے مشترکہ قومی کوششوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی کانفرنس کے اسلام آباد ڈکلیئریشن کو ایک قابلِ عمل روڈ میپ بنایا جائے، جسکے اہداف، مدت اور نگرانی کا واضح نظام موجود ہو۔ ایک مہذب، آئینی اور فلاحی ریاست کا یہی مطمح نظر ہونا چاہئے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے ۔

تازہ ترین