کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو ون فائیو پر کال کی جاتی ہے، کہیں ایکسیڈنٹ ہوجائے تو 1122پر مدد مانگی جاتی ہے۔ لیکن پٹرول مہنگا یا ملاوٹ زدہ مل رہا ہو تو اس کی اطلاع کہاں دی جائے؟ دکانوں پرچیزیں مہنگی فروخت ہورہی ہوں، تنورپر روٹی مہنگی ملے، دوائیوں کے ریٹس میں فرق آرہا ہو،کرائے زیادہ وصول کیے جارہے ہوں، لوگوں نے گیٹ لگا کر سیکورٹی کے نام پر گلیاں بند کی ہوں تو کس کو بتایا جائے؟ میرا نہیں خیال کہ جس طرح ون فائیو اور 1122کے نمبرز کی تشہیر ہوتی ہے ایسے نمبرز بھی لوگوں کے علم میں ہوں۔سرکار ی طورپر ایل پی جی کی قیمت کم ہوچکی ہے لیکن سب نے پرانے ریٹس بحال رکھے ہوئے ہیں۔پچھلے دنوں اسی بات پر ایک ہنگامہ بپا دیکھا۔ ایل پی جی فروخت کرنیوالی دکان پر لوگ لڑ رہے تھے کہ قیمت کم ہوگئی ہے لیکن دکاندار کا سادہ سا موقف تھا کہ ’نہیں ہوئی‘۔ کسی کو کچھ پتا نہیں تھا کہ ایسے معاملات کی اطلاع کہاں دی جائے؟پرائس کنٹرول کمیٹی کہاں ہوتی ہے، اس کا نمبر کیا ہے، ایسے کیسز میں اسے بلانے کا کیا طریقہ ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ایمرجنسی نمبروں میں پرائس کنٹرول کمیٹی کے نمبرز بھی مشتہر کرنے چاہئیں تاکہ ایک عام صارف بھی فوری طور پر مدد حاصل کرسکے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ یہ نمبر ز اٹینڈ بھی ہوں ایسا نہ ہو کہ بجلی کے بل والا حساب ہوجائے جسکی پشت پر ایس ڈی او سے لیکر ایکسئین تک سب کے نمبرز دیے ہوتے ہیں لیکن بندہ سرپٹختا رہ جاتاہے فون اٹینڈ نہیں ہوتا۔سب سے بہترطریقہ تو یہ ہے کہ ان تمام مسائل سے نمٹنے کیلئے ایک ہی نمبر ہو اور شکایت کی نوعیت کے مطابق آپریٹر متعلقہ محکمے تک شکایت پہنچائے۔’ستھرا پنجاب‘ کا سسٹم بہت اچھا ہے یہاں آپ شکایت درج کراتے ہیں تو فوری عمل ہوتاہے اور بعد میں یہ پوچھنے کیلئے کال بھی آتی ہے کہ آپ کا مسئلہ حل ہوا یا نہیں۔ فوڈ اتھارٹی کاکمپلینٹ سسٹم بھی بہتر ہے لیکن بات پھروہی ہے کہ لوگ انکے نمبرز نہیں جانتے۔ شہر کے مختلف حصوں میں یہ نمبرز واضح طو رپر لکھنے کی ضرورت ہے خصوصاً مارکیٹس میں۔جس طرح مون سون کے سیزن میں جگہ جگہ شکایت سیل کے خیمے لگائے جاتے ہیں اسی طرح ہر مارکیٹ میں بھی پرائس کنٹرول کمیٹی کا دفتر ہوناچاہیے اور وہ پوری طرح مستعد بھی ہو۔ ایک تو سرکاری مہنگائی اوپر سے پرائیویٹ مہنگائی اسی وجہ سے لوگ بلبلا اٹھتے ہیں۔ مختلف پٹرول پمپس پر ریٹس کا بھی فرق نظر آتاہے۔ ایسا کیوں ہے اور کس نے اسکی اجازت دی یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ ویسے تو آپ چاہیں تو کسی بھی معاملے میں قانونی مدد مانگنےکیلئے انصاف کے دروازے کھٹکھٹا سکتے ہیں لیکن آپکو فوری ریلیف ملے نہ ملے ایک فائدہ ضرور ہوگا کہ پھر نہ صرف ساری زندگی آپ صبرو تحمل سے رہنا سیکھ جائینگے بلکہ یہ حساب کتاب بھی لگاتے رہیں گے کہ وہ والی تکلیف زیادہ تھی یا یہ والی۔جولوگ اِن تجربوں سے گزر چکے ہیں وہ اب شکایت نہیں بددعا کرتے ہیں۔
…
شہزاد احمد مرزا نے 1999ء میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سیکھنے کا سفر اس وقت شروع کیا جب ان کے پاس اپنا کمپیوٹر بھی نہیں تھا۔ وہ انٹرنیٹ کیفے میں بیٹھ کر سیکھتے رہے، جہاں اکثر لوگ صرف چیٹ اور ای میل کیلئے آتے تھے مگر انہوں نے اسی ماحول کو اپنی تربیت گاہ بنا لیا۔ آہستہ آہستہ انہوں نے انٹرنیٹ کیفے سے ہی کام کر کے پیسے کمانا شروع کیے اور پھر آمدنی سے اپنا کمپیوٹر خریدا۔وہ پاکستان کے اُن ابتدائی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے کسی باقاعدہ سافٹ ویئر ڈگری کے بغیر پروگرامنگ شروع کی، اپنی خدمات دیں، بعد میں کمپیوٹر کی تعلیم مکمل کی اور مختلف سافٹ ویئر کمپنیوں میں ملازمت بھی کی۔ انہوں نے 2005، 2007 اور 2010 میں اپنی کمپنی شروع کرنے کی کوشش کی، مگر ہر بار مشکلات کے باعث بند کرنا پڑی۔ آخرکار 2012 میں دوبارہ آغاز کیا اور تب سے ان کی سافٹ ویئر ایجنسی بین الاقوامی کلائنٹس کو ویب، پروگرامنگ، SEO اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔2012 سے انہوں نے کلائنٹس کو باقاعدہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ سروسز دینا شروع کیں اور کئی کاروباروں کو ماہانہ لاکھوں ڈالرز کی سیلز تک پہنچانےمیں مدد دی۔ 2019 میں انکی ایک کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جسکے بعد لوگوں نے ان سے آن لائن کمائی سیکھنے کی درخواست کی۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے یوٹیوب پر GBOB Course کے نام سے ایک مفت کورس شروع کیا۔ اس کے ذریعے پاکستان میں گیسٹ بلاگنگ آؤٹ ریچ بزنس کی ایک پوری نسل تیار ہوئی۔ آج 2026 میں ان کے شاگردوں کے شاگرد بھی یہ کام سیکھا رہے ہیں، اور یہ سلسلہ ساتویں سیڑھی تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 97 فیصد طلبہ مفت کورسز سے سیکھتے ہیں اور صرف 3فیصداُن کے ادارے میں آ کر تربیت لیتے ہیں۔شہزاداحمدگوناگوں صلاحیتوں کے مالک ہیں، میوزک سے بے حد دلچسپی ہے، خود بھی کئی انسٹرومنٹس بہت اچھے بجا لیتے ہیں۔ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اِن کی عاجزی اور انکساری ہے۔محبت اور بے لوث جذبہ تو صحرا میں بھی پھول کھلا دیتاہے۔شہزادصاحب نے ایک واقعہ سنایا جوآپ بھی سن لیجئے۔بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً پچیس سال پہلے میرے معاشی حالات بہت ہی خراب تھے۔پھرمجھے کسی نے کہا کہ صدقہ دیا کرو۔ یہ سن کر میں نے سوچا کہ میں تو خود اس پوزیشن میں پہنچا ہوامیں صدقہ کہاں سے دوں۔ساری رات سوچتا رہا،پھر صبح ایک دوست سے دوہزار روپے ادھار لیے اور اپنی ضرورت پوری کرنے کی بجائے سارے پیسے مختلف ضرورت مندوں میں بانٹ دیے۔چندروز تنگی میں گزرے، پھر ایسا لگا کہ کوئی معجزہ رونما ہوگیا ہے۔ مٹی کوہاتھ لگاتا تھا تووہ سونا بننے لگتی تھی۔ مجھے نہیں پتا کہ کہاں کہاں سے خدا نے میری مدد کی اورحالات حیرت انگیز طور پر بدل گئے۔