ایران ایک خوب صورت ملک ہے۔ یہ خوب صورتی اس کے عوام سے لیکر اس کے تمدن اور فکروفرہنگ تک پھیلی ہوئی ہے ۔غم و غصہ ہویاتفریح ومسرت ، جنگ ہویاامن، شائستگی اور تہذیب ہر صورت میں جلوہ نمارہتی ہے ۔حالیہ زمانے میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدئہ اسلام آباد میں ایرانی وفدنے جس اندازسے اپناکیس لڑا اس کی کامیابی کو سب نے محسوس کیا۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکرجناب قالیباف جب اسلام آباد گئے تو انھوں نے اپنے جہازکی سیٹوں پر میناب اسکول کی بچیوں کے بستے اور تصاویررکھ کر انھیں اپنا ہم سفر بنایااور یوںخوبصورتی سے دنیاکوپیغام دیاکہ ہم اپنے شہیدوں کو بھولنے والے نہیں، اسی طرح مذاکرات کے لیے جنیواجانے والی پروازکانام اور نمبر میناب اسکول اوراس میں شہیدہونے والی بچیوںکی تعدادکوبنایاگیا۔عام طورسے جب ایسے مذاکرات ہواکرتے ہیں توتصاویرمیںفریقین کوہاتھ ملاتے اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے دکھایاجاتاہے لیکن ایران امریکا جنگ کے مذاکراتی عمل کے دوران فریق مخالف کے ساتھ ایرانی وفدکی ایسی کوئی تصویر سامنے نہیں آئی اور ایک ایسا معاہدہ دنیاکے سامنے آیا جسے ایران کی بڑی سفارتی کامیابی قراردیاگیا۔
شہید رہبر آیت اللّٰہ سیدعلی خامنہ ای کے جنازے کے شرکا میں متانت وتہذیب کاغلبہ تھا ۔شائستگی کے ساتھ غم واندوہ کی کیفیت کے اظہار میں ایران کی بھی قیدنہیں رہی، جنازہ جب عراق کے شہرنجف اشرف اور کربلاپہنچاتو اپنے ملک سے باہر ایک دوسری سلطنت میں بھی شہیدرہبرکی مقبولیت کے مظاہردیدنی تھے، وہاں بھی لوگوں کے جم غفیرنے آہوں اور سسکیوں میں شہیدرہبرکااستقبال کیا۔مشہدپہنچ کر تو تعداداور کیفیات حدوحساب سے فزوں ترہوتی چلی گئیں۔ تہران میں جنازے کے جلوس میں جہاں بہت سے بینر آویزاں تھے وہاں ایک سفیدبینرکی عبارت استفہامیہ اندازمیں شہید رہبرکے خون پر سوال اٹھارہی تھی لیکن یوں کہ اس کا جواب دوسروں کے ذمے تھالیکن جیسے جیسے جنازے کا جلوس آگے بڑھتاگیا اور تہران سے قم ،قم سے نجف اشرف اور نجف اشرف سے کربلا اور پھرمشہدکی منازل طے ہوئیں ،یہ سوال سوال نہ رہا اور اسکا جواب جنازے کے شرکاکے لبوں پر اتر کر نعروں کی شکل اختیارکرگیا ۔یہ نعرے رفتہ رفتہ تحریری شکل بھی اختیارکرنے لگے یہاں تک کہ مشہد میں جنازے کے جلوس کو انتقامی نعرے کے اتنے بڑے بینرنے ڈھانپ لیا جس کی پیمائش فٹوں یا گزوں میں نہیں مرلوں میں کی جاسکتی تھی ۔یہ جذبہ بڑھتااور پھیلتارہا ۔مشہدمیں رہبرکی تدفین کے موقع پر ایک ٹی وی اینکر نے ایک ڈبیہ کو حاضرین کے سامنے لیجاکران سے کہاکہ دیکھیں اس میں کیا ہے؟ ڈبیہ کو کھولنے پر اس میں سے خاک ِایران برآمدہوئی تو حاضرین بے طرح رونے لگے کہ اسی خاک ِایران کی حفاظت کرتے ہوئے شہید رہبر سیدعلی خامنہ ای صاحب نے جام شہادت نوش کیا۔ گویالوگوں کے آنسو زبان حال سے یہ قول اقبال اداکررہے تھے کہ’’ خاک وطن کا مجھ کو ہرذرہ دیوتاہے‘‘۔
یہ جذبہ بڑھتا رہااور ایرانی شعرا نے اس پر نظمیں اور اخبارات نے اداریے لکھنے شروع کردیے ۔ایک ایرانی شاعر محمدرسولی نے اپنی ایک نظم میں کہا
تو رفتہ ای و من از زندہ ماندنم خجلم
کجا گزاشتہ ای رفتہ ای عزیز دلم
توچلاگیاہے اور میں زندہ رہ گیاہوں، میں اس بات پر شرمندہ ہوں۔ اے میرے محبوب قائد تو ہمیں کہاں چھوڑ گیاہے ۔
پس از تو خشم شدیم وخروش و بی تابی
سلام برتو وبر کود کانِ مینابی
اے ہمارے رہبر !تیرے جانے کے بعد ہم غصے، جوش و خروش اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلاہوگئے ہیں،تجھ پر اور میناب اسکول کے بچوں پر سلام پہنچے۔یہ سوال عام طورسے پوچھاجارہاہے کہ آخریہ کیسے ممکن ہواکہ تیسری دنیاکا ایک ملک جو گزشتہ نصف صدی سے شدید معاشی پابندیوں کا بھی شکار ہے ،اپنے عہدکی ایک سپر پاورکے سامنے ڈٹ کر کھڑاہونے میں کامیاب ہوگیااور اس کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی،بلاشبہ یہ معاصر تاریخ کاایک اہم سوال ہے ۔ آج کے ایرانی شاعر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ
خدا بزرگ تر از ناؤ ہای کوچکِ اوست
خدا بزرگ ترازہای وہوی موشک اوست
خداان کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے بڑاہے، خدان کے میزائلوں کے شور و غوغا،ان کے پیداکردہ ہنگامے سے بڑاہے ۔روزنامہ کیہان میں شائع ہونے والا یہ منظومہ پڑھ کر ہمیں جنازے کے جلوس میں لہراتے وہ بینر یاد آئے جن پر لکھا ہوا تھا’’خدای ِخامنہ ای زندہ است‘‘ خامنہ ای کا خدازندہ ہے۔
یہاں تک تو صورت حالات کاایک پہلو تھا دوسرااور زیادہ قابل توجہ پہلو وہ ہے جسے امریکی صدرکے حالیہ بیان کے بعد،ایک ایرانی اخبار نے ان الفاظ میں بیان کیا کہ ’’تفاہم نامہ بپایان رسیدہ۔ادامہ مذاکرات توجیہی ندارد‘‘ معاہدہ اسلام آبادختم ہوچکا ،اب مذاکرات جاری رکھنے کا کوئی جوازنہیں‘‘یہ خیال بھی دراصل انتقام ہی کے جذبے کاایک روپ ہے، جسے اسی روزکے اخبار میں شاعر نے یوں زبان دی ہے
نمی کنیم دراین انتقام کوتاہی
کہ زندہ ایم فقط از برای خونخواہی
ہم انتقام لینے میں کسی کوتاہی کو راہ نہیں دیں گے کیونکہ ہم فقط اپنے شہیدوں کے خون کاانتقام لینے کیلئےزندہ ہیں ۔
اس میں شبہ نہیں کہ حالیہ جنگ میں ایران نے بے مثال مقاومت کا ثبوت دیا ہے لیکن ہر جنگ کی طرح اس جنگ کی تباہ کاریوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ایرانی عوام مدتوں سے اپنی شناخت کی قیمت اداکرتے چلے آرہے ہیں،حالیہ جنگ کے بعد اس قیمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے، جنیوا میں ہونیوالے اسلام آبادمعاہدے کے بعد عالمی طاقتوں کی جانب سے غصب کیے گئے ایرانی عوام کے حقوق کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، انتقام کی اونچی ہوتی لے میں اندیشہ ہے کہ ’’الصلح خیر‘‘(النسا ۔۱۲۸)کا پیغام کہیں دب کرنہ رہ جائے۔