• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذرا دیکھیے ان سطروں میں کیسے دل پذیر اور پرسکون کوئٹہ کی جھلک ہے’’جس روزمیں کوئٹہ سے چلا رات بارش ہو چکی تھی کوئٹہ کے پہاڑوں پر برف گر چکی تھی میں اسٹیشن پہنچا تو رات بارش کی جھڑی سے سب کچھ دھل دھلا کر صاف ستھرا لگ رہا تھا اسٹیشن کی جانی پہچانی عمارت سامنے تھی یہاں ان ایک سو چون ریلوے ملازمین کے نام درج تھے جو 31 مئی 1935 کے زلزلے میں مر گئے ان کے ناموں سے اندازہ ہوتا تھا کہ ان میں ہندو مسلمان انگریز سب شامل تھےایک ایک نام اس پر کندہ تھا یہ بتانے کے لیے کہ انسان کبھی کتنا گراں قیمت ہوا کرتا تھا ‘‘یہ اقتباس ممتاز براڈ کاسٹر رضا علی عابدی کی کتاب ریل کہانی سے لیا گیا۔نثر کی دل پذیری سے ہٹ کر جو بات حیران کرتی ہے وہ محفوظ اور پرسکون بلوچستان کی جھلک ہے۔ کوئٹہ ایکسپریس کوئٹہ کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی سندھ تک جا پہنچتی ہے اس سفر کے دوران مسافر جس سکون اور تحفظ کے احساس کے ساتھ سفر کرتے ہیں وہ آج مجھ جیسے قاری کو حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔ جنہوں نے جعفر ایکسپریس کو دہشت گردوں کی ایک پوری بریگیڈ کے ہاتھوں یرغمال بنانے اور ٹرینوں پر دہشت گردی کے حملوں کی خبریں سن رکھی ہوں۔ سنگلاخ چٹانوں حسین منظروں سیبوں ،آڑوؤں اور خوبانیوں کے باغوں سے مہکتا ہوا بلوچستان اب بہت عرصے سےدہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ بلوچستان سے آنے والی حالیہ خبروں نے دل دہلا کر رکھ دیا۔جولائی کے پہلے ہفتے میںپے درپے دہشت گردوں کے حملے فوجی کاروان اور چوکیوں پر حملے پولیس اہل کاروں کو یرغمال بنا کر موت کے گھاٹ اتارنا یہ ریاست اور ایک محفوظ بلوچستان کے حوالے سے سلگتے ہوئے سوال اٹھاتا ہے ۔ بلوچستان سے آنیوالی تمام خبریں کسی نہ کسی فلٹر کے راستے سے گزر کر قومی میڈیا تک پہنچتی ہیں بہت سی خبریں ایسی ہیں جنہیں قومی میڈیا پر آنے سے روک دیا جاتا ہے۔ کچھ سال پیشتر ہماری عزیز مسلم باغ کی پرنسپل تھی وہیں پہ قیام تھا کیونکہ یہ خاندان بلوچستان میں غیر بلوچوں خصوصاً پنجابیوں کیلئےمسلسل بڑھتی ہوئی بے امنی اور دہشت گردی سے خوفزدہ ہو کر پنجاب ہجرت کر آیا تھا۔ہماری عزیزہ کالج پروفیسر تھیںکچھ عرصہ انہوں نے لاہور کے کالج میں ڈیپوٹیشن پر کام کیا پھر انہیں واپس بلوچستان جانا پڑا اس عرصے میں ان کا تبادلہ مسلم باغ کالج میں بطور پرنسپل ہوا ۔ پرنسپل ہاؤس کالج کے وسیع احاطے کے اندر تھا جہاں خواتین لیکچراروں اور طالبات کے لیے ہاسٹل بھی تھا ۔ ایک دن رات کی تاریکی میں دہشت گرد مسلم باغ کے کالج کی چھت پر چڑھ آئے اوراسے گھیرے میں لے لیا نہ جانے ان کا مقصد کیا تھا ۔محافظین ان کے مقابلے میں کم تھے اس وقت وہاں قیامت کا سا عالم تھا کیونکہ کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا ہوگا نہ جانے یہ دہشت گرد کس مقصد کیلئے آئے تھے یا صرف ایک خوف پیدا کرنا تھا بہرحال صبح تک وہ وہاں رہے انہوں نے اسے گھیرے میں لیے رکھا کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا لیکن جاتے ہوئے وہاں کے مکینوں سے ایک محفوظ مسلم باغ اور محفوظ بلوچستان کا احساس لے گئے اس احساس کی عدم موجودگی وہاں رہنے والوں کیلئے مسلسل تازیانے سے کم نہیں۔اتنے بڑے سیکورٹی شگاف کی خبر کسی مین اسٹریم میڈیا کے بلیٹن کا حصہ نہ بن سکی،ہم تک ہماری عزیزہ کے ذریعے پہنچی ۔ آج بلوچستان ایک ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں غیر بلوچوں کا جانا خود قتل گاہ میں جانے کے مترادف ہے۔ کراچی کے تاجر کا اپنی دو بیٹیوں اور بیوی کے ساتھ جانا اور وہاں پر قتل ہو جانا صرف اس لیے کہ وہ غیر بلوچ تھا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے ذاتی طور پرہم بہت سے ایسے پنجابی خاندانوں کو جانتے ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے ہی ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں عدم تحفظ کی بنا پر ہجرت کی اپنے بنے بنائے کاروبار اور نوکریاں چھوڑ دیں۔ بلوچستان کے مسئلے کو کئی جہتوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے بلوچستان کی اہم ترین جغرافیائی پوزیشن، سی پیک کا منصوبہ ، چین پاکستان اقتصادی راہ داری یہ وہ منظر نامہ ہے جس سے دشمن کو تکلیف ہے۔ بھارت اس چیز کو تباہ کرنا چاہتا ہے ،بلوچستان کے مقامی نوجوان بھارتی انٹیلی جنس اداروں کیلئے خام مال ہیں وہ ان کی محرومیوں کو فنڈ کرتے ہیں یہ بھٹکے ہوئے نوجوان دشمن کیلئے سہولت کاری کرتے ہیں۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم روزگار ہنر سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ وہ خام مال ہے جو دشمن اپنی دہشت گردی کیلئےاستعمال کرتا ہے اسی طرح علیحدگی پسندوں کی تحریکیں بلوچستان میں ہمیشہ سے رہی ہیں۔بی ایل اے کو بھارتی سپورٹ حاصل ہے افغانستان بھارت کیساتھ ملکر پاکستان کو غیر محفوظ کرنے پر کمر بستہ ہے فتنہ الخوارج ، فتنہ الہندوستان وہ فتنے ہیں جن کے ماسٹر مائنڈ بھارت اور افغانستان میں موجود ہیں۔سازشوں اور فتنوں کی ایک پوری بساط بچھائی گئی ہے ۔ریاست پاکستان قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک طرف دہشت گردی، فتنوں اور سازشوںکو شکست دینی ہے تو دوسری طرف سماجی سطح پر بلوچستان کے نوجوانوں کے ذہنوں میں سلگتے سوالوں ،خدشوں، شکایتوں اور ان کی زندگی کی محرومیوں کے ازالےکیلئے پر خلوص عملی کوششیں کرنی ہیں۔

آخر میں اس دہشت گردی کی آگ میں اپنی جان ہارنے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرنا ضروری ہے کہ ایک شخص کے چلے جانے سے اس خاندان کی بنیاد ہل جاتی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوچکا ۔یادرہے یہ جنگ صرف دشمنوں کے ساتھ نہیں خود ہماری اپنی کوتاہیوں کے ساتھ بھی ہے ان کوتاہیوں کا ازالہ کرنا بہت ضروری ہے ۔پھر ہمیں کوئٹہ کے اسٹیشن پر ویسی ہی محفوظ اور رومان پرور فضا نظر آئے گی جیسی رضا علی عابدی ریل کہانی کے پہلے باب میں بیان کرتے ہیں۔جانے محفوظ اور پرامن بلوچستان کا یہ خواب کب پورا ہوگا؟

تازہ ترین