مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس میں امن کیلئے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا احاطہ سنہرے حروف میں کیا جائیگا۔ جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے، تہران کا معاشی ڈھانچہ مفلوج تھا اور قیادت کی شہادت کے بعد بقا کا بحران تھا، اس نازک موڑ پر پاکستان نے امتِ مسلمہ کے ایک سچے، غیرت مند اور مخلص بھائی کا حق ادا کر کے دنیا بھر میں اپنا وقار بلند کیا۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک سیاسی سفارت کاری اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے مثال عسکری حکمتِ عملی و تدبر کا نتیجہ تھا، جنہوں نے دن رات ایک کر کے ایران کی بچی کھچی قیادت اور مقتدرہ کو مزید کسی ہولناک مادی و عسکری تباہی سے بچایا۔ پاکستان نے اپنے اسٹرٹیجک مفادات اور وقار کو داؤ پر لگا کر دونوں فریقین کے مابین ایک تاریخی، منصفانہ اور باوقار مصلحتی معاہدہ طے کرایا، جسے دنیا آج "اسلام آباد ایگریمنٹ "کے نام سے جانتی ہے۔ اس مخلصانہ پاکستانی کوشش نے نہ صرف ایران کو مکمل بربادی سے روکا بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک جوہری یا روایتی تصادم کے دہانے سے واپس موڑا۔
لیکن افسوس کہ آج اُمید کے وہ چراغ مدہم پڑتے دکھائی دے رہے ہیں او ر اسلام آباد معاہدہ اب آہستہ آہستہ بے اثر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس تاریخی سمجھوتے کے باوجود جنگ کی چنگاریاں دوبارہ بھڑک اٹھی ہیں۔ تازہ ترین بحران یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے پانیوں میں عسکری کشیدگی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں ایران کی جانب سے تجارتی اور تیل کے ٹینکروں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان حملوں کی زد میں خود برادر اسلامی ممالک کے بحری جہاز آ رہے ہیں، جس سے مسلم دنیا کی معیشت گہرے اضطراب کا شکار ہے۔ ان واقعات کے ردعمل میں امریکہ نے ایک بار پھر ایران کے اندر براہِ راست عسکری کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان بیرونی حملوں کے جواب میں تہران نے اپنی حکمتِ عملی کا رخ اپنے ہی پڑوسی مسلم ممالک کی طرف موڑ دیا ہے۔ جب اپنے ہی ہمسایہ ممالک آپ کے فیصلوں سے غیر محفوظ ہو جائیں، تو پھر خطے کا امن ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
ایران ایک ایسا ملک ہے جسے قدرت نے تیل کی دولت اور شاندار تمدن سے نوازا ہے۔ اس نے بلاشبہ اپنی عسکری طاقت کا لوہا بھی منوایا ہے، لیکن اس کی قیمت بہت بھاری رہی ہے۔ لگ بھگ 277 ارب ڈالر کا بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور آیت اللّٰہ خامنہ ای جیسی تاریخ ساز قیادت اب منظر نامے پر موجود نہیں۔ ایسے کٹھن حالات میں اسلام آباد معاہدےسے انحراف کرنا اور خطے میں اثر و رسوخ کیلئے غیر ریاستی عناصر پر انحصار کی پرانی روش برقرار رکھنا، خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ایک عرصے سے ایران کے ہمسایہ مسلم ممالک کو تہران کی خارجہ پالیسی اور پراکسیزسے شدید گلے شکوے رہے ہیں۔ فلسطین میں حماس، لبنان میں حزب اللّٰہ (جس نے عملاً پوری لبنانی ریاست کو زیرِ اثر لے لیا)، عراق میں سرگرم عسکری گروہ، یمن میں حوثی تحریک، اور شام کے بحران میں مسلح گروہوں کی پشت پناہی ان سب نے خطے کے اسلامی ممالک کو تشویش اور عدم تحفظ کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہاں یہ تلخ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ خود پاکستان بھی حالیہ دنوں میں اسرائیل کی شہ پر بھارت اور افغانستان کی پشت پناہی سے چلنے والی بدترین پراکسی دہشت گردی کا شکار ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے اندر معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملے کیے جا رہے ہیں۔ پراکسیز کا یہ نیٹ ورک ایک کینسر ہے، اور امنِ عالم کے لیے نہ صرف ایران بلکہ بھارت اور افغانستان کو بھی اپنی ان تخریب کار پراکسیز کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا تاکہ خطے کے مظلوم عوام چین اور امن سے رہ سکیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تہران ان ماورائے سرحد مہم جوئیوں کا باب بند کر کے اپنی حدود میں واپس آئے اور اپنے تیل کی دولت کو بیرونی معرکوں کے بجائے اپنے معاشی طور پر پسے ہوئے عوام کی فلاح پر خرچ کرے۔
اس تمام بحران کی ابتداپر اگر نگاہ ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لبنان اور غزہ سے اٹھنے والے عسکری اقدامات اور اسرائیل پر اچانک حملے نے غاصب صہیونی طاقت کو مسلم کشی کا ہولناک بہانہ فراہم کر دیا۔ اس کے بدلے میں جو قیامت ٹوٹی، اس نے غزہ کو قبرستان بنا دیا۔ اب تک 65 ہزار سے زائد معصوم فلسطینی مسلمان جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور پورا انفراسٹرکچر مٹ چکا ہے۔ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اگر غزہ سے صرف ملبے کو ہٹانے کا کام روایتی رفتار سے کیا جائے تو کم از کم 50 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ پہلے یہ آگ دوسروں کے گھروں میں تھی، لیکن اب یہ چنگاری خود ایران کے اپنے آنگن تک پہنچ چکی ہے، جہاں حالیہ حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور پوری مرکزی قیادت رخصت ہو چکی ہے۔
اس بھیانک منظر نامے میں اب مزید مہم جوئی کی گنجائش نہیں۔ ایران کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اسلام آباد معاہدےکی پاسداری کرے اور تمام سفارتی مسائل کا پرامن حل نکالے۔ پاکستان نے اپنا برادرانہ فرض پوری دیانت داری سے ادا کر دیا ہے، اب فیصلہ تہران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ پراکسیز کی سیاست کو الوداع کہہ کر اپنے ملک، اپنے تیل اور اپنے عوام کے مستقبل کو بچاتا ہے، یا پھر کسی نئے طوفان کا راستہ صاف کرتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ اب جنگوں کے بجائے اپنے عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔