• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلوچستان کی شورش ختم نہ ہونے کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا اور اس کے معدنی وسائل ہیں۔جب بھی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی بیانیے کو شکست ہو رہی ہویا تحریکِ آزادی ٔؤکشمیر زور پکڑے تو" را "بلوچستان میں علیحدگی پسندوں اور شر پسندوں سے کارروائیاں کروا کر توازن پیدا کرنا چاہتی ہے۔  مئی 2025 کی جنگ میں ہندوستان کی پاکستانی افواج کے ہاتھوں شکست کوئی معمولی بات نہ تھی۔ پاکستان سے پانچ گنا بڑی طاقت، افواج کا تناسب بھی تین گنا بڑا، دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کے دعویدار، ہندتوا کلٹ کے پیروکاروں کا، اپنی صلاحیت اور قابلیت پر جھوٹے خداؤں کی آشیر باد سے کامل یقین، سب  دھڑن تختہ ہو گیا۔ ایک چھوٹا سا، قرضے تلے دبا، لسانی، گروہی اور فرقہ واریت کی عفریت کے پنجے میں جکڑا، غربت کی لکیر سے نیچے رہتی بیشتر آبادی والا ملک، کیسے یہ سب کچھ کر گزرا؟ ہندوستان میں پاکستان مخالفت ہی وہ واحد انتخابی ایجنڈا ہوتا ہے جس کا سب سیاسی پارٹیاں ڈھول پیٹتی ہیں جبکہ گودی میڈیا اور سوشل میڈیا تو جیسے پاکستان کے نام کی مالا جپتے ہیں۔ حقیقتاً سارے ہندوستان کے حواس پر پاکستان کا تسلط 1947 سےہی ہے ۔ وہ  جانتے ہیں کہ پاکستانی افواج بہادر، جری اور نڈر ہیں! ان کی مائیں دلیر اور صابر ہیں! دو بدو لڑائی ہو یا جنگ کے میدان میں بہادری جوہر دکھانے ہوں پاکستانی بے جگری سے لڑتے ہیں جبکہ بنیا بزدل صرف پیچھے سے ہی وار کر سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے، کبھی فالس فلیگ آپریشن کر کے، تو کبھی پاکستان میں شر پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی آبیاری سے ہندوستان کی سازشیں جاری ہیں۔ جون 2025 میں ایران اسرائیل جنگ میں بیشتر ایرانی قیادت مروانے کیلئے مخبری یا  ایران کے اندر خفیہ اسرائیلی ڈرون فیکٹری بنا نے میں ، حتیٰ کہ حماس کے لیڈر اسماعیل ہانیہ کی ایران میں شہادت کے پیچھے بھی ہندوستانی ہاتھ تھا۔ قطری نیوی کی جاسوسی ہو یا فلسطینی رہنماؤں کی امن کانفرنس میں موجودگی کی مخبری ، ان پیچھے ہندوستانی جاسوسوں تک ڈانڈے ملتے ہیں۔ایران پر حالیہ حملوں سے قبل ہندوستان نے اس کی چاہ بہار بندرگاہ کا 10 سالہ ٹھیکہ وقت سے پہلے ختم کر کے ہرجانہ ادا کیا اور "موذی" نے اسرائیل جا کر وعدہ لیا کہ چاہ بہار کو نقصان نہ پہنچانا کہ یہ  مال غنیمت میں ہمیں ملنا چائیے۔ چاپلوسی کی انتہامیں اسرائیل کو اپنا باپ تک کہہ ڈالا۔ امریکہ سے یاری رکھی لیکن روس  سے بھی مفادات اٹھاتے رہے، ایرانی نیوی کے ساتھ امن مشقیں کیں اور بحری جہاز روانہ ہوتے ہی اس کی مخبری کر کے 87 نہتے ایرانی سیلرز مروا دیے۔بعینی ایرانی سرحد پر باغی بلوچوں کی تربیت کر کے ان سے پاکستان پر حملہ کرایا۔ نتیجتاً پاکستان نے ایرانی سرحد پر جوابی حملہ کر کے نو بلوچ دہشت گرد جہنم واصل کئے۔ کمال سمجھداری سے جانبین نے دونوں ممالک کو آپس میں لڑوانے کی اس ہندوستانی سازش کا توڑ کیا۔

ہندوستان بلوچستان میں ہر طریقے سے نفرت کی آگ بھڑکانے کا کام کر رہا ہے۔ پاکستان دشمن میڈیا انفولنسرز سائنسی طریقوں سے ایسے  الفاظ استعمال کرتے ہیں جس سے بلوچ عوام میں بے بسی، بےچارگی، اپنی حکومت اور دوسرے صوبوں کے حوالے سے نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں۔ جذبۂ حب الوطنی اور پاکستانیت کو قصۂ پارینہ قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی محرومی اور پسماندگی کا ملبہ پاک فوج اور پنجاب پر ڈالا جاتا ہے حالانکہ ماضی میں بھی بلوچستان کبھی ترقی یافتہ نہیں تھا۔ برطانوی راج میں بلوچستان کو ہندوستان اور افغانستان کے درمیان بطور "بفر" رکھا گیا تھا جو 1955 تک جاری رہا۔ معدنی ذخائر، گیس اور تیل نکلنے پر رائلٹی قبائلی سردار لیتے رہے کیونکہ مقامی لوگ ان کے تابع تھے۔ سردار مقامی لوگوں کی فلاح و بہبود ، خواندگی اور صحت جیسی سہولیات پر خرچ کرنے کے بجائے یہ رائلٹی خود کھا جاتے اور لوگوں کی محرومیوں کے لئے وفاق اور پنجاب کو ذمہ دار ٹھہراتے۔ ان مقامی لوگوں کو جان بوجھ کر پسماندگی کا شکار رکھا جاتا تاکہ وہ سرداروں سے اپنے حقوق کے حوالے سےسوال نہ کر سکیں۔ بلوچستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ اس کے نواب، جاگیردار اور سرداری نظام ہے جسکا ختم کیا جانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ہر بار ایک نیا قبیلہ حالات بہترکرنےکی امید دلا کر برسرِ اقتدار آتا پھر وفاق کو بلیک میل کرتا اور فائدے اٹھاتا ہے۔ جبکہ مخالف قبائل ہندوستان اورگودار سے خائف ایک خلیجی ملک بلوچستان کی شورش کو ہوا دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس پر امریکہ کو بھی خطے میں چین کی موجودگی ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ شرپسند اورعلیحدگی پسند مالی تعاون ، عسکری تربیت اور سوشل میڈیا پراپیگنڈے سے بلوچستان میں بد امنی ، عوام میں بے چینی، بے یقینی ،وفاق اور حکومت پر عدم اطمینان پھیلاتے ہیں۔ امریکہ کی بلوچستان میں غیر معمولی دلچسپی دراصل بلوچستان کو آزادی دلوا کر اس کے معدنی وسائل پر قابض ہونے میں ہے کیونکہ چین کے علاوہ صرف امریکہ ہی وہ واحد ملک ہے جو بلوچستان کے معدنی وسائل دریافت کر کے،انہیں نکال کر، پراسیس کر کے استعمال کر سکتا یا بیچ سکتا ہے۔ ماضی قریب میں شورش زدہ بلوچستان کوئٹہ میں امریکی سفیر نے اپنا قونصلیٹ کھولنے کی خواہش کے علاوہ گوادر میں بھی بے حد دلچسپی دکھائی تھی۔ ستمبر 2023 میں امریکی سفیر نے گلگت بلتستان حکومت کے علم میں لائے بغیر وہاں چھ روزہ دورہ کیا۔حزبِ مخالف کے کاظم میصم نے اس دورے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ امریکی سفیر کے ایسے علاقوں کے دورے جہاں سی پیک روٹ کا گزر ہو اور دیامیر بھاشا ڈیم بھی بن رہا ہو ناقابلِ فہم اور مشکوک ہیں۔ اُدھر سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے بھی اعتراض کیا کہ جس انداز میں سفارت کار اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل علاقوں کے دورے کر رہے ہیں اور ملک کے اندرونی معاملات پر بیان داغ رہے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نئے انداز سے پاکستان پر حملہ آور ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق پہلے معاشی طاقتوں نے پاکستان سے کڑی شرائط منوا کر پاکستان کی معاشی خود مختاری ختم کی اور اب پاکستان کے اندرونی سیاسی اور آئینی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

سندھ،آزاد کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ بعینی زیادہ تر آئینی عہدے بھی انہی کے پاس ہیں یعنی آدھے پاکستان پر ان کی حکومت ہے۔ ماسوائے سندھ کے،باقی سب صوبوں کے عوام میں بے چینی اور انکی حکومت پر عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔ صدر آصف علی زرداری سیاسی مسائل اور معاملات کو انتہائی خوش اسلوبی سے حل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں،اس پر وہ بلوچ بھی ہیں۔ اسی لئے انکی جماعت کے زیر ِانتظام صوبوں کے مسائل حل کرنے اور وفاق کے حوالے سے غلط فہمیاں دور کرنے میں انہیں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی کارواں سے ٹوٹا، کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دِل نوازی

تازہ ترین