• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 78 سال سے کچھ عرصہ زائد کی بات ہے کشمیری مجاہدین اور قبائلی لشکر سری نگر سے چار میل دور تک پہنچ چکا تھا جموں و کشمیر کے دارالحکومت پر قبضہ اب صرف دو گھنٹے کی بات تھی مہاراجہ ہری سنگھ انتہائی پریشانی کے عالم میں جموں سے فرار ہوچکا تھا دہلی میں پنڈت نہرو کیلئے اسکے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا کہ اقوم متحدہ سے مداخلت کی درخواست کریں۔ انہوں نے کشمیر ی عوام کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دینے کا وعدہ کرکے سلامتی کونسل سے ایک قرارداد منظور کروائی ۔قرارداد کیا تھی ایک جال تھا جس میں پاکستان کو پھنسایا گیا جس میں وہ آج تک پھنسا ہوا ہے اور ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیری مسلمان اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔برہمن سامراج قیام پاکستان کی عظیم تحریک کو تو نہ روک سکا مگر اپنی چال بازیوں اور مکر و فریب کے گھٹیا ہتھکنڈوں سے اس نے اس خطے کے ایک ارب مسلمانوں کو جنگ و جدل کے لامتناہی سلسلے سے دوچار کردیا ۔

سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 39، جو 20 جنوری1948ءکو منظور کی گئی اب صرف اقوام متحدہ یا پاکستان کی وزارت خارجہ کی دستاویزات میں محفوظ ہوگی ۔ اقوام متحدہ جو اپنے قیام کی آٹھ دہائیوں میں صرف چندبڑی طاقتوں کے مفادات کی آلہ کار ثابت ہوئی ہے اب آخری سانسیں لے رہی ہے اور امریکا اسرائیل بمقابلہ ایران جنگ نے ثابت کردیا ہے کہ اس کا آخری وقت آگیا ہے ۔ جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت کی جو قرارداد منظور کی گئی اس میں یہ طے پایا تھا کہ یہ مسئلہ حل کرنےکے لئے ایک تین رکنی کمیشن قائم کیا جائے گا جس کا ایک رکن بھارت اور ایک پاکستان کی مرضی سے اور تیسرا رکن دونوں ملکوں کے اتفاق رائے سے مقرر کیا جائے گا ۔ کمیشن کا مقصد تنازعہ کشمیر کا پرامن حل تجویز کرنا تھا کمیشن نے سلامتی کونسل کو ایک مشترکہ خط لکھنا تھا جس میں بتایا جاتا کہ خطے میں قیام امن کے لئے کونسا طریقہ اختیار کرنا سب سے بہتر ہے، اسے سلامتی کونسل کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے حقائق کی تحقیق کرنا ، یکم جنوری 1948 کو بھارت کے لگائے گئے الزامات اور پاکستان کے موقف کو دیکھنا تھا تاکہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا حل نکالا جاسکے ۔ پاکستان کا موقف اور الزامات کثیر الجہتی تھے مثلاً یہ کہ بھارت ہندوستان کی تقسیم کو ناکام بنانا چاہتا ہے ۔ مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے اس نے طاقت استعمال کرکے مسلمان ریاست جونا گڑھ پر قبضہ کرلیا ہے اور اب دہلی اور دوسرے علاقوں میں فراڈ اور پرتشدد ہنگاموں کے ذریعے فضا ہموار کرکے جموں و کشمیر کے بھارت سے الحاق کا ڈرامہ رچایا ہے اس طرح اس نے پاکستان کو براہ راست فوجی جارحیت کے خطرے سےدو چار کردیا ہے ۔

یہ قرارداد بلجیم نے پیش کی تھی جو اس وقت کونسل کا چیئرمین تھا لیکن اس کا متن برطانوی وزیر امور دولت مشترکہ فلپ نوئیل بیکر نے تیار کیا تھا جسے مسئلہ کشمیر نمٹانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی قرارداد 9ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوئی یوکرین اور سویت یونین غیر حاضر رہے برطانوی وزیر نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ایک غیر جانبدار انتظامیہ قائم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں رہے ۔ اس کا چیئرمین غیرجانبدار ہو اور اس کا کمانڈر انچیف سلامتی کونسل کا مقررکردہ غیر جانبدار فوجی افسر ہو بھارت نے تو اس کی مخالفت کرنا ہی تھی امریکا نے بھی اس کا ساتھ دیا یوں یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ مضبوط ہوتا چلا گیا۔برطانوی تجویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمیشن اپنا کام نیو یارک میں بیٹھ کر کرے لیکن اس سلسلے میں کوئی حقیقی پیش رفت نہ ہوسکی سلامتی کونسل نے اس حوالے سے ایک اور قرارداد اپریل 1948میں منظور کی اس کے بعد بھی کمیشن قائم نہ ہوسکا ۔ اقوام متحدہ کے سفارت کارکوربل نے اس پر سخت تنقید بھی کی اس دوران سردی کا موسم آگیا اور کشمیر کی جنگ جھڑپوں میں تبدیل ہونے لگی، کوربل کا موقف تھا کہ گرم موسم میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے پہلے کمیشن کا قیام نتائج کے اعتبار سے زیادہ موثر ہوسکتاتھا جس پر توجہ نہیں دی گئی بعد میں پتا چلا کہ کمیشن کے قیام اور کشمیر نہ آنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان نے کمیشن کے لئے مقررہ وقت میں اپنا نمائندہ ہی نامزد نہیں کیا تھا ۔باخبر حلقے اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ نے جان بوجھ کر ایسا کیا کیونکہ کمیشن جو کام کرنے جارہا تھا وہ ان کے اس خواب کے مطابق نہیں تھا جس کی رو سے وہ جموں و کشمیر کو اپنے مخصوص مذہب کی نظریاتی ریاست بنانا چاہتے تھے تاہم حقیقت جو بھی ہو سلامتی کونسل کی قرارداد عمل درآمد شروع ہونے سے پہلے ہی مسائل کا شکار ہوگئی اور آج ایک صدی ہونے کے قریب ہے اب اس کا ذکر صرف دستاویزات میں ہی ملتا ہے ۔

سلامتی کونسل کی قرار داد کو سرد خانے میں ڈال کر جموں و کشمیر کے عوام کو آزادی سے محروم کرنا تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے بھارت نے اس کا پوری تن دہی سے اہتمام کیا اور بالآخر بھارتی آئین سے اس شق کو ہی اڑا دیا گیا جس کی رو سے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم نہیں کیا گیا تھا لیکن تاریخ ہمیشہ بدلتی رہتی ہے جو کل تھا وہ آج نہیں ہے اور جو آج ہے وہ کل نہیں ہوگا ۔خود بھارت کے سابق آرمی چیف سیاستدان اور رائے عامہ کے نمائندے حتیٰ کہ انتہاپسند راشٹریہ سیوک سنگھ کے لیڈر بھی مودی کی ہندوتوا حکومت پر پاکستان سے مذاکرات کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں کشمیری تو ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ رہے جونہیں تھے وہ بھی بھارت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ طے کرنے کے لئے پاکستان سے پرامن مذاکرات کئے جائیں ان میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللّٰہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں موجودہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللّٰہ بھی یہی مطالبہ دہرا رہے ہیں یہ سب کہتے ہیں کہ پاکستان سے مذاکرات کا آغاز جموں و کشمیر سے کیا جائے کیونکہ جب تک یہ تنازعہ موجود ہے اس خطے میں امن کا قیام ممکن ہی نہیں ۔

تازہ ترین