ایک انگریزی اخبار میں سابق وفاقی سیکرٹری کا کالم پڑھنے کا موق ملا۔ انہوں نے سندھ کے بجٹ، این ایف سی ایوارڈ، کراچی کے حصے اور صوبائی اخراجات پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا جائے تو ضروری ہو جاتا ہے کہ دوسرا رخ بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سندھ کا بجٹ صرف کراچی کا بجٹ نہیں بلکہ پورے صوبے کا بجٹ ہے۔ آئین پاکستان کے تحت صوبائی حکومت صرف کراچی کی نہیں بلکہ تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، سجاول، جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ، گھوٹکی، لاڑکانہ، سکھر، شہید بینظیر آباد، دادو اور دیگر اضلاع کی بھی برابر ذمہ دار ہے۔ اگر صوبائی وسائل صرف کراچی پر خرچ کیے جائیں تو یہی لوگ سندھ حکومت پر باقی اضلاع سے ناانصافی کا الزام لگائیں گے۔ کالم میںیہ تاثر دیاگیا کہ کراچی ہزاروں ارب روپے ٹیکس دیتا ہے مگر اس کے بدلے اسے ترقیاتی فنڈز نہیں ملتے۔ یہ دلیل بظاہر پرکشش ضرور ہے مگر مکمل حقیقت نہیں۔ پاکستان میں انکم ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس وفاقی حکومت کے ادارے ایف بی آر کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں۔ کراچی چونکہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ، مالیاتی مرکز اور بڑی کمپنیوں کے ہیڈ آفسز کا شہر ہے، اس لیے ان کمپنیوں کے ٹیکس کراچی میں جمع ہوتے ہیں، چاہے ان کی اصل کاروباری سرگرمیاں پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان یا اندرون سندھ میں کیوں نہ ہوں۔ اس لیے کراچی سے جمع ہونے والے تمام وفاقی ٹیکس کو صرف کراچی کی مقامی آمدنی قرار دینا مالیاتی نظام کی درست تشریح نہیں۔اسی طرح سندھ حکومت کی اپنی آمدنی کا بڑا ذریعہ سندھ ریونیو بورڈ کے ذریعے خدمات پر سیلز ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکس، اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر صوبائی محصولات ہیں، نہ کہ وہ تمام ٹیکس جن کا ذکر اکثر کراچی کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ یہ پاکستان کی وفاقی تاریخ کا ایک سنگ میل تھا۔ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پہلی مرتبہ صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا اور وسائل کی تقسیم میں صرف آبادی نہیں بلکہ غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور آبادی کی کثافت جیسے عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ اگر آج صوبے اپنے وسائل اور اختیارات کی بات کرتے ہیں تو اس کی بنیاد بھی یہی تاریخی اصلاحات ہیں۔یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ سندھ نے گزشتہ سولہ برسوں میں ترقی نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ سندھ نے صحت کے شعبے میں ایسے ادارے قائم کیے جن سے صرف سندھ نہیں بلکہ پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ این آئی سی وی ڈی آج ملک بھر میں مفت دل کے علاج کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ ایس آئی یو ٹی گردوں اور جگر کی پیوندکاری میں عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے، جبکہ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے جگر کی پیوندکاری اور جدید طبی سہولیات میں نئی مثال قائم کی۔اسی طرح تھر کول منصوبہ آج پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ملیر ایکسپریس وے، شاہراہ بھٹو، ریڈ لائن بی آر ٹی، یلو لائن بی آر ٹی، کراچی میں مختلف فلائی اوورز، پانی اور نکاسی آب کے منصوبے، اور صنعتی علاقوں تک بہتر رسائی جیسے اقدامات بھی حقیقت ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
میرے قابل احترام لکھاری نے مقامی حکومتوں کے وسائل میں کمی کا بھی ذکر کیا۔ مقامی حکومتیں یقیناً مضبوط ہونی چاہئیں، کیونکہ پیپلز پارٹی خود بلدیاتی نظام کی حامی رہی ہے۔ تاہم یہ تاثر درست نہیں کہ سندھ حکومت نے کراچی کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا۔ کراچی کے کئی بڑے ادارے، جن میں بندرگاہیں، کسٹمز، ریلوے، سول ایوی ایشن، کنٹونمنٹ بورڈز اور متعدد وفاقی اراضی شامل ہیں، صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ جب اختیارات مختلف اداروں میں تقسیم ہوں تو تمام مسائل کی ذمہ داری صرف صوبے پر ڈال دینا انصاف نہیں۔
زرعی انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی اعداد و شمار پیش کیے گئے، مگر زمینی حقیقت مختلف ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں سندھ شدید سیلاب، پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی اور زرعی لاگت میں اضافے سے متاثر ہوا۔ کسان پہلے ہی بے شمار مشکلات کا شکار ہیں۔ اس شعبے میں اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں، لیکن ایسا نظام بنانا ہوگا جو ایک طرف محصولات میں اضافہ کرے اور دوسری طرف چھوٹے اور متوسط کسان کو مزید مشکلات میں نہ ڈالے۔جہاں تک تعلیم اور صحت کے اعداد و شمار کا تعلق ہے تو سندھ میں مسائل موجود ہیں مگر یہ کہنا کہ صرف سندھ ہی پیچھے رہ گیا ہےدرست نہیں۔ تعلیم اور صحت پورے پاکستان کے چیلنجز ہیں۔ سندھ حکومت نے اسکول ایجوکیشن، جدید اسپتالوں، خواتین کی صحت، غذائیت اور سماجی تحفظ کے کئی پروگرام شروع کیے ہیں، جن کے نتائج آنے میں وقت لگے گا۔کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اور اس پر کسی کو اختلاف نہیں۔ لیکن شہر کی ترقی کو سندھ کیخلاف اور سندھ کی ترقی کو اس کے ایک شہر کیخلاف پیش کرنا ایک خطرناک سوچ ہے۔سندھ کے بجٹ پر تنقید ضرور کیجیے، مگر اس تنقید میں آئین، مالیاتی نظام، وفاقی اور صوبائی اختیارات، اور زمینی حقائق کو بھی شامل رکھیے۔ صرف چند اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ تاثر دینا کہ سندھ وسائل ضائع کر رہا ہے، نہ صوبے کے ساتھ انصاف ہے اور نہ ہی پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے ساتھ۔سندھ کو اپنے وسائل کا آئینی حق بھی چاہیے، شہر کو اس کا جائز ترقیاتی حصہ بھی ملنا چاہیے، اور پاکستان کو ایک مضبوط وفاق بھی درکار ہے۔ ان تینوں مقاصد میں کوئی تضاد نہیں۔ اصل ضرورت سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ ایسے تعاون کی ہے جس میں وفاق، صوبہ اور مقامی حکومتیں ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے شراکت دار بن کر کام کریں۔ یہی پاکستان کے آئین کی روح ہے، یہی ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا مقصد تھا اور یہی پاکستان پیپلز پارٹی کا سیاسی فلسفہ بھی ہے۔