یہ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت ہے کہ جن خطوں کو قدرت نے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت، بے پناہ معدنی وسائل اور سمندری راستوں کی نعمت سے نوازا ہو، وہ ہمیشہ عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ بلوچستان بھی ایسا ہی ایک خطہ ہے۔ پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً چوالیس فیصد حصہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے یہ عظیم صوبہ ایران، افغانستان اور بحیرہ عرب سے ملحق ہے، جبکہ گوادر کی بندرگاہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ریکوڈک اور سیندک جیسے معدنی ذخائر، قدرتی گیس، ساحلی پٹی اور بین الاقوامی تجارتی راہداریوں کے باعث بلوچستان کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے دشمن کی نگاہیں بھی اس صوبے پر جما دی ہیں۔
بلوچ قوم غیرت، مہمان نوازی، وفاداری اور شجاعت کی علامت ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہزاروں بلوچ نوجوان پاک فوج، فرنٹیئر کور، بحریہ اور دیگر قومی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دفاعِ وطن کی تاریخ بلوچ سپوتوں کی قربانیوں سے روشن ہے۔ چند گمراہ عناصر یا مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو پورے بلوچ عوام کی آواز قرار دینا نہ صرف تاریخی ناانصافی ہے بلکہ دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف بھی ہے۔ بلوچستان کا عام شہری امن، ترقی، تعلیم اور پاکستان کے ساتھ مضبوط رشتے کا خواہاں ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات آغاز ہی سے اعتماد کے بجائے کشیدگی کی بنیاد پر استوار رہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد کشمیر کا تنازع، 1965 ءاور 1971 ءکی جنگیں، کارگل کا معرکہ اور بعد ازاں سفارتی محاذ آرائی،یہ سب اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی۔ جب روایتی جنگوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو پراکسی وار، خفیہ نیٹ ورک، تخریب کاری اور علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی جیسے طریقے اختیار کیے گئے۔
اس کھیل میں افغانستان کی سرزمین بھی کئی مواقع پر استعمال ہوئی۔ افغانستان میں طویل جنگ، کمزور سرحدی نظم اور مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی نے ایسے حالات پیدا کیے جن سے پاکستان مخالف عناصر فائدہ اٹھاتے رہے۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی سرزمین کے خلاف سرگرم بعض دہشت گرد نیٹ ورک افغان علاقوں سے کام کرتے رہے۔بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا سب سے نمایاں ثبوت، بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کا معاملہ تھا، جسے پاکستانی حکام نے تخریبی سرگرمیوں اور جاسوسی کے الزامات میں گرفتار کیا۔ پاکستان نے اسے بھارتی خفیہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی مثال قرار دیا،اس کے بعد بھی پاکستان متعددبار یہ حقیقت بیان کرتا رہا کہ بلوچستان میں سرگرم بعض عسکریت پسند گروہوں کو بیرونی مالی اور عملی معاونت حاصل رہی، تاکہ سی پیک، گوادر بندرگاہ، معدنی منصوبوں اور قومی ترقی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
گزشتہ چند برسوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد افسوسناک واقعات رونما ہوئے۔ کبھی معصوم مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا، کبھی مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کیا گیا، کبھی ترقیاتی منصوبوں پر حملے ہوئے اور کبھی سیکورٹی فورسز پر بزدلانہ وار کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد صرف خون بہانا نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ روکنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوف زدہ کرنا اور بلوچستان میں بدامنی کو فروغ دینا تھا۔لیکن دشمن شاید پاکستان کی تاریخ بھول جاتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے ہر آزمائش میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرنے کی روایت قائم کی ہے۔ پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان کے پہاڑوں، صحراؤں اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ سیکڑوں کامیاب انٹیلی جنس آپریشنز کے ذریعے تخریب کاری کے منصوبے ناکام بنائے گئے۔ اس راہ میں ہمارے بے شمار افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حالیہ دنوں میں بھی بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران وطن کے کئی بہادر سپوت شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔ ان کا لہو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔یہ قربانیاں صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی قربانیاں ہیں۔ ہر شہید کا گھرانہ اس وطن کا محسن ہے۔ ان شہداء کا خون اس مٹی کو مزید مضبوط بناتا ہے اور قوم کے حوصلے کو نئی توانائی عطا کرتا ہے۔ دشمن کا ہر حملہ ہمارے اتحاد کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مستحکم کرتا ہے۔
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے عوام کی ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جائے۔ دشمن وہاں کامیاب ہوتا ہے جہاں محرومیاں بڑھتی ہیں۔ اگر بلوچستان کا ہر نوجوان خود کو قومی ترقی کا برابر کا شریک محسوس کرے گا تو بیرونی پروپیگنڈا خود بخود دم توڑ دے گا۔ امن اور ترقی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، میڈیا، دانش ور اور عوام ایک قومی بیانیے پر متحد ہوں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر قومی سلامتی پر پوری قوم کو ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ بلوچستان صرف بلوچوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مشترکہ اثاثہ ہے، اور اس کا امن پورے ملک کے امن سے وابستہ ہے۔ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو اتحاد، بصیرت اور استقامت سے ناکام بنائیں گے۔ دشمن اگر بارود سے حملہ کرے گا تو ہم اپنے اتحاد سے جواب دیں گے، اگر وہ نفرت پھیلائے گا تو ہم قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے۔
سلام ہے بلوچستان کے غیور عوام کو، سلام ہے وطن کے ہر شہید کو، سلام ہے پاک فوج اور تمام سکیورٹی اداروں کے ان بہادر سپوتوں کو جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو سربلند رکھے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللّٰہ، پاکستان متحد تھا، متحد ہے اور متحد رہے گا۔