• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاید کسی فلم کا ڈائیلاگ ہے؟ ایک قطب نما (Compass) آپ کو شمال کی درست سمت تو دکھاتا ہے، لیکن وہ راستے میں آنے والے دلدلوں، چٹانوں اور دریاؤں کے بارے میں نہیں بتاتا۔اگر آپ صرف اپنی منزل کی سچائی کے زعم میں اندھا دھند آگے بڑھتے رہیں گے اور رکاوٹوں سے سمجھوتہ نہیں کریں گے، تو آپ دلدل میں دھنس جائیں گے۔بتاؤ پھر ایسی سچائی کا زعم کیسا؟

سچائی کیا ہے؟ محض ایک ٹریپ۔حق اورصداقت کاحتمی دعویدار اسی ٹریپ کا شکار ہوتا ہے۔دعوے اور حقیقت میں تضاد پیدا ہونے پر جو لوگ تھوڑی دیر کیلئے خاموش ہوجاتے ہیں،وہ اس ٹریپ سے کسی طور نکل آتے ہیں۔جو ہار کے خوف سے تضاد کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں، وہ ’سچائی‘ کی دلدل میں دھنستے اورپھنستے چلے جاتے ہیں۔طاقت کی کشمکش میں ’ٹریپ‘ کا یہ گھن چکر بار بار سامنے آتا ہے۔انسان اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ واپسی کا راستہ اسکے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔دنیا کی سیاست میں ایسی شخصیات زیادہ تر پچھلے بیس سالوں میں سامنے آئیں۔انہوں نے اپنی سچائی کے اڑن کھٹولے پر تنہا پرواز کی۔انہیں اقتدار اپنا منشور نافذ کرنے کیلئے سونپا گیا تھا، مگر عملاً وہ اپنا مزاج اور عادتیں نافذ کرنے لگ گئے۔انہوں نے ایک ایک کرکے رابطے کے سارے پل جلا دیے۔مکالمے کی ہوا جہاں سے آتی ہے، وہ کھڑکیاں بھی بند کردیں۔

شروع شروع میں ایسے لوگ بہت متاثر کن لگتے ہیں۔اونچی آواز،دوٹوک موقف،ہرچیز کو سیاہ و سفید میں بانٹ دینا،سلام کا جواب نہ دینا،ان سب کا اپنا ایک حسن ہے۔مگر حسن سے زیادہ ان سب کی ایک قیمت ہے۔یہ قیمت بند گلی، تنہائی، معاشرتی عدم اطمینان اور افراتفری کی صورت میں چکانی ہی چکانی پڑتی ہے۔مگر سچائی کے گھوڑے پہ سوار شخص اس قیمت کو بھی اپنی ذہانت میں گن لیتا ہے۔یوں اپنا راستہ اور بھی لمبا کردیتا ہے۔پھر وہ مقام آتا ہے جس کیلئے خان عبدالولی خان کہتے تھے، قبرایک ہے آدمی دو ہیں۔

ہماری سیاسی تاریخ میں قبر کا یہ سلسلہ 1948ء سے چلا آرہا ہے۔سال 2008ءمیں آکر یہ سلسلہ تھم گیا تھا۔گور کن بیروزگار ہوگئے تھے۔لمبے تجربے سے لوگوں نے سیکھا کہ اکڑ جانے میں زندگی نہیں ہے۔زندگی گرنے میں ہے۔چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے۔ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں، تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو۔اسی سوچ کا نتیجہ تھا کہ پاکستان میں سیاسی رواداری کا ایک ناقابل یقین دور شروع ہوا۔آپ اختلاف کر سکتے ہیں، مگر آج جب پیچھے مڑ کر دیکھو تو کم از کم مجھے وہ دور ناقابل یقین سا لگتا ہے۔اس دور میں برداشت اور مکالمے کی روایت پیدا ہورہی تھی۔سیاسی رکھ رکھاؤ اور وضع داری پنپ رہی تھی۔غیر سیاسی نعروں اور سلوگنز کا استعمال کم ہورہا تھا۔مختلف طبقات اور صوبوں کے درمیان رابطے کے پل تعمیر ہو رہے تھے۔اقلیتوں تک میں دھیرے دھیرے ملکیت کا احساس بیدار ہو رہا تھا۔کبھی کوئی الجھن پیدا ہوتی تو سلجھن کیلئے تین ثالث کھڑے کھڑے مل جاتے تھے۔ثالث کا منہ، فریق کی بات اور اپنی عزت رکھنے کا چلن موجود تھا۔

مگر سیاست کی راہداریوں میں ایسے لوگ داخل ہوگئے جن کی گفتگو میں قطعیت تھی۔انہیں سچائی اور کلئیریٹی کا زعم تھا۔بلیک اینڈ وائٹ میں مکالمہ کرتے تھے۔مرے ہوئے غیر سیاسی نعروں کو گلوریفائی کررہے تھے۔روبسپئیر کی طرح انقلاب کے نشے میں ہر دوسرے شخص کی گردن ناپے جارہے تھے۔یہ سوچے بغیر کہ روبسپئیر کی طرح ایک دن ہمارا سر بھی ہمارے ہی گیلووٹن کے بیچ دیدیا جائے گا۔

مکالمے کے تمام راستے بند کرنے والوں کے سامنے وہ مقام آہی جاتا ہے جہاں قبر ایک ہوتی ہے اورآدمی دو۔کسی ایک نے قبر میں اترنا ہی ہوتا ہے۔تاریخ یہ ہے کہ قبر اسی کا مقدر ہوتی ہے جس نے پُل جلائے ہوتے ہیں۔ماضی قریب ترین کی تاریخ میں جس نے پل جلائے تھے، وہ قبر میں ہے۔جس شدت سے پل جلائے تھے، قبر بھی اتنی ہی شدت کی بنی ہے۔پہلی بار ہم ایسی قبر دیکھ رہے ہیں جس میں کوئی کھڑکی نہیں ہے۔اس سے پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔پہلے سیاست کے قبرستان میں کھڑکی والی قبریں ہوا کرتی تھیں۔جیسے تیسے ہی سہی، مکالمے کی آواز وہاں بھی آجاتی تھی۔مگر اب ایسا نہیں ہے۔

جو قبر میں ہے،اس سے تو چلو اس لیے بات نہیں ہورہی کہ قبر میں کھڑکی نہیں ہے۔ پھر وہ شخص اپنی سچائی کے ہاتھوں ٹریپ ہوچکا ہے۔مگر جو لوگ باہر ہیں انکے بیچ مکالمہ کیوں ختم ہوگیا ہے۔صوبے ایک دوسرے سے کافی دوری پر چلے گئے ہیں۔طبقات کے بیچ رابطے کے لیے کبھی جو سیاسی ذرائع ہوا کرتے تھے، غیر فعال ہوگئے ہیں۔نمائندوں اور عوام کے بیچ رابطے تقریبا منقطع ہوگئے ہیں۔ہر طرف ایک طرح کی بے چینی ہے۔اسے کم کرنے میں جو لوگ کردار ادا کرسکتے ہیں، انہیں بھی املوک کے ساتھ تول دیا گیا ہے۔معاملات کے حل کیلئے ان شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے جو بات چیت جیسے سنجیدہ عمل کیلئے کبھی جانے نہیں گئے۔اب ثالثی کا ہنر جاننے والے بھی بساط پربوجھ سے لگ رہے ہیں۔خدا نخواستہ اس سے مراد وہ ثالثی نہیں ہے جو گھر سے دور امریکا اورایران کےبیچ ہورہی ہے۔اس سے مراد وہ ثالثی ہے جو گھر کے اندر دو بھائیوں کے بیچ نہیں ہوپارہی۔بھائیوں سے مارٹن لوتھر کنگ کا ایک مشہور زمانہ جملہ یاد آیا، ہمیں بھائیوں کی طرح مل جل کر رہنا چاہیے، ورنہ ہم احمقوں کی طرح اکٹھے برباد ہوجائیں گے۔

ایسا لگ رہا ہے جیسے موجودہ حکومتی سیٹ اپ بھی کسی ’سچائی‘کا اسیر ہوگیا ہے۔طاقت پہ مہر لگاکر قلم ولم توڑ دیے ہیں۔بات پھر قبر کی طرف نکل جائیگی، اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ہم نے بات کرنی تھی کشمیر پر۔سچی بات یہ ہے کہ کشمیر کی داخلی صورتحال ہماری اجتماعی ذہانت کے لیے آزمائش بن گئی ہے۔اور خدا کا شکر یہ ہے کہ میرے ہزار الفاظ پورے ہوگئے ہیں۔کالم کے تنگنائے میں مزید کچھ لکھنے کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔

تازہ ترین