پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز، مہنگائی اور سماجی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے حالات میں ریاست کی ذمہ داری صرف معاشی استحکام تک محدود نہیں رہتی بلکہ کمزور اور مستحق طبقات کو سہارا دینا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اسی تناظر میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ بن کر سامنے آیا ہے، جس نے لاکھوں غریب خاندانوں، خصوصاً خواتین، کو معاشی تحفظ فراہم کیا ہے۔ اگر اس پروگرام کو مزید شفافیت، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ صرف ایک فلاحی منصوبہ نہیں بلکہ غربت کے خاتمے اور سماجی انصاف کی مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ پروگرام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے عوام دوست وژن کی عملی تصویر ہے، جسے صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں مزید وسعت اور استحکام ملا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اسے اپنی بنیادی عوامی پالیسیوں کا اہم ستون قرار دیتی رہی ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ معاشی مشکلات کے دور میں اس پروگرام نے لاکھوں مستحق خاندانوں کو سہارا دیا اور انہیں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنایا۔چند روز قبل اس پروگرام کے انتظامی ڈھانچے اور زمینی حقائق کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ضلعی سطح پر خدمات انجام دینے والے افسران کی محنت اور ذمہ داری قابلِ تعریف محسوس ہوئی۔
راولپنڈی ڈویژن میں چوہدری سعید اور ضلع چکوال جاوید اختر جیسے فرض شناس افسران مستحق خواتین تک امداد کی بروقت اور شفاف فراہمی کیلئے پوری دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ایسے اہلکار کسی بھی قومی فلاحی پروگرام کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آج صرف نقد مالی امداد تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک جامع سماجی تحفظ کے نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بے نظیر کفالت پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ سے زائد مستحق خاندانوں کو باقاعدگی سے مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ بے نظیر تعلیمی وظائف کے ذریعے لاکھوں بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد مل رہی ہے، جبکہ اسکول حاضری کی شرط نے والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ترغیب دی ہے۔
اسی طرح بے نظیر نشوونما پروگرام عالمی ادارۂ خوراک (WFP) کے تعاون سے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور کم عمر بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ غذائی معاونت، طبی رہنمائی اور نقد امداد جیسے اقدامات مستقبل کی صحت مند نسل کی بنیاد رکھنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔اگر سینٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی جیسی متحرک شخصیت کو اس پروگرام کی سربراہی سونپی جائے تو مزید شفافیت آسکتی ہے۔
موجودہ قیادت، سیکرٹری عامر علی احمد اور ایڈیشنل سیکرٹری عصمت نواز کی نگرانی میں پروگرام میں جدید اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ بائیومیٹرک تصدیق، ڈیجیٹل سروے، شکایات کے مؤثر ازالے، ذاتی بینک اکاؤنٹس اور موبائل سموں کے ذریعے ادائیگی کے نظام نے شفافیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امدادی رقوم براہِ راست مستحق خواتین کے اکاؤنٹس میں منتقل ہونے سے غیر قانونی کٹوتیوں اور درمیانی عناصر کے کردار میں واضح کمی آئی ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔اور بعض ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی ہے جو اس کے مستحق نہیں اور ان کی گئی رقم واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کے باوجود بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ بعض علاقوں میں ایسے افراد بھی امداد حاصل کر رہے ہیں جو حقیقی معنوں میں مستحق نہیں، جبکہ کئی سفید پوش اور ضرورت مند خاندان مختلف وجوہات کی بنا پر اس سہولت سے محروم ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متحرک سروے کے ذریعے مستحقین کے ڈیٹا کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جائے، شفافیت کو مزید مضبوط بنایا جائے اور اہل افراد کو بروقت پروگرام میں شامل کیا جائے۔ یہی اقدامات اس قومی منصوبے پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کریں گے۔اس پروگرام کے نتائج خاموش انقلاب کی شکل میں سامنے آئیں گے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آج عالمی سطح پر پاکستان کے کامیاب سماجی تحفظ کے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اسی جذبے، دیانت داری، شفافیت اور مستقل اصلاحات کیساتھ اسے آگے بڑھاتی رہی تو یہ منصوبہ صرف مالی امداد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ غربت میں کمی، تعلیم کے فروغ، خواتین کے معاشی استحکام، غذائی تحفظ اور انسانی ترقی کے میدان میں پاکستان کی ایک روشن مثال بن جائیگا۔ ایک مضبوط فلاحی ریاست کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور شہریوں کو سہارا دے، اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اسی قومی ذمہ داری کی ایک اہم کڑی ہے۔