پاکستان میں پانی کا مسئلہ اب محض ایک خدشہ نہیں رہا بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن چکا ہے۔ ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ آئندہ تیس برسوں میں دنیا بھر میں پانی ہی وہ عنصر ہوگا جس پر جنگیں لڑی جائیں گی۔ حالیہ برسوں میں برصغیر کی سیاسی کشیدگی نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان کے آبی ذخائر کو نشانہ بنانے کی باتیں ہوئیں، بھارت نے نہ صرف پاکستان کے پانی کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کی بلکہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری شروع کر دی، افغان حکومت کو ڈیموں کی تعمیر پر آمادہ کیا اور اس منصوبے کے لیے مالی معاونت کی ذمہ داری بھی خود اٹھائی۔ پاکستان اس پورے آبی محاصرے کے مقابلے میں اب تک مؤثر اور ہمہ جہت حکمتِ عملی اختیار کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتا۔ دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو عطا کیا اگر اسی نظام کو بہتر منصوبہ بندی اور جدید مینجمنٹ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان زرعی دنیا میں ایک بار پھر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے مگر اس کے لیے سب سے بنیادی شرط پانی کا مؤثر انتظام ہے، جو بدقسمتی سے ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے پانی کو زندگی کی بنیاد قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ تفاسیر میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پانی کو پیدا فرمایا، پھر آگ اور مٹی وجود میں آئیں۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قیامت کے دن جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، ان میں پانی بھی شامل ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے یہ سوال ہوگا: کیا میں نے تمہیں صحت مند جسم نہیں دیا؟ اور کیا میں نے تمہیں ٹھنڈا پانی نہیں پلایا؟(حوالہ: لوامع الانوار، جلد دوم، صفحہ 176)اسی اہمیت کے پیش نظر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پانی کے ضیاع سے سختی سے منع فرمایا اور پانی پلانے کو صدقہ قرار دیا۔ ایک مشہور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت سعد کے پاس سے گزرے جب وہ وضو کر رہے تھے، تو فرمایا: سعد! یہ کیسا اسراف ہے؟ انہوں نے عرض کیا:یا رسول اللّٰہ! کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟
فرمایا:ہاں، اگرچہ تم نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں تین بنیادی ستون اہم کردار ادا کرتے ہیں: زراعت، صنعت اور سمندر۔ زراعت کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ یہ روزگار فراہم کرتی ہے، غذائی ضروریات پوری کرتی ہے اور دیہی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔ پاکستان زرعی ممالک میں شمار ہوتا ہے، مگر بدانتظامی کے باعث ہم اپنی اس نعمت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ سن 2000ء میں پاکستان میں زرعی شعبے میں پانی کی کھپت تقریباً 70 فیصد تھی، جو اب بڑھ کر 88 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ پانی کی قلت سے زیادہ پانی کے غلط استعمال کا ہے۔ عالمی تجارت میں سمندر کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ عالمی تجارت کے مجموعی حجم کا دو تہائی سے زیادہ حصہ بحری راستوں سے طے پاتا ہے۔ اس کے علاوہ سمندر پروٹین کے حصول کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ ایک سروے کے مطابق زمین پر موجود 97 فیصد پانی سمندری پانی ہے، مگر آلودگی کے باعث ہر سال دنیا کو تقریباً 13 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انسان اب تک سمندری حیات کا صرف 10 فیصد دریافت کر سکا ہے، جبکہ 90 فیصد اب بھی ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قدیم دور میں خوشحالی پانی سے وابستہ تھی۔ قبیلے پانی کی کمی پر ہجرت کر جاتے تھے اور اکثر جنگیں پانی پر ہی لڑی جاتی تھیں۔ آج جدید دور میں بھی دنیا اسی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پانی ایک ایسی دولت ہے جس کا کوئی متبادل نہیں، اسی لیے ہر دور میں عقلمند قومیں پانی ذخیرہ کرنے کو اپنی اولین ترجیح بناتی رہی ہیں۔ قومِ سبا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ سطحِ سمندر سے تقریباً 3900 فٹ کی بلندی پر آباد تھے۔ ان کا علاقہ پہاڑی اور ریگستانی تھا، بارش کا پانی یا تو ریت میں جذب ہو جاتا یا سمندر میں بہہ جاتا۔ انہوں نے ہزاروں سال قبل دو پہاڑوں کے درمیان ایک عظیم بند تعمیر کیا، جو 150 فٹ چوڑا اور 50 فٹ بلند تھا۔ یہی بند سدّ مارب کہلایا، جس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ نے مشرق و مغرب میں تقریباً 300 مربع میل کے علاقے کو سرسبز باغات میں بدل دیا۔ یہی تصور بعد میں دیگر تہذیبوں نے اپنایا۔ قبلِ مسیح دور میں بھی ڈیم تعمیر کیے جاتے تھے اور انجینئرز کو خاص مقام حاصل تھا۔ آج کے دور میں بھی ڈیم محض پانی ذخیرہ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ زرعی ترقی، گھریلو استعمال، بجلی کی پیداوار، سیلابوں سے تحفظ اور آبی نظم و نسق کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس وقت دنیا کے کئی خطے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک تاریخی قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔ سویڈن سمیت کئی ممالک میں جنگلات اور چراگاہوں میں آگ لگنے کے درجنوں واقعات ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں ایکڑ رقبہ تباہ ہوا۔ یورپی یونین کے ممالک اپنی چراگاہوں میں پانی اور گھاس کی کمی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ایشیا اور افریقہ میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ دنیا بھر میں 90 کروڑ سے زائد افراد صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں، جبکہ اربوں افراد نکاسی آب کی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ کئی علاقوں میں خواتین کو پانی لانے کے لیے روزانہ چھ چھ کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ الحمدللہ پاکستان میں تربیلا، منگلا، وارسک، حب، میرانی، گومل، ست پارہ اور خانپور جیسے ڈیم موجود ہیں۔ تربیلا ڈیم دنیا کے بڑے ڈیموں میں شامل ہے اور مٹی کی بھرائی سے تعمیر ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کو مزید ڈیموں اور جدید آبی منصوبوں کی اشد ضرورت ہے۔
آج کے دور میں صرف دریاؤں اور نہروں پر انحصار کافی نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانا، فضا میں موجود دھند سے پانی حاصل کرنا، اور زراعت کو ٹیکنالوجی بیسڈ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خلیجی ممالک کئی دہائیوں سے ڈی سیلینیشن پلانٹس کے ذریعے پانی حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنی آبی ضروریات کے پیش نظر ایسے منصوبوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگا، ورنہ مستقبل میں پانی کا بحران ہماری قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔