• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے ایران کے 13 کروڑ ڈالرز کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکا نے ایران کے مرکزی بینک کے 13 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کی مبینہ طور پر غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے حاصل کیے جانے والے فنڈز تک رسائی محدود کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی محکمۂ خزانہ کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد ایرانی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کو روکنا ہے۔

امریکی وزیرِ خزانہ نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ امریکی محکمۂ خزانہ ایران کی غیر قانونی مالی سرگرمیوں، بشمول ڈیجیٹل اثاثوں کے مبینہ غلط استعمال، کو متاثر اور کمزور کرنے کے لیے پُرعزم ہے، آج محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک متعدد کرپٹو والیٹس پر پابندیاں عائد کیں، جس کے نتیجے میں 13 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے گئے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے مزید لکھا ہے کہ محکمۂ خزانہ ایران کے مالیاتی ذرائع کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا تاکہ ایرانی حکومت کو مبینہ غیر قانونی آمدنی سے حاصل ہونے والے وسائل تک رسائی سے محروم رکھا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہم غیر قانونی رقوم کا جارحانہ انداز میں سراغ لگانے کا عمل جاری رکھیں گے اور ایرانی حکومت کو اپنی مبینہ غیر قانونی آمدنی کے منصوبوں سے حاصل ہونے والی رقوم تک رسائی سے محروم کریں گے۔


یہ پابندیاں امریکی محکمۂ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے عائد کی گئی ہیں، جو امریکا کی اقتصادی اور تجارتی پابندیوں پر عمل درآمد کا ذمے دار ادارہ ہے۔

واضح رہے کہ تازہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ ایران پر مالی دباؤ بڑھانے کے لیے سفارتی اور عسکری اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشی پابندیوں کو بھی مزید سخت کر رہی ہے، جبکہ ڈیجیٹل اثاثے امریکی پابندیوں کے نفاذ میں اہم توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔

یہ اعلان ایران کے خلاف امریکا کی حالیہ کارروائیوں کے تسلسل کا حصہ ہے، جن میں متعدد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ 

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایران پر اقتصادی دباؤ مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید