• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لنزے گراہم کی اچانک موت پر ایف بی آئی کی تحقیقات وسائل کا ضیاع ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹر لنزے گراہم کی اچانک موت کی تحقیقات پر ایف بی آئی کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے وسائل کا ضیاع قرار دیا ہے۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس معاملے میں کسی مجرمانہ سازش کے شواہد نظر نہیں آتے، اس حوالے سے کئی سازشی نظریات گردش کر رہے ہیں، لیکن اگر ایف بی آئی ان پر وقت صرف کر رہی ہے تو میرے خیال میں وہ اپنے وسائل ضائع کر رہی ہے۔

71 سالہ ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم ہفتے کی شب یوکرین کے دورے سے واپس آنے کے فوراً بعد چل بسے تھے، دورے کے دوران انہوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات بھی کی تھی۔

واشنگٹن کے میڈیکل ایگزامنر کے مطابق گراہم کی موت کی وجہ شہ رگ (Aorta) کا پھٹ جانا (Aortic Dissection) تھی، جو شریانوں کی سختی سے متعلق قلبی بیماری (Arteriosclerotic Cardiovascular Disease) کے باعث پیش آئی۔

پیر کے روز ایف بی آئی اور دیگر حکومتی اداروں کے اہلکاروں کو کیپیٹل ہل میں واقع گراہم کی رہائش گاہ کے باہر دیکھا گیا۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ ادارہ مقامی حکام کی معاونت کر رہا ہے، تاہم قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق اب تک کسی مجرمانہ کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

ٹرمپ نے بتایا ہے کہ میں نے طبی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹروں سے بھی معلومات حاصل کی ہیں۔

 ان کا کہنا ہے کہ گراہم کے والد بھی تقریباً اسی عمر میں دل کے عارضے کے باعث  چل بسے تھے۔

ٹرمپ کے مطابق ڈاکٹروں نے بتایا کہ اورٹک ڈائسیکشن کی بروقت تشخیص انتہائی مشکل ہوتی ہے، البتہ بعض اوقات شدید کمر درد اس کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گراہم بھی کمر درد کی شکایت کرتے تھے، مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ اس مہلک بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گراہم کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف غیر مصدقہ دعوے اور سازشی نظریات بھی سامنے آئے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہیں روس، ایران، یوکرین یا اسرائیل نے قتل کیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کسی دعوے کی تائید کرنے والا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید