پاکستانی اداکارہ اور میزبان نادیہ خان ان دنوں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
نادیہ خان نے ایک ڈرامے کے سین پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اداکارہ سجل علی کا کردار خطرے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے صرف آہستہ آواز میں کوئی ہے کہہ رہا تھا، جبکہ ایسی صورتِ حال میں کردار کو زور سے مدد کے لیے پکارنا چاہیے تھا۔
انہوں نے اس منظر کی نقل بھی اتاری اور کہا کہ اس میں زیادہ مؤثر اداکاری کی ضرورت تھی۔
نادیہ خان کے اس تبصرے پر شوبز انڈسٹری میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے، کچھ افراد نے اسے ڈرامے کے ایک منطقی پہلو کی نشاندہی قرار دیا، جبکہ سجل علی کے مداحوں، ڈرامے کے ناظرین اور کئی فنکاروں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل صائمہ اکرم چوہدری اور مایا علی بھی نادیہ خان کے مؤقف پر ناراضی کا اظہار کر چکی تھیں، جبکہ اب اداکارہ صبا فیصل بھی ان کے خلاف سامنے آ گئی ہیں۔
صبا فیصل نے ایک انسٹاگرام پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نادیہ خان! آپ اپنے گھر کے لیونگ روم میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بیٹھی ہیں، آپ اپنے ہی فنکاروں کے بارے میں اس طرح کیوں بات کرتی ہیں؟ آخر آپ کون ہوتی ہیں واحد سجل علی پر تنقید کرنے والی؟
صبا فیصل کی یہ تنقید خود ان پر بھاری پڑ گئی اور سوشل میڈیا صارفین نے نادیہ خان کا دفاع شروع کر دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ اس بار نادیہ خان بالکل درست تھیں، ایک اور تبصرے میں کہا گیا کہ نادیہ نے تو پھر بھی کوئی ہے کہا تھا، اصل ڈرامے میں تو یہ آواز بھی مشکل سے سنائی دے رہی تھی، حیرت ہے کہ میلوں دور کھڑا سر بلند اسے کیسے سن لیتا ہے؟ منطق کہاں تھی؟
ایک اور صارف کا کہنا ہے کہ نادیہ خان نے سجل علی نہیں بلکہ ڈرامے کی کمزور ہدایت کاری اور اسکرپٹ پر سوال اٹھایا تھا، اس میں اداکارہ کا قصور نہیں تھا۔