ہالی ووڈ اداکارہ زینڈایا نے فلم ’اوڈیسی‘ کی لندن میں تشہیری تقریب کے دوران 3 ہزار سال پرانے ایرانی سونے کے نایاب جھمکے پہن کر سب کی توجہ حاصل کر لی تاہم اس انتخاب پر سوشل میڈیا پر اختلافی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
زینڈایا نے سفید رنگ کا خصوصی لباس زیبِ تن کیا جس کے ساتھ انہوں نے ایرانی ’زیویا خزانے‘ سے منسوب سونے کی قدیم تختیوں پر مشتمل جھمکے پہنے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ جھمکے 1 ہزار سال قبلِ مسیح کے اصلی سونے سے بنے ہیں جنہیں بعد میں 18 قیراط سونے اور ہیروں کے ساتھ نئے انداز میں تیار کیا گیا۔
ان قدیم سونے کی تختیوں پر سورج کی شعاعوں کا نقش کندہ ہے جو قدیم اہم علامتوں میں شمار ہوتا ہے، آشوری تہذیب میں یہ نشان سورج دیوتا ’شماش‘ کی نمائندگی کرتا تھا جسے انصاف، طاقت اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق ’زیویا خزانہ‘ 1947ء میں ایران کے صوبے کردستان کے علاقے سقز کے قریب واقع گاؤں زیویا میں دریافت ہوا تھا جہاں ایک کانسی کے تابوت سے سونے کی سیکڑوں نوادرات برآمد ہوئی تھیں۔
آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی عدم موجودگی کے باعث متعدد اشیاء ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں اور مختلف خریداروں کو فروخت کر دی گئیں۔
بعد ازاں فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ آندرے گودار نے 1948ء میں پیرس میں ان نوادرات کی نمائش کی جبکہ ماہرِ آثارِ قدیمہ رومن گیرشمان نے اس خزانے سے متعلق 600 سے زائد اشیاء کی دستاویز بندی کی۔
آج اس خزانے کے نوادرات دنیا کے بڑے عجائب گھروں اور نجی مجموعوں میں محفوظ ہیں۔
تقریب کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے زینڈایا کے اس انتخاب کو تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا جبکہ ناقدین نے سوال اٹھایا کہ کسی دوسرے ملک کے ثقافتی ورثے کو فیشن کے طور پر استعمال کرنا اخلاقی طور پر درست ہے یا نہیں۔
اسلامی تاریخ، فن اور تعمیرات کے ماہر اور مصنف ضرار علی نے اس معاملے میں کہا ہے کہ مغربی شخصیات اکثر عالمی تاریخی اور اخلاقی معاملات کو نظر انداز کرتی ہیں۔
ان کے مطابق دوسرے ممالک کے نوادرات کو بطور زیور استعمال کرنا بعض اوقات ثقافتی غلبے اور ملکیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔