فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 2-1 کی ڈرامائی فتح کے بعد ارجنٹینا کی پوری ٹیم کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میچ کے بعد مڈ فیلڈر جیووانی لو سیلسو اور دفاعی کھلاڑی نکولاس اوتامندی نے ’مالویناس ارجنٹینا کا حصہ ہے‘ لکھا ہوا بینر اٹھا کر جشن منایا جس پر تنازع کھڑا ہو گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بینر فاکلینڈ جزائر سے متعلق ارجنٹینا کے دعوے کی نمائندگی کرتا ہے۔
فیفا اور انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ کے قوانین کے مطابق میچز کے دوران سیاسی نعروں، علامات اور بینرز کی نمائش ممنوع ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں کھلاڑیوں یا ٹیم کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ارجنٹینا کی نائب صدر وکٹوریہ ویارویل نے بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’مالویناس ارجنٹینا کا ہے‘، اس بینر کو اسٹیڈیم میں لانے سے روکا گیا تھا لیکن یہ دعویٰ ہمارے خون میں دوڑتا ہے اور ہم اسے اپنے دل میں رکھتے ہیں۔
مالویناس وہ نام ہے جو ارجنٹینا فاکلینڈ جزائر کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ برطانوی زیرِ انتظام علاقہ ارجنٹینا کے مشرقی ساحل سے تقریباً 480 کلو میٹر دور واقع ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ان جزائر کی خود مختاری کا تنازع 19 ویں صدی سے چلا آ رہا ہے۔
1982ء میں ارجنٹینا کی فوجی حکومت نے جزائر پر قبضے کے لیے حملہ کیا تھا جس کے بعد فاکلینڈ جنگ شروع ہوئی تھی۔
2 اپریل سے 14 جون تک جاری رہنے والی اس جنگ کے اختتام پر ارجنٹینا نے ہتھیار ڈال دیے تھے، جنگ میں 649 ارجنٹینی فوجی، 255 برطانوی اہلکار اور 3 شہری ہلاک ہوئے تھے۔