پرانی بات ہے۔ کسی سرکاری میٹنگ میں نئے قانون کے حوالے سے زور شور سے بحث ہو رہی تھی، ہم بھی وہاں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے تو میں نے ازراہ ِتفنن اپنے باس سے کہا کہ یہ نیا قانون کچھ کچھ منٹو کے افسانے جیسا ہے، اِس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ اسِ پر موصوف نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا: ”یہ منٹو صاحب کس کامن سے تعلق رکھتے تھے؟“ واضح کر دوں کہ سول سروس میں سینئر جونیئر کا پتا اُس کے کامن ٹریننگ پروگرام کے سال سے چلتا ہے جسے مختصراً کامن کہا جاتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں نے جواب میں دورانِ میٹنگ ہی اپنا سر پیٹ لیا۔ یہ واقعہ لکھنے کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ہم اکثر اردو کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند رہتے ہیں اور اِس ضمن میں مختلف توجیہات بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً میرا یہ خیال تھا کہ چونکہ اسکولوں میں اردو اُس طرح سے نہیں پڑھائی جاتی جیسے ہم نے پڑھی تھی اِسلئے آج کل جین زی کو اردو نہیں آتی۔ ہم نے اپنے اسکول میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی مرقع اردو پڑھی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے ہی میں نے اُسکے تمام افسانے اور مضامین پڑھ لیے تھے۔ اور یہ بھی یاد ہے کہ جس روز اردو کا پرچہ ہوا کرتا تھا ہم سکھ کا سانس لیا کرتے تھے کہ شکر ہے اِسکی کوئی تیاری نہیں کرنی پڑے گی۔ لیکن یہ اِسلئے نہیں تھا کہ ہم بہت قابل یا ذہین فطین تھے، بات صرف اتنی تھی کہ گھر کے ماحول کی وجہ سے اردو ادب سے شغف فطری تھا۔ اِسکے برعکس اُس زمانے کے او لیول اور اے لیول کے بچے بھی اردو سے اُسی طرح نابلدتھے جیسے آجکل کی جین زی۔ البتہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والوں کی اردو قدرے بہتر تھی۔ گو کہ آج بھی سرکاری اسکولوں میں مرقع اردو ہی کی طرح کی کتاب پڑھائی جاتی ہے لیکن اِسکے باوجود اُنکی اردو کا حال وہی ہے جو میرے باس کا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اردو کی نصابی کتابیں صرف اُن بچوں کو ادب کی چاٹ لگاتی ہیں جنہیں اُس سے کوئی لگاؤ ہوتا ہے، ہر شخص میں ادبی ذوق نہیں ہوتا اور یہ کوئی ایسی معیوب بات بھی نہیں۔
مقدمے کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اکادمی ادبیات کی قابل احترام چیئر پرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اردو کا مستقبل مدارس سے جُڑا ہے کیونکہ اب مدارس ہی رہ گئے ہیں جہاں شُدھ اردو پڑھائی جاتی ہے بلکہ انہیں کچھ شُدبُد عربی اور فارسی کی بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اِس سے مدارس کے بچوں میں ادبی ذوق بھی پیدا ہوا ہے۔ یہ دلیل اُس وقت مزید ٹھوس لگتی ہے جب ہم شہروں کے نجی اسکولوں کے میکانکی اور مصنوعی ماحول کو دیکھتے ہیں جہاں بچے اردو بولنے کو عیب اور انگریزی کے غلط سلط جملے بولنے کو فخر و امارت کی نشانی سمجھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب کسی مدرسے کا کوئی طالب علم اسٹیج پر آ کر فصیح اردو میں، پورے تلفظ، اعراب اور مخارج کی ادائیگی کیساتھ گفتگو کرتا ہے، تو ہم جھوم کر کہتے ہیں کہ چلو اِس قحط الرجال میں کوئی تو ہے جس نے زبان کی لاج رکھی ہے۔ لیکن یہیں سے اصل مغالطے کا آغاز ہوتا ہے۔ کیا کسی زبان کا محض بولا جانا، یا اس میں مذہبی احکامات کی تشریح و تبلیغ کرنا ہی اسکی بقا، اسکے ارتقا اور اسکی تاریخ کیلئے کافی ہے؟ مدارس سے فارغ التحصیل بچے اردو سے کیا کام لیتے ہیں؟ کیا وہ شاعری کرتے ہیں، افسانے لکھتے ہیں، ناول لکھتے ہیں؟ نہیں،وہ مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں جو بلاشبہ دینی خدمت ہے مگر اُس سے اردو کی صحت پر کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑتا۔ اُنکی فصاحت کبھی تخلیقی ادب میں تبدیل نہیں ہو پاتی، عملی زندگی میں اُنکی اردو صرف وعظ، مذہبی تقاریر، مناظروں اور فقہی موشگافیوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ لیکن بہرحال آجکل یہ بھی غنیمت ہے کیونکہ درست اردو بولنے اور لکھنے والے تیزی سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی زبان محض خطبوں، فتووں اور وعظوں کے سہارے طویل عمر نہیں پا سکتی۔ اس دلیل کو ایک اور طریقے سے پرکھتے ہیں۔ ہمارے دوست عرفان جاوید آج کل رواں صدی کے بہترین اور نمائندہ افسانوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اِس چکر میں انہوں نے ہزاروں صفحے پڑھ ڈالے ہیں۔ یہ کتاب جب آئیگی سو آئیگی، میں نے اِس کا مسودہ دیکھا ہے۔ اس میں پاک و ہند کے اُن تمام افسانہ نگاروں اور جدید دور کے تخلیق کاروں کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے اکیسویں صدی میں اردو فکشن کو ایک نئی سمت اور ایک نیا وقار بخشا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس میں ایک بھی ایسا کہانی کار نہیں ہے جس نے کسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہو یا روایتی دارالعلوم کا فارغ التحصیل ہو۔ اس کتاب میں شامل پاک و ہند کے تمام تخلیق کار عصری، سیکولر اور جدید دنیا کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے ہیں۔
میری رائے میں اردو کا حقیقی مستقبل مدارس سے نہیں بلکہ موسیقی، سینما، انٹرنیٹ اور عوامی ثقافت سے جڑا ہے۔ برصغیر کے شاعروں، نغمہ نگاروں اور گلوکاروں نے اردو کو جو آفاقی زندگی بخشی ہے، اسکی مثال دنیا کی کسی دوسری زبان میں نہیں ملتی۔ جب ہندوستان یا پاکستان کے کسی دور دراز گاؤں یا شہر میں ایک ایسا گلوکار، جسکی مادری زبان اردو نہیں ہے اور جس کا مذہب بھی مشترک نہیں ہے، جب وہ مائیک پر آ کر غالب کی غزل چھیڑتا ہے یا گلزار کا کوئی گیت گاتا ہے تو وہ اس وقت شعوری یا لاشعوری طور پر اردو زبان کی بقا کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ جب عاطف اسلم، ہاوی یا جواد احمد کا کوئی گانا دنیا کے کسی بھی کونے میں سنا جاتا ہے تو دراصل یہ اردو ہی کے الفاظ ہوتے ہیں جن پر ہم جھوم اٹھتے ہیں۔ ساحر لدھیانوی،شکیل بدایونی، لتا منگیشکر، محمد رفیع، حسرت جے پوری، کشور کمار، نور جہاں، نصرت فتح علی خان، مسرور انور،قتیل شفائی، حزیں قادری، خواجہ خورشید انور، شعیب منصور اور ایسے ہزاروں لوگوں کی وجہ سے اردو کی بات اب تک بنی ہوئی ہے۔ اردو کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ ہماری انٹرٹینمنٹ کی زبان ہے، سرکاری زبان انگریزی ہے اور رہے گی، لوگ انگریزی میں ڈاکٹر انجینئر بنیں گے مگر گانے اردو میں سنیں گے، عید، شبرات، بسنت اردو میں منائیں گے۔ زبانیں تب تک نہیں مریں گی جب تک کائنات میں محبت باقی ہے اور محبت کا اظہار جب بھی سروں کے ذریعے ہوگا، اردو اپنی پوری مٹھاس اور بانکپن کے ساتھ وہاں موجود ہوگی۔ اردو کا مستقبل کسی کمرے میں بیٹھ کر رٹے جانیوالے قواعد میں نہیں بلکہ گٹار کی تاروں اور طبلے کی تھاپ پر گونجنے والے گیتوں میں محفوظ ہے۔