• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

گزشتہ ہفتے ہم فور مین چیپل کی بات کر رہے تھے یہ چیپل جو کہ اب لوہاری گیٹ چرچ کہلاتا ہے 1848 میں تعمیر کیا گیا تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ چرچ لوہاری کی طرف انارکلی میں واقع ہے جس کے قریب کبھی بیلی رام کی ادویات کی دکان تھی اور غالباََ وہ ڈاکٹر تھے۔ ہم نے کوئی 1980 تک تو اس بڑی سی عمارت پر بیلی رام لکھا ہوا دیکھا تھا ۔اس کے سامنے پان منڈی ہے جہاں پر کبھی ہر بھارتی چیز مل جایا کرتی تھی ۔قریب ہی ایبک روڈ اور قطب الدین ایبک کا مقبرہ ہے کبھی یہ مقبرہ بغیر گنبد کے ایک چبوترے پر ٹوٹی پھوٹی قبر کی شکل میں ہوتا تھا ۔اگرچہ آج سے چند برس قبل قطب الدین ایبک (جو کہ پولو کھیلتےہوئے گھوڑے سے گر کر اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے تھے) کا مقبرہ تعمیر کیا گیا تھا مگر اس میں مغلیہ دور کا فن تعمیر نظر نہیںآتا۔یہ مقبرہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور قدیم فن تعمیر کی عکاسی کرتے ہوئے تعمیر ہو سکتا تھا۔ خیر یہ سارا علاقہ بڑا تاریخی ہے کبھی یہاں کی کھیر بڑی مشہور تھی اور یہاں پر دو بک اسٹال ہوا کرتے تھے ایک بک اسٹال کھیر والی دکان کے باہر سڑک پر تھا اور جب بارش آتی تو ایک موٹے سے پلاسٹک سے ایک کو کور کر دیا جاتا۔ یہاں سے آپ کو ہر اخبار اور رسالہ مل جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بائیں طرف ایک اور بک اسٹال تھا جہاں پر صرف رسالے اور کتابیں ملتی تھیں ۔ہم نے 1971 کی جنگ میں پاکستانی اور بھارتی فضائیہ کی آسمان پر جنگ اس بک اسٹال پر کھڑے ہو کر دیکھی تھی لاہور ئیے واقعی ہی کبھی بڑے زندہ دل تھے۔ فضا میں طیاروں کی جنگ ہو رہی ہے اور نیچے لاہورئیےکھڑے اللّٰہ اکبر، یا رسول اللّٰہ ﷺیا اور یا علی رضی اللّٰہ عنہ مدد کے نعرے لگا رہے تھے۔ کوئی بھاگا نہیں۔ اب ان زندہ دلانِ لاہور کو لوگوں نے صرف کھانوں پر لگادیا ہے آج اندرون لاہور میں کئی کھانے پینے والی دکانوں والے دعوے کرتے ہیں کہ ان کی دکان سوسال یا دو سو سال اورڈھائی سو سال پرانی ہے ہمیں تو اپنے کالج کے زمانے میں یہ دکانیں نظر نہ آئیں۔ بات کہاں سے کہاں چلی گئی ۔ہم ڈاکٹر فور مین چیپل کی بات کر رہے تھے جو اب ایک چھوٹا سا چرچ بن چکا ہے مگر تاریخ میں یہ ہمیشہ فورمین چیپل کے نام سے ہی زندہ رہے گا۔ فور مین چیپل کے ساتھ مکی مسجد تھی جبکہ ایبک روڈ پر مندر تھا جو بابری مسجد کے واقعے پر لوگوں نے گرا دیا تھا ویسے تو ہم نے جین مندر اور شاہ عالمی مندر کوگرتے ہوئے بھی دیکھا ہے ۔ ڈاکٹر فورمین کے نام پر شاہ عالمی میں ایک گرلز اسکول بھی ہے جو 1848 میں تعمیر کیا گیا تھا اس طرح ڈاکٹر فورمین نے رنگ محل میں مشن ہائی ا سکول قائم کیا تھا جو آج بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر فور مین نے ایک درخت کے نیچے تین کشمیری لڑکوں کو بٹھا کر اسکول کا آغاز کیا تھا ۔

ویسے تو لاہور میں کئی قدیم درخت ہیں ان درختوں کے بارے میں کبھی آپ کو بتائیں گے فی الحال آپ کو یہ بتائیں کہ دفتر لارڈ صاحب یعنی سیکر ٹریٹ کے اندر ایک تاریخی درخت تھا جہاں پر کبھی مہاراجہ رنجیت سنگھ بھی آکر بیٹھا کرتا تھا ویسے تو حضرت میاں میر رحمت اللّٰہ علیہ بھی مقبرہ انارکلی کے قریب جنگل میں عبادت کیلئے تشریف لایا کرتے تھے کسی بہت ہی عقل مند چیف سیکرٹری نے وہ تاریخی درخت ہی کٹوا دیا حالانکہ ہم نے خود وہ درخت نہ صرف دیکھا تھا بلکہ اس زمانے میںکئی اعلیٰ افسروں نے ہمیں اس درخت کے بارے میں بتایابھی تھا ۔بہت بڑا برگد کا درخت تھا اس طرح بوڑھ والا چوک جو گڑھی شاہو کے قریب ہے وہاں پر کبھی بہت بڑا بوڑھ کا درخت ہوتا تھا حکومت اور متعلقہ محکموں کی غفلت سے وہ بوڑ ھ والا درخت تو امتدادِ زمانہ کی نذر ہو گیا البتہ اس چوک کا نام آج بھی وہی ہے ۔بہت بڑا درخت تھا اور یہ الحمرا سینما اور ریکس سینما کے قریب تھا چنانچہ ان دونوں سینما گھروں میں جو فلمیں لگتی تھیں ان فلموںکے نام اور اس میں اداکاراؤں کے نام اس کُرے والے بورڈ پر ہوتے تھے اور یہ بورڈز اس درخت پر لگائے جاتے تھے ۔لاہور میں آج بھی میاں میر کینٹ لاہور چھاؤنی، ماڈل ٹاؤن میں اور کئی تعلیمی اداروں میں کئی سو برس قدیم درخت موجود ہیں۔ خیر بات ہو رہی تھی فور مین جیپل کی کہ کبھی اس چیپل کے اندر بے شمار کتابیں ہوتی تھیں ہر مذہب کے لوگ یہاں آ کر پڑھا کرتے تھے پھریہ ہوا لوگ یہاں سے کتابیں چرا کر لے گئے اور یہاں پر پڑھنے والا سلسلہ ختم ہو گیا کیونکہ چیپل میں کوئی کتاب ہی نہ رہی ۔مشن ا سکول رنگ محل کے ایک ٹیچر پا دری رام داس کو یہاں پر پادری مقرر کیا گیا تھا انہوں نے لوگوں کی بڑی خدمت کی وہ بہت اچھے گلوکار، موسیقار اور اچھےا سپیکر تھے اردو، پنجابی اور انگریزی میں خطاب کیا کرتے تھے۔ لوہاری گیٹ چرچ میں اب لوگ زیادہ نہیں آتے اس کی بنیادی وجہ ٹریفک کے مسائل اور رش ہے۔ اس چرچ کی تین مرتبہ مرمت کرائی گئی مگر اس کی وہ شکل و صورت نہیں جو پہلے تھی البتہ اس چیپل میں آج بھی تقریباً دو صدی قدیم فرنیچر موجود ہے جس پر لوگ بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں۔ اس کی بالکنی قدیم ہے، چھت پرانی ہے اس کی سیڑھیاں دیگی لوہے کی بنی ہوئی ہیں۔آج کی نسل کو کیا علم دیگی لوہا کیا ہوتا ہے اور وہ کتنا مضبوط ہوتا ہے۔ ماڈل ٹاؤن اور بعض پرانی عمارات میں آج بھی سیورج کی نکاسی کے لیے دیگی لوہے کے پائپ لگے ہوئے ہیں جو کبھی خراب نہیں ہوتے۔ ایف سی کالج کے ایوینگ ہال میں بھی دیگی لوہے کے پائپ لگے ہوئے ہیں۔ اس چیپل میں آج بھی ڈیڑھ سو برس قدیم ایک میز اور ٹیبل پڑا ہوا ہے، وہ لگتا نہیں کہ ڈیڑھ صدی پرانا فرنیچر ہے۔ گورے جو بھی کام کرتے تھے اس کا حسن یہ تھا کہ وہ بہت پائیدار اور دیر پا ہوتا تھا۔ ہم جب ایف سی کالج میں پڑھاتے تھے تو ہما رے کمرے ڈی5 جو ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا آفس تھا اس میں ایک صدی قدیم پنکھا لگا ہوا تھا وہ کیا ٹھنڈی ہوا دیا کرتا تھا۔ اس کی کھڑکیاں اور دروازے اور پنکھے کا ریگولیٹر کیا پائیدار چیزیں تھیں ۔(جاری ہے)

تازہ ترین