• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا نے کروٹ بدل لی ہے، مگر ہمارے تعلیمی نظام کی نیند ابھی نہیں ٹوٹی۔ جس رفتار سے مصنوعی ذہانت روزگار، معیشت اور علم کے تصورات کو نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہے، اسی رفتار سے پاکستان کا نوجوان طبقہ خود کو غیر متعلقہ ہوتا محسوس کر رہا ہے۔ ڈگری اب کامیابی کی ضمانت نہیں رہی، مہارت رہ گئی ہے، اور مہارت وہی معاشرے پیدا کر پا رہے ہیں جنہوں نے وقت پر فیصلہ کیا۔

ہر روز کسی ہوائی اڈے پر ایک اور نوجوان وطن چھوڑ دیتا ہے۔ ہاتھ میں ڈگری، آنکھوں میں خواب، اور دل میں ایک ہی سوال کہ آخر اس ملک میں اس کی قابلیت کی قیمت کیوں نہیں۔ یہ صرف برین ڈرین نہیں، اسکل ڈرین ہے۔ ہمارا نظام ایسے گریجویٹس پیدا کر رہا ہے جن کے پاس سند تو ہے مگر وہ صلاحیتیں نہیں جن کی عالمی منڈی کو آج ضرورت ہے۔

اسی پس منظر میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ باقی دنیا نے یہ چیلنج کیسے سنبھالا۔ چین نے فیصلہ کن قدم اٹھایا ۔بیجنگ کے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں ستمبر 2025 سے مصنوعی ذہانت کی تعلیم لازمی قرار دی گئی، جس میں ہر طالب علم کو سالانہ کم از کم آٹھ گھنٹے اے آئی سے متعلق باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔ مقصد واضح ہے ایک ایسی نسل تیار کرنا جو چین کو اے آئی کی عالمی طاقت بنانے میں کردار ادا کرے۔ جنوبی کوریا نے 2025 تک ہائی اسکول سے شروع کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے قومی نصاب میں اے آئی کورس ورک شامل کرنے کا ہدف رکھا، اور اساتذہ کی تربیت کے لیےکیرس (Keris) نامی سرکاری ادارہ باقاعدہ پروگرام ڈیزائن اور آزما رہا ہے۔ سنگاپور نے طلبہ اور اساتذہ دونوں میں اے آئی خواندگی بڑھانے کی قومی حکمتِ عملی اپنائی ہے، اور 2026ءتک ہر سطح کے اساتذہ اور طلبہ کیلئے اے آئی تربیت لازمی بنائی جا رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 2025-26 کے تعلیمی سال سے کنڈرگارٹن سے بارہویں جماعت تک تمام سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کو باقاعدہ مضمون کے طور پر متعارف کرایا ہے، جس میں بنیادی تصورات سے لے کر اخلاقی شعور اور عملی اطلاق تک سات اہم شعبے شامل ہیں۔ سعودی عرب نے بھی 2025-26 سے تمام سرکاری تعلیمی سطحوں پر جامع اے آئی نصاب کا آغاز کیا، جو ویژن 2030کے تحت انسانی صلاحیت کی ترقی کے پروگرام سے جڑا ہوا ہے اور اسے باقاعدہ طلبہ کارکردگی کے جائزہ نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ممالک اے آئی کو الگ، اختیاری، یا صرف نجی اسکولوں تک محدود مضمون نہیں سمجھتے، بلکہ اسے بنیادی نصاب کا لازمی جزو بنا رہے ہیں تاکہ امیر اور غریب کا فرق ڈیجیٹل خواندگی کی سطح پر ختم ہو۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ایچی سن کالج جیسے معیار کے بوائز اینڈ گرلز تعلیمی اداروں اور ’’مریم نواز سینٹر آف اکیڈمک لیڈرشپ‘‘کے قیام کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ اسی طرح لیپ ٹاپ اسکیم کا تسلسل، جو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے دور سے شروع ہوا تھا، ایک مثبت سرمایہ کاری ہے کیونکہ جدید معیشت میں کمپیوٹر اب سہولت نہیں، بنیادی ضرورت ہے۔ اسی لیپ ٹاپ اسکیم کا ثمر ہے کہ آج پاکستانی نوجوان دنیا بھر کی فری لانسنگ مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور محدود وسائل کے باوجود عالمی سطح پر اپنی صلاحیت منوا چکے ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر نوجوانوں کو صرف ذریعہ فراہم کر دیا جائے تو وہ خود راستہ بنا لیتے ہیں۔

جیسا کہ عالمی مثالیں ثابت کرتی ہیں، صرف آلات کی فراہمی کافی نہیں۔ چین، جنوبی کوریا، سنگاپور، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ،سب نے آلات کے ساتھ ساتھ نصاب، اساتذہ کی تربیت اور باقاعدہ تشخیصی نظام کو بھی بدلا۔ لیپ ٹاپ ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ اگر اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا اینالٹکس اور سائبر سکیورٹی جیسی مہارتوں کی باقاعدہ تربیت شامل نہ کی گئی تو یہ سرمایہ کاری اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق نتائج نہیں دے سکے گی۔

پنجاب میں تقریباً پچاس ہزار سرکاری اسکول ہیں، اور ملک بھر میں یہ تعداد تین لاکھ سے تجاوز کرتی ہے۔ سوال یہ ہے ان میں سے کتنوں میں اے آئی لیبارٹریاں ہیں؟ کتنے اساتذہ نے باقاعدہ تربیت حاصل کی؟ جب بیجنگ کا ہر بچہ سالانہ آٹھ گھنٹے اے آئی پڑھ رہا ہو اور ابوظہبی کا کنڈرگارٹن طالب علم اے آئی کے بنیادی تصورات سیکھ رہا ہو، تو ہمارے پاس مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔

اگر آج یہ قدم نہ اٹھایا گیا تو نوجوان مستقبل کی تلاش میں وطن چھوڑتے رہیں گے۔ لیکن اگر تعلیم، ٹیکنالوجی اور مہارت کو ایک ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہی نوجوان پاکستان میں رہ کر بھی دنیا بھر کیلئے خدمات انجام دے کر زرِمبادلہ کما سکتے ہیں۔ یہی مصنوعی ذہانت کے دور کی اصل معیشت ہے، اور یہی پاکستان کے مستقبل کا راستہ بھی۔

سوال صرف ایک ہے، اور شاید آنے والے برسوں کا سب سے اہم سوال بھی ’مصنوعی ذہانت کب؟‘

تازہ ترین