• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کتابوں سے بھی خوفزدہ، مقبوضہ کشمیر میں چھان بین شروع

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت کتابوں سے بھی خوفزدہ، مقبوضہ کشمیر میں کتابوں کی چھان بین شروع، انڈیا نے "قابلِ اعتراض" مواد کے خلاف مہم تیز کر دی، تعلیمی اداروں کو تمام کتابوں کی جانچ کا حکم دے دیا۔ آزادی پسند رہنماؤں کا ذکر ناقابل قبول، تحقیق، جرائد اور ڈیجیٹل مواد بھی نشانے پر، ناقدین نے اقدام کو اظہارِ رائے پر قدغن قرار دے دیا، مقبوضہ کشمیر میں قابض حکومت نے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور عوامی کتب خانوں میں موجود کتابوں، تحقیقی مقالات، جرائد، ڈاکٹریٹ تھیسز اور ڈیجیٹل مواد کی وسیع پیمانے پر جانچ شروع کر دی ہے تاکہ ایسے مواد کی نشاندہی کی جا سکے جسے حکام "قابلِ اعتراض"، "اشتعال انگیز" یا "علیحدگی پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت" پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ یہ کارروائی ایک ایسی کتاب پر اعتراضات کے بعد شروع ہوئی جس میں بعض کشمیری حریت پسند رہنماؤں کا ذکر شامل تھا۔ حکام نے یہ بھی تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ ایسا مواد سرکاری لائبریریوں تک کیسے پہنچا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس اقدام کو نوجوانوں کو انتہا پسند نظریات سے بچانے کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ صحافیوں، مصنفین اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس سے علمی آزادی، تاریخ کے مطالعے اور اظہارِ رائے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور لوگ کشمیر سے متعلق کتابیں پڑھنے یا رکھنے سے بھی خوف محسوس کریں گے۔

دنیا بھر سے سے مزید