• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد نذر آتش کردی

مقبوضہ بیت المقدس(اے ایف پی )مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں ایک مسجد کو نذرِ آتش کر دیا، جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے گئے۔فلسطینی وزارت مذہبی امور نے واقعہ کو کھلی دہشتگردی قرار دے دیا،گاؤں کی کونسل کے سربراہ محمد ربیع نے اے ایف پی کو بتایا کہ دو درجن سے زائد آبادکار، جن میں بعض نے نقاب پہن رکھے تھے، رات کے وقت الطقویٰ مسجد پر حملہ آور ہوئے اور اسے آگ لگا دی۔انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے دو گھروں اور ایک ڈیری فیکٹری کو بھی نذرِ آتش کیا، جبکہ مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے۔محمد ربیع کے مطابق جب گاؤں کے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے تو آبادکار فرار ہو گئے، جبکہ مقامی رضاکاروں نے آگ پر قابو پا لیا، جس سے مزید نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔محمد ربیع نے بتایا کہ مسافر یطا کی خواتین کے زیرِ انتظام چلنے والی ڈیری فیکٹری کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ورنہ یہ ایک بڑا سانحہ بن سکتا تھا۔فلسطینی کارکن اسامہ مخامرہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ آبادکاروں نے یہ حملہ اسرائیلی فوج کی موجودگی میں کیا۔ ان کے مطابق جس مسجد کو آگ لگائی گئی، اس کے قریب ہی اسرائیلی فوج کا ایک واچ ٹاور موجود ہے۔فلسطینی وزارتِ مذہبی امور نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "کھلی دہشت گردی" قرار دیا۔ وزارت نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اسرائیل کی "انتہا پسند قابض حکومت" آبادکاروں کے تشدد کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ مسافر یطا سے فلسطینیوں کو بے دخل کیا جا سکے اور تنازع کو "مذہبی جنگ" کی شکل دی جا سکے۔

دنیا بھر سے سے مزید