• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’گھوسٹ فونٹ‘ جسے اے آئی ماڈلز نہیں صرف انسان پڑھ سکتے ہیں

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ڈیولپر اور ڈیزائنر ایرک لو نے گھوسٹ فونٹ نامی ایسا فونٹ تیار کر لیا ہے جسے انسان تو پڑھ سکتے ہیں لیکن مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے جدید ترین ماڈلز کے لیے یہ کام ممکن نہیں۔

ایک تجرباتی منصوبے ’گھوسٹ فونٹ‘ نے اے آئی کے جدید ترین ماڈلز کی ایک غیر متوقع کمزوری کو نمایاں کر دیا۔

اس منصوبے کے خالق ڈیولپر اور ڈیزائنر ایرک لو نے اس فونٹ کو اس انداز میں تیار کیا ہے کہ اسے انسان آسانی سے پڑھ سکتے ہیں، جبکہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے جدید و معروف اے آئی سسٹمز اس میں موجود متن کو درست طور پر سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔

ایرک لو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ میں نے گھوسٹ فونٹ کے نام سے ایک ایسا فونٹ تیار کیا ہے جسے صرف انسان پڑھ سکتے ہیں، میں نے اسے فیبل اور جی پی ٹی 5.0 سول الٹرا پر آزمایا، لیکن دونوں ہی اس میں موجود متن کو درست طور پر سمجھنے میں ناکام رہے۔

ان کی اس پوسٹ کو اب تک 1 کروڑ 70 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

گھوسٹ فونٹ کیسے کام کرتا ہے؟

گھوسٹ فونٹ حرکت، بصری شور اور گمراہ کن پیٹرنز کے امتزاج پر مبنی ہے، اس کی خاص بات یہ ہے کہ جیسے ہی اینی میشن کو روکا جاتا ہے، اس میں موجود پیغام غائب ہو جاتا ہے۔

روایتی فونٹس کے برعکس جن میں حروف واضح شکل میں دکھائی دیتے ہیں، گھوسٹ فونٹ آپٹیکل الوژن پیدا کرتا ہے، اس میں اسکرین پر ہزاروں ننھے نقطے دکھائی دیتے ہیں، پوشیدہ حرف کے اندر موجود نقطے ایک سمت میں حرکت کرتے ہیں، جبکہ اردگرد کے نقطے دوسری سمت میں بہتے نظر آتے ہیں۔

انسانی دماغ ان متحرک نقطوں کو قدرتی طور پر ایک ساتھ جوڑ لیتا ہے، جس سے پوشیدہ لفظ نمایاں ہو جاتا ہے، حالانکہ اس کے گرد کوئی واضح خدوخال موجود نہیں ہوتا، تاہم جیسے ہی اینی میشن روک دی جاتی ہے، یہ آپٹیکل الوژن ختم ہو جاتا ہے اور اسکرین پر صرف بے ترتیب نقطے دکھائی دیتے ہیں۔

گھوسٹ فونٹ میں ایک اور حفاظتی پرت بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت اس میں ڈیکو ٹیکسٹ بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ اے آئی سسٹمز غلط نتیجہ اخذ کریں، انسان حرکت کی بنیاد پر اصل پیغام کو سمجھ لیتے ہیں، جبکہ موجودہ اے آئی ماڈلز اکثر ویڈیو کو فریم بہ فریم تجزیہ کرتے ہیں، جس کے باعث وہ اصل متن کے بجائے جعلی متن کو درست سمجھ لیتے ہیں۔

ایرک لو نے اپنے بلاگ میں اس منصوبے کو اینٹی اے آئی ٹائپو گرافی کا تجربہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مقصد ایسا تحریری انداز متعارف کرانا ہے جسے انسان تو پڑھ سکیں، لیکن مصنوعی ذہانت آسانی سے نہ سمجھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ عام متن جتنا واضح نہیں، تاہم انسانی آنکھ اسے فوری طور پر پڑھ سکتی ہے، جبکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز بھی اسے آسانی سے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

گھوسٹ فونٹ کیوں اہم ہے؟

ماہرین کے مطابق گھوسٹ فونٹ مستقبل میں سائبر سیکیورٹی اور معلومات کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر ٹیکنالوجی ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کیپچا کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے، روایتی تصویری یا منطقی پہیلیوں کے بجائے حرکت پر مبنی متن استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے انسان تو پڑھ سکیں لیکن اے آئی بوٹس نہ سمجھ پائیں۔

اس فونٹ کے باعث ڈیجیٹل واٹر مارکنگ اور ڈی آر ایم میں بہتری آ سکے گی، گھوسٹ فونٹ طرز کی انکوڈنگ کے ذریعے شامل کیے گئے واٹرمارکس یا کاپی رائٹ نشانات کو اے آئی ٹولز کے لیے شناخت کرنا یا حذف کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

فونٹ کی وجہ سے حساس دستاویزات کا بہتر تحفظ ہوسکے گا، اہم دستاویزات میں ایسے متحرک متن یا نشانات شامل کیے جا سکتے ہیں جو انسانوں کو تو دکھائی دیں، لیکن موجودہ اے آئی سسٹمز کے ذریعے خودکار ڈیٹا اکٹھا کرنے یا معلومات نکالنے کے عمل سے محفوظ رہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید