بھارتی مقبوضہ کشمیر کی ایک عدالت نے مقامی حکومت کو تقریباً بتیس سال قبل لاپتا ہونے والے ایک شخص عبدالرشید وانی کی موت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنےکا حکم دیا ہے اس شخص کو جولائی 1997ءمیں اس کے گھرکے باہر سے بھارتی فوجیوں نےجس کی کمان ایک میجر کر رہا تھا پکڑ کر قتل کر دیا تھا اور لاش ویرانے میں گاڑ دی تھی پھر جیسا کہ معمول ہے حکومت نے اسے گم شدہ قرار دیا اس کا خاندان اس کے زندہ ہونے کی موہوم سی امید میں سوگ بھی نہ منا سکا۔ ا سکی بیوی ایسے ہزاروں گم شدگان کی بیویوں کی طرح بیوہ بھی شمار نہ ہوسکی کہ نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنے کے متعلق سوچ سکے ۔ ایسی بیویوں کو مقبوضہ کشمیر میں نیم بیوائیں کہا جاتا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے عبدالرشید وانی کی گمشدگی کی لرزہ خیز داستان کو اپنی ایک رپورٹ کا موضوع بنایا ہے ۔ایجنسی کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں عدالت نے لاپتہ شخص کی گم شدگی کو قتل قرار دیا ہے جج کے فیصلے سے پتا چلا کہ وانی کو کیسے پکڑا گیا ، کیسے قتل کیا گیا اور لاش کیسے ٹھکانے لگائی گئی مگر جس جگہ اس کی لاش کو گاڑا گیا وہ اب بھی ایک سربستہ راز ہے۔ عبدالرشید وانی لکڑی کا کاروبار کرتا تھا وقوعہ کے وقت وہ لکڑی سپلائی کرنے والوں کو ادا کرنے کے لئے رقم لے کر جارہا تھا وہ رقم فوجیوں نے آپس میں بانٹ لی اور وانی کو غائب کردیا۔ اس روز وانی کو اپنے ایک رشتہ دار کی شادی میں شرکت کے لئےبھی جانا تھا ۔اس کی فیملی تیار بیٹھی تھی مگر وانی واپس نہ آیا ۔ اس کا بیٹا جنید اس وقت 5سال کا تھا آج 34 برس کا ہے دوسرے گم شدگان کی طرح عبدالرشید وانی کے لاپتا ہونے کی عذرداری بھی عدالت میں دائر کی گئی۔ حکومت نے سانحے کا اقرار کیا مگر انصاف کے تقاضے پورے نہ کئے ۔عدالت کی فہمائش پر فوجی میجر نے متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالا اور دھمکیاں دینا شروع کیں اس کا کہنا تھا ’’جو ہوا سو ہوگیا اب تم لوگ شور نہ مچاؤ خاموش ہوجاؤ‘‘۔
عبدالرشید وانی کی گم شدگی اور قتل مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ظالمانہ پامالی کی ایک معمولی مثال ہے ۔لاپتا افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن کے مطابق صرف پچھلے چند سال میں 8 ہزار افراد غائب یا لاپتا کئے جاچکے ہیں ۔ کئی سال تک ان کی موت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بیوائیں دوسری شادی بھی نہیں کرسکتیں اور اپنے کفیل کے لاپتا ہونے کی وجہ سے متاثرہ خاندان بے یارو مددگار پڑے رہتے ہیں ۔ سال 2009میں دستاویزی شواہد کے مطابق جموں و کشمیر کنٹرول لائن کے قریب 2 ہزار 7سو گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ مسخ شدہ لاشیں تھیں جنہیں بھارتی فوج نے یہاں پھینک دیا تھا۔ مقامی افراد نے انہیں قبریں بنا کر دفن کردیا ۔کپواڑہ میں دیہاتیوں نے بتایا کہ 1990 سے 2000 تک یہاں انہیں 500 لاشیں دفن کرنا پڑیں ۔مقبوضہ کشمیر کے ہیومن رائٹس کمیشن کو 38 مقامات سے 2730 لاشیں ملیں جن میں سے صرف38 کی شناخت ہوسکی ، ناقابل شناخت لاشوں کا ڈی این اے کرانے کےلئے کہا گیا تو کٹھ پتلی حکومت نے کمیشن کو ہی کالعدم قرار دے دیا۔ عبدالرشید وانی کی فیملی کے علاوہ دوسرے متاثرہ خاندان بھی ایسی ہی روح فرسا کہانیاں بیان کرتے ہیں 2002 میں منظور احمدڈار کو بھارتی فوجیوں نے پکڑلیا اورمارڈالا ۔ بیانیہ یہ بنایا گیا کہ تفتیش کے دوران مرگیا۔ تفتیش کے دوران کوئی مرجائے تو مارنے والوں کو اس کی کوئی سزا نہیں ملتی ۔ سیکورٹی اہلکاروں کا سول عدالتوں میں محاسبہ ہوسکتا ہے مگر اس کے لئے حکومت سے خصوصی اجازت لینا ہوتی ہے جو کبھی نہیں ملتی ۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم سے کم 50 ایسی درخواستیں پیش بھی کی گئیں جو شہادتوں کی رو سے قتل ثابت ہوتے تھے مگر حکومت نے مقدمات چلانے کی اجازت نہیں دی۔
گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق مقبوضہ کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے یہاں8 لاکھ سے زائد بھارتی فوج تعینات ہے ۔ گویا ہر دس کشمیری باشندوں پر ایک بھارتی فوجی کھڑا ہے۔ لاپتا افراد کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی نے انکشاف کیا ہے کہ اضلاع بارہ مولا،کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، راجوری اور پونچھ میں سات ہزار گمنام قبریں ہیں ان میں سے کئی ایسی بھی ہیں جن میں سے ہر ایک میں پانچ سے 17 لاشیں دفن ہیں ۔دوسرے اضلاع میں پائی جانے والی ایسی قبروں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ،عقوبت خانوں میں قیدیوں کو اذیتیں دے کر مارا جاتا ہے جنہیں ان قبروں میں ڈال دیا جاتا ہے ۔بھارتی حکومت کو مارنے کا یہ فن تاتاریوں ،مغلوں ، افغانوں سکھوں اور ڈوگروں سے ملا ۔مہاراجہ گلاب سنگھ کے جانشین رنبیر سنگھ کو بڑا رحم دل اور نرم مزاج قرار دیا جاتا ہے کشمیر میں اس کے دور میں شدید قحط پڑگیا لوگ فاقوں سےمرنے لگے اسے یہ درد ناک مناظر دیکھنا اچھا نہ لگا ۔ اس نے بھوکے لوگوں کو ڈھونڈ کر پکڑ پکڑ کر کشتیوں میں بٹھایا اور جھیل وولر میں ڈبو دیا ۔ یہ سب مسلمان تھے ۔ ڈوگرہ دور میں ریاست کے 38 وزرائے اعظم ہوئے ہیں ان میں سے ایک بھی مسلمان نہ تھا حالانکہ ریاست کی 82 فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی سرکاری ملازمتیں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کے لئے مخصوص تھیں ۔ مسلمانوں کو نجس اور ملیچھ سمجھا جاتا انہیں دکھاوے کے لئے چھوٹی موٹی ملازمتیں دے دی جاتیں ۔ مسلمانوں کو گھروں میں مورتیاں رکھنے پر مجبور کیا جاتا اور کہا جاتا جو مراد مانگنی ہے انہی سے مانگو ۔صبح ندی سے ہندو عورتیں نہا کر آئیں اور کسی مسلمان کی ان پر نظر پڑجائے تو وہ ناپاک ہوجاتیں اور دوبارہ نہانا پڑتا ۔ نریندر مودی کی ہندو توا حکومت بھی اس دور کو واپس لانا چاہتی ہے۔