• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیکسپیئر کا کہنا ہے ’’یہ ساری دنیا ایک اسٹیج ہے اور تمام مرد و عورت محض اداکار ہیں۔ ہر شخص اپنی باری پر اس دنیا میں آتا ہے، اپنا کردار ادا کرتا ہے، پھر رخصت ہو جاتا ہے۔‘‘لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے کردار کے اثرات صدیوں پر محیط ہوتے ہیں۔معروف سماجی خدمت گار مدر ٹریسا ہوں یا عبدالستار ایدھی، جزام کے خلاف جدوجہد کرنے والی عظیم خاتون میڈم روتھ فاؤ ہوں یا پھر مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات اور ویکسین ایجاد کرنے والے سائنسدان، یہ ایسے لوگ ہیں جو صرف اسٹیج پر اپنا کردار ادا کر کے چلے نہیں گئے بلکہ ان کے کردار کی بدولت انسانیت آج بھی انہیں یاد رکھ رہی ہے۔ہمارے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسی دنیا کے اسٹیج پر آئے تھے لیکن اپنی جدوجہد کے انمٹ نقوش ثبت کر کے تشریف لے گئے۔ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھ کر تاریخ پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور میاں نواز شریف جیسی شخصیات نے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر تاریخ کے صفحات پر اپنا نام امر کر دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کی بنیاد رکھ کر پاکستان کی تاریخ میں اپنے نام کو زندہ کیا۔آصف علی زرداری کے کریڈٹ میں سی پیک کی بنیاد ہے جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔علمی اور روحانی دنیا میں حضور ضیاء الامت حضرت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللّٰہ علیہ نے عہد حاضر میں ایسے دور رس اثرات مرتب کیے کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے لکھا کہ حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی کے خاندان میں 900 سال بعد اس پائے کا شخص پیدا ہوا جس نے نہ صرف اپنے اجداد کی علمی تاریخ از سر نو زندہ کی بلکہ علمی و تدریسی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔جس طرح ان شخصیات کے انفرادی کردار ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں اسی طرح بعض بڑے منصوبے ایک شخصیت کے ساتھ منسوب نہیں ہوتے بلکہ وہ پوری قوم کے لیے فخر کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک شخص نے شروع کیا اور کئی شخصیات سے ہوتے ہوئے یہ مکمل ہوا لیکن آج یہ پوری قوم کے لیے فخر کا استعارہ ہے، موٹروے کا تخیل میاں نواز شریف نے دیا لیکن آج وہ پوری قوم کے لیے راحت کا سامان ہے، اس تناظر میں اگر ہم جلال پور کینال کی بات کرتے ہیں تو بلا شبہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے نہ صرف اس خطے کی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے بلکہ اس کے بانیان کا نام بھی تاریخ میں امر ہو گیا ہے۔یہ منصوبہ تقریبا 125 سال پرانا ہے اور ہر دور کے ماہرین نے اس منصوبے کو قابل عمل تو قرار دیا لیکن اس کی تعمیر کے لیے عملی قدم نہ اٹھایا جا سکا ۔یہ اعزاز اس وقت کے وزیراعظم جناب عمران خان اور ان کے دست راست جناب فواد چوہدری کو جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف اس منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا بلکہ اپنی آنکھوں سے اسے مکمل ہوتا بھی دیکھ لیا اور آج آزمائشی طور پر اس میں پانی بھی چھوڑ دیا گیاہے۔بلاشبہ موجودہ حکومت بھی اس منصوبے پر خراج تحسین کی مستحق ہے لیکن جلال پور کینال کے اصل ہیرو فواد چوہدری اور سابق وزیراعظم عمران خان ہیں۔یوں تو پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن یہاں کا نہری نظام تقسیم سے پہلے کا قائم کردہ ہے اور بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد اس نہری نظام میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں کیا گیا۔ لیکن جلال پور کینال پاکستان کی نہری تاریخ میں ایک ایسا منصوبہ ہے جسے اس خطے کے لیے گیم چینجر منصوبہ کہا جا سکتا ہے۔

16 جولائی 2026 پاکستان کے آبی و زرعی شعبے کے لیے اس وقت ایک یادگار بن گیا جب برسوں کی منصوبہ بندی، زمین کے حصول کے پیچیدہ مراحل اور مسلسل محنت کے بعد جلال پور کینال میں پہلی بار دریائے جہلم کا پانی ایک ہفتے کے ’’سافٹ ٹیسٹ رن ‘‘کے لیے چھوڑا گیا۔یہ صرف ایک نہر میں پانی چھوڑنے کا عمل نہیں بلکہ ضلع جہلم اور پنڈ دادن خان کی ہزاروں ایکڑ بنجر زمینوں کو نئی زندگی دینے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔تفصیلات کے مطابق کینال میں تقریباً 842 کیوسک پانی چھوڑا گیا، جبکہ کینال کی مجموعی ڈیزائن گنجائش 1,348 کیوسک ہے۔رسول بیراج سے خوشاب تک 117 کلومیٹر طویل نہر سے منسلک رابطہ نہروں کی لمبائی93کلو میٹر ہوگی-اس سے خوشاب اور پنڈ دادن خان کے 80 دیہات میں زرعی انقلاب آئے گا-ایک لاکھ 70ہزار ایکڑ سے زائد زرخیز زمین سیراب ہوگی۔نہر سے 4 لاکھ افرادکو براہ راست فائدہ ہوگا- جلالپور کینال محض ایک نہرنہیں بلکہ ایک مکمل واٹر پیکیج ہے-کھیتوں کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعے 26دیہات کو صاف پانی کی فراہمی کے لئے 17 ''واٹر ڈرنکنگ آؤٹ لٹ ''بھی بنائے جائیں گے۔جلال پور کینال کی تکمیل اگر فواد چوہدری کے ویژن کے مطابق ہو گئی تو اس سے وہ زمینیں بھی نہری پانی سے سیراب ہوں گی جو برسوں سے بارشوں یا محدود وسائل پر انحصار کرتی تھیں۔ زمین کا کھارا پانی میٹھا ہو جائے گا جس سے نہ صرف زرعی ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ کسانوں کی آمدنی اور معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

پس نوشت

تحصیل بھیرہ اور تحصیل پنڈ دادن خان دونوں دریائے جہلم کے کناروں پر آمنے سامنے واقع ہیں بھیرہ ہزاروں سال پرانی تہذیب رکھتا ہے۔دونوں تحصیلوں کا کلچر اور رہن سہن تعلق داریاں ایک ہی طرح کی ہیں۔اس لیے بھیرہ اور پنڈ دادن خان کے درمیان دریائے جہلم پر ایک پل بنا دیا جائے تو دونوں اضلاع کے ہزاروں افراد کا فائدہ ہوگا۔اسی طرح دونوں تحصیلوں کے انضمام کے بعد بھیرہ،اللّٰہ حلال پور ،جھاوریاں، بھلوال اور پنڈ دادن خان پر مشتمل ایک نیا ضلع تشکیل دیدیا جائے(جو علاقے کی دیرینہ خواہش بھی ہے)تو یہ تینوں تحصیلوں کے عوام کے لیے ایک شاندار قدم ہوگا۔پنجاب حکومت کو اس تجویز پر غور کرنا چاہیے تاکہ ترقی کے نئے راستے کھل سکیں۔

تازہ ترین