پاکستان بھر میں جاری دہشت گردی، نتہاپسندی، فرقہ واریت اور مذہبی انتشار کیخلاف 79سالہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مختلف مسالک اور مکاتب فکر کے علماء کرام و مشائخ عظام نے پاکستان کی معروف دینی درس گاہ جامعۃ الرشید کراچی کا دورہ کیا اور مسجد میں ایک ہی امام کے پیچھے نماز مغرب ادا کی۔ اس اقدام کو مذہبی ہم آہنگی، وحدتِ امت اور اتحاد بین المسالک کی جانب اہم ترین اور غیر معمولی، تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے ۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان کے کو آرڈینیٹر علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی صاحب نے بتایا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے تمام ارکان نے پورے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت پنجاب، صوبائی حکومت خیبر پختونخوا، صوبائی حکومت بلوچستان ،صوبائی حکومت سندھ کے ساتھ مل کر انتہاپسندی، فرقہ واریت، دہشت گردی اور مذہبی منافرت کے لیے انتھک محنتیں، عرق ریز کوششیں اور پوری جد و جہد جاری ہے۔
چند دن قبل کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردانہ حملہ ہوا۔ کئی افراد شہید ہوئے۔ دہشت گردوں کی گرفتاری کے بعد تفتیش سے معلوم ہوا کہ اس میں کچھ انتہا پسند عناصر ملوث ہیں۔ اسی پسِ منظر میں گزشتہ ہفتے قومی پیغامِ امن کمیٹی نے فوری طور پر کراچی کا دورہ کیا۔ اس دورے میں وزیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، صوبائی حکومت کے وزراء اور اہم ترین افراد سے ملاقاتیں ہوئیں۔
مختلف طبقات سے تبادلہ خیال کے علاوہ کراچی کے کئی تعلیمی اداروں، الکوثر یونیورسٹی، الغزالی یونیورسٹی، جامعہ بنوریہ، جامعۃ الرشید وغیرہ کا وزٹ بھی کیا۔ ایسی ملاقاتوں، تبادلۂ خیالات اور مکالموں سے ہی انتہا پسند عناصر کی سرکوبی اور شدت پسند ذہنوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ایک مائنڈ سیٹ ہے جو مذہبی دہشت گردی، فرقہ واریت، بین المسالک منافرت کو ہوا دیتا چلا آ رہا ہے۔ پسِ منظر کے طور پر یاد رکھیں کہ ’قومی پیغامِ امن کمیٹی‘‘ کی بنیاد پیغامِ پاکستان پر رکھی گئی ہے۔ ’’پیغامِ پاکستان ‘‘ریاستِ پاکستان کا اہم ترین بیانیہ ہے۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ بیانیہ نہ صرف عالم اسلام بلکہ اقوامِ عالم کے لیے نظمِ اجتماعی اور امنِ عامہ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس بیانیہ کو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی سربراہی میں پانچوں مکاتبِ فکر کے 1800 علماء ومفتیان کرام بشمول یو نیورسٹیز کے اسلامی محققین، اسلامی نظریاتی کونسل، اسمبلی و سینیٹ کے ارکان، صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان سمیت تمام طبقات کی موجودگی میں پیش کیا گیا۔
اس بیانیہ کے اہم اور چیدہ نکات یہ ہیں:
(1) دہشت گردی ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی اسلام میں اور آئین پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں۔
(2) ریاستِ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے خلاف مسلح مزاحمت حرام، خروج اور بغاوت اور فساد فی الارض ہے۔
(3) ریاست سے ہٹ کر نجی طور پر عسکری گروپ بنانا بھی ناجائز ہے۔
(4) ملک میں بسنے والے تمام اقلیتوں کو جان، مال، مذہب، عزت اور نسل کے تحفظ کے حوالے سے وہی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔ لہٰذا کسی غیر مسلم پاکستانی یا وہ غیر مسلم جو کسی قانونی طریقے سے ملک میں مقیم ہوں، ان کی جان، مال اور عزت کو نقصان پہنچانا نا جائز اور سخت حرام ہے۔
(5) قومی و بین الاقوامی معاہدات اور جغرافیائی سرحدوں کو نظر انداز کر کے ریاست سے ہٹ کر لشکر کشی کرنا حرام اور عہد شکنی ہے جس کی اسلام میں سخت ترین سزا اور شدید وعیدیں ہیں۔ اس حوالے سے ضربِ عضب اور ردالفساد کی مکمل حمایت کی گئی ہے۔
(6) تمام مسالک کے علماءکرام و مفتیان عظام نے جوقتلِ ناحق اور خود کش حملوں کے حرام ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا، اس بیانیہ میں اس کی مکمل حمایت کی گئی ہے۔
(7) اسلام میں بچوں کے حقوق، عورتوں کے حقوق ، بزرگوں کے حقوق اور معذوروں کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ علماء اور مذہبی قیات پر فرض ہے کہ وہ ان حقوق پر بات کریں اور معاشرے میں اس کے لیے ذہن سازی اور ماحول سازی کا کام کریں۔
پیغام پاکستان اور قیام امن کے حوالے سے مفتی عبدالرحیم صاحب اور جامعۃ الرشید کا کردارنہایت ہی شاندار اور اہم ترین رہا ہے۔یہاں صرف چند نکات بیان کرتاہوں۔
(1) جامعہ اس بیانیہ پر گزشتہ 20 سال سے کام کر رہی ہے۔ جامعہ کی قیادت نے اس بیانیہ کے لیے ذہن سازی ، ماحول سازی، افراد سازی اور شرعی و فقہی اعتبار سے تحقیق کا غیر معمولی کارنامہ انجام دیا۔
(2)جامعۃ الرشید کے ایک درجن محققین نے اس پر بہترین ریسرچ پیش کی جس میں یہ بات کی گئی کہ نجی طور پر ریاست سے ہٹ کر عسکری گروپس تشکیل دینا نا جائز ہے اور یہ نہ صرف عالم اسلام بلکہ اقوام عالم کیلئے خطرات اور انار کی کا باعث ہے۔
(3) اس بیانیہ کیلئے بیس سال میں 600سے زائد اجلاس، پریزنٹیشنز، ملاقاتیں اور اسفار کیے گئے۔ یہ اجلاس علماء، مفتیان ، مشائخ کے علاوہ مختلف عسکری تنظیموں کی قیادت، انکے کارکنوں، مدارس، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ، اساتذہ اور پروفیسروں کے ساتھ ہوئے۔ حکومتی اور ریاستی اداروں کیساتھ کئی درجن میٹنگز نے بھی اس بیانیہ کو تیار کرنے میں بہت مدد کی۔
(4) ایک پورا سالانہ کانووکیشن پیغام پاکستان کیلئے وقف کیا گیا اور اس کی خصوصی طور پر کوریج کی گئی۔ یہ پیغام دس ملین سے زائد لوگوں تک پہنچا۔
(5) جامعۃ الرشید کے نصف درجن اساتذہ کی تشکیل کی گئی کہ وہ مختلف یو نیورسٹیوں وغیرہ میں جا کر اس موضوع پرلیکچر دیں۔
(6) حکومتی اور ریاستی اداروں کو غیر معمولی مشاورت فراہم کی گئی۔ ان مشاورتی اجلاسوں کی تعداد بھی ایک سو سے زائد ہے۔ ایک اور اہم بات، چونکہ غیر مسلم ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، جس کی وجہ سے وہاں کا امن اور اجتماعی نظم وقتاً فوقتاً خراب ہوتا رہتا ہے۔ ان غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلتیں بھی مشکلات سے دو چار ہیں۔
اسلئے قومی پیغام امن کمیٹی اور جامعۃ الرشید یہ پیشکش کرتے ہیں کہ اس بیا نیہ کو ان ممالک تک پہنچانے کے لیےوہ ایسے ماہر افراد فراہم کر سکتے ہیں، جو انگلش سمیت متعدد زبانوں میں یہ عظیم خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ اس سے غلط فہمیوں، بدگمانیوں، مسلم نوجوانوں میں اشتعال اور شدت پسندانہ جذبات کا خاتمہ ہو گا۔ بین المذاہب ہم آہنگی اور قیام امن میں غیر معمولی مدد ملے گی۔ان شاء اللّٰہ!