ماہرین کا کہنا ہے کہ بے جان یا سفید ہوتے بالوں سے پریشان افراد کے لیے سب سے مؤثر حل اپنے بالوں کی قدرتی ساخت کو قبول کرنا اور اسی کے مطابق ان کی دیکھ بھال کرنا ہے۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق اینگلیا رسکن یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی محقق ایلی اناستاسیادیس نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ بال صرف خوبصورتی کا حصہ نہیں بلکہ انسان کی شناخت، خود اعتمادی اور ذہنی کیفیت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بالوں کا گرنا، رنگ یا ساخت میں تبدیلی اور اسٹائل بدلنا لوگوں کے اپنے بارے میں احساسات اور دوسروں کے سامنے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران 21 مرد و خواتین سے ان کے بالوں سے متعلق تجربات پر گفتگو کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جو اپنے بالوں کے ساتھ مثبت تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنے بالوں کی قدرتی ساخت کو سمجھا، ان کی مناسب دیکھ بھال کی اور انہیں زبردستی اپنی پسند کے مطابق بدلنے کی کوشش نہیں کی۔
ایلی اناستاسیادیس کے مطابق ایسے افراد ایک خراب ہیئر ڈے کو اپنی شخصیت یا خود اعتمادی پر اثر انداز نہیں ہونے دیتے۔
ماہرین کے مطابق روزمرہ کی چند عادتیں بالوں کو مزید خشک اور گھنگریالا بنا سکتی ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
بار بار بال دھونا: مسلسل شیمپو کرنے سے بالوں کے قدرتی تیل ختم ہو جاتے ہیں، جس سے بال خشک اور بے جان ہو جاتے ہیں، خصوصاً اگر سلفیٹ (Sulfates) والے شیمپو استعمال کیے جائیں۔
تولیے سے زور سے رگڑ کر خشک کرنا: اس سے بالوں کی بیرونی تہہ متاثر ہوتی ہے، بال الجھتے ہیں، ٹوٹتے ہیں اور ان میں گھنگرالاپن بڑھ سکتا ہے۔
غلط مصنوعات کا استعمال: ایسے شیمپو، کنڈیشنر یا اسٹائلنگ پروڈکٹس جن میں سلفیٹس، الکحل یا بعض اقسام کے سلیکون شامل ہوں، وقت کے ساتھ بالوں کو خشک، بے جان اور کمزور بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بالوں کی قدرتی ساخت کو قبول کریں، ان کی ضرورت کے مطابق مصنوعات استعمال کریں، ضرورت سے زیادہ شیمپو سے گریز کریں اور بالوں کو نرمی سے خشک کریں، ان عادات کو اپنانے سے بالوں کی صحت، چمک اور ساخت بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اگر بال غیر معمولی تیزی سے سفید ہو رہے ہوں، مسلسل جھڑ رہے ہوں یا ان کی ساخت میں اچانک تبدیلی آئے تو ڈاکٹر یا ماہرِ امراضِ جلد سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔