• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخِ اقوام کا ایک اٹل قانون ہے کہ قوموں کی تقدیر محض خواہشات کے قلم سے نہیں لکھی جاتی، بلکہ تدبیر، بصیرت اور عملِ پیہم کی روشنائی سے رقم ہوتی ہے۔اعداد و شمار اپنی ذات میں نہ باعثِ افتخار ہوتےہیں نہ موجبِ ملال۔ انکی قدر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انکے پسِ پردہ ایک زندہ ارادہ، ایک منظم حکمتِ عملی اور ایک باوقار قومی عزم کارفرما ہو۔ پاکستان نے اس سال اکتالیس ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہدف کتنا بلند ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اس کی بنیادیں بھی اتنی ہی مضبوط ہیں؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جس ریاست کے اخراجات ہی اس مقدار سے متجاوز ہوں، کیا اس کیلئے یہی منزل کافی ہے یا اسے صرف سفر کا پہلا سنگِ میل ہونا چاہیے؟

معیشت کی عمارت صرف کارخانوں کی اینٹوں سے تعمیر نہیں ہوتی، اس کی بنیادیں سفارت کاری کے ستونوں پر بھی استوار ہوتی ہیں۔خارجہ پالیسی جہاں وقار، اعتماد اور استحکام کی زبان بولتی ہے، وہاں تجارت کے قافلے خود راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن جہاں دنیا کے دل میں تردد پیدا ہو جائے، وہاں سرمایہ اپنی رفتار سست کر دیتا ہے۔ آج اگر ایک طرف پاکستان کی سفارت کاری کئی میدانوں میں کامیابیاں سمیٹ رہی ہے تو دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ پشاور میں اپنا قونصل خانہ بند کر رہا ہے اور فرانس کراچی میں اپنی سفارتی موجودگی سمیٹنے کی تیاری میں ہے۔ خواہ ان فیصلوں کے پس منظر میں متعدد عوامل کارفرما ہوں، لیکن دنیا انہیں سیکورٹی کے آئینے میں ہی دیکھتی ہے، اور یہی آئینہ سرمایہ کار کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کی کیفیت اس حقیقت کی ایک زندہ تصویر ہے۔ ان کیلئے ایئرپورٹ سے دفتر تک کا مختصر سفر بھی غیر معمولی حفاظتی اخراجات کا تقاضا کرتا ہے ایک ہزار یوآن تو خرچ ہونا معمولی بات ہے ، اور جہاں دنیا کے دوسرے ممالک میں بین الاقوامی پرواز سے دو یا تین گھنٹے قبل ایئرپورٹ پہنچ جانا کافی سمجھا جاتا ہے، وہاں انہیں اس سے کہیں زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ حفاظت یقیناً ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر جب تحفظ کاروبار کی سہولت کے بجائے اس کی لاگت میں مسلسل اضافہ کرنے لگے تو سرمایہ خاموشی سے اپنا رخ بدل لیتا ہے۔ سرمائے کی فطرت جذبات سے نہیں، اعتماد سے وابستہ ہوتی ہے۔

پھر ایک اور سوال بھی ہے،اور شاید اس سے زیادہ اہم کوئی دوسرا سوال نہیں۔ سرمایہ صرف جان کا تحفظ نہیں چاہتا، اپنے حق کا تحفظ بھی چاہتا ہے۔ اگر کسی تنازع کے بعد برسوں عدالتوں کی راہداریوں میں انتظار مقدر بن جائے، اگر قانون کی رفتار تجارت کی رفتار سے ہم آہنگ نہ ہو، تو سرمایہ دار کیلئے ہر نیا منصوبہ ایک نیا خدشہ بن جاتا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اداروں کی اصل قوت ان کے اعلانات میں نہیں بلکہ ان کے نتائج میں ظاہر ہوتی ہے۔ جب تک انصاف تیز، قانون شفاف اور نظام قابلِ اعتماد نہیں ہوگا، تب تک سرمایہ کاری کی راہ میں یہ رکاوٹیں اپنی جگہ قائم رہیں گی۔

برآمدات کی اس داستان میں جی ایس پی پلس محض ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی نے ہماری مصنوعات کیلئے یورپ کی منڈیوں کے دروازے وا کیے، مگر حالیہ یورپی رپورٹ، جس میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں، ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ وقت کبھی کسی کے انتظار میں نہیں ٹھہرتا۔پچھلی مرتبہ جب پاکستان کو یہ سہولت ملی تھی تو برطانیہ یورپی یونین کا حصہ تھا۔ آج سیاسی نقشہ بدل چکا ہے۔ ماضی میں فرانس کا رویہ بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ سفارت کاری میں کامیابی صرف نیک تمناؤں سے نہیں بلکہ مسلسل تیاری، مؤثر رابطوں اور بروقت حکمتِ عملی سے حاصل ہوتی ہے۔

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت کی معاشی کوششوں سے کئی معاشی اشاریے استحکام کی خبر دیتے ہیں، مگر ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ کارکردگی اور اس کا تاثر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ہیں۔ موجودہ دور میں خاموش کامیابی اکثر بلند آہنگ کامی کے شور میں دب جاتی ہے۔ اگر ریاست اپنی کامیابیوں کی زبان خود نہیں بولے گی تو اس کے مخالفین اس کی خاموشی کو اپنی دلیل بنا لیں گے۔ یہی سبب ہے کہ حکومتی بیانیے میں وہ ہم آہنگی اور قوت دکھائی نہیں دیتی جو ایسے نازک مرحلے میں ضروری ہوتی ہے ، عطاء تارڑ کے علاوہ میڈیا کے میدان میں حکومت کی وہ کارکردگی نہیں ہے جوہو سکتی ہےچنانچہ وزیر اعظم کی محنت کے باوجود میڈیا پر وہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی جو ہونی چاہئے ۔ وزیر اعظم کو اس جانب سےخصوصی توجہ دینا ہوگی، کیونکہ معیشت صرف اعداد کا نام نہیں، اعتماد کا نام بھی ہے، اور اعتماد صرف پالیسی سے نہیں، مؤثر ابلاغ سےہی پیدا ہوتا ہے۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ اکتالیس ارب ڈالر کا ہدف دراصل پاکستان کے اقتصادی مستقبل کا امتحان نہیں، اس کی ریاستی صلاحیت کا امتحان ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی اورداخلی امن اگرسرمایہ کار کے لیے اطمینان کا پیغام بنے، اگر عدالت انصاف کو تاخیر کے غبار سے نکال کر یقین کی روشنی عطا کرے، اگر سفارت کاری قومی معیشت کی دست گیر بنے تو یہ ہدف بھی حاصل ہوگا اور اس سے کہیں ارفع منزلیں بھی ہماری دسترس میں ہوں گی۔ لیکن اگر ہم نے وقت کی دستک کو نہ سنا، اگر ہم نے مسائل کو الفاظ کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کی، تو تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ قوم کے پاس امکانات بہت تھے، مگر ارادہ ان امکانات کے شایانِ شان نہ تھا۔ اور تاریخ کا قلم ہمیشہ اسی کے حق میں فیصلہ لکھتا ہے جو زمانے کے بدلتے ہوئے تیور پہچان کر اپنے راستے بدلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

تازہ ترین