• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کا 787واں عرس مبارک شروع ہے۔ ایسے میں سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی کی رہائی ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ عرس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پورا خطہ سیاسی انتشار، معاشی تنگی اور سماجی بے چینی کی ایک ایسی لہر کی زد میں ہے جس نے 25 کروڑ عوام کو مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیل رکھاہے۔ ملک کے مختلف حصوں بالخصوص بلوچستان، وزیرستان اور کشمیر میں بدامنی کی فضا نے وطن عزیز کے باسیوں کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے پرآشوب حالات میں، جہاں ہر طرف سے صرف منفی خبروں کا شور ہے، حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ کے عرس کی بابرکت تقریبات ایک امید کی کرن بن سکتی ہیں۔ اس موقع پر سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی کی پیرول پر رہائی محض ایک قانونی عمل نہیں بلکہ ایک ایسا اقدام ہوگا جو قومی ہم آہنگی اور مفاہمت کا مثبت پیغام دے سکتا ہے۔ صوفیاء کی تعلیمات کا بنیادی محور ہی رواداری، محبت اور انسان دوستی ہے، اور اگر ریاست عرس کے اختتامی مراحل میں اس جذبے کا مظاہرہ کرے تو یہ یقیناََاہل وطن کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگا۔ سیاست سے بالاتر ہو کر، ایسے اقدامات سماجی تناؤ کو کم کرنے اور روایتی اقدار کو تقویت دینے کا باعث بنتے ہیں۔

عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد ملتان کی تاریخی و روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ زائرین کے لیے سہولیات کا فقدان حکومتی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک طرف لاہور میں حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس پر انتظامی اقدامات کا معیار ہے، اور دوسری طرف ملتان میں خستہ حال سڑکیں، دولت گیٹ اور قلعہ کہنہ قاسم باغ کے اطراف میں پھیلی دھول اور جگہ جگہ جمع پانی زائرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ کیا ترقیاتی کاموں میں یہ تفریق اس بات کا ثبوت نہیں کہ وسیب کے باسیوں کا اپنا الگ صوبے کا مطالبہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اپنے حقوق کے حصول کی ایک جائز پکار ہے؟ زائرین کی رہائش کا مسئلہ تو انتہائی سنگین ہے۔ محکمہ اوقاف کے زیر انتظام دربار پر زائرین کے لیے ایک کمرہ تک موجود نہیں، اور نہ ہی بنیادی ضروریات جیسے کہ باتھ رومز کا کوئی معقول انتظام ہے۔ خواتین زائرین، جو دور دراز علاقوں جیسے سندھ وغیرہ سے عقیدت لے کر آتی ہیں، جن اذیت ناک حالات کا سامنا کرتی ہیں، وہ ناقابل بیان ہے۔ تعلیمی اداروں کو عرس کے موقع پر بند کر کے زائرین کو وہاں ٹھہرانا بچوں کے تعلیمی نقصان کا باعث بنتا ہے، جو بذاتِ خود ایک سنجیدہ انتظامی ناکامی ہے۔

تاریخی قلعہ ملتان، جہاں حضرت بہاؤ الدین زکریاؒ اور دیگر اکابرکے مزارات واقع ہیں، آج تجاوزات کی بھرمار کا شکار ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قلعے کے اندرونی و بیرونی حصوں میں اسٹیڈیم، پولیس اسٹیشن، ایس ٹی این کے دفاتر اور ٹیلیفون کے کھمبے تو نصب کر دیے گئے، مگر افسوس کہ یہاں زائرین کے لیے اقامت گاہیں، صاف ستھرے واش رومز، لائبریری یا میوزیم بنانے کی ضرورت کو کبھی محسوس نہیں کیا گیا۔ یہ تاریخی ورثہ محض تعمیرات کا نام نہیں بلکہ یہ ہماری پہچان ہے، مگر یہاں تجاوزات اور سہولتوں کا فقدان اس مقدس مقام کی شان کے منافی ہے۔ زائرین کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زائرین کو یہاں سے روحانی سکون کے ساتھ ساتھ سہولت کا احساس بھی ملے، تو قلعے کے اطراف میں تجاوزات کا خاتمہ اور وہاں لائبریری اور کانفرنس ہال کا قیام ناگزیر ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف زائرین کے لیے باعثِ راحت ہوں گے بلکہ ملتان کی تاریخی حیثیت کو بھی بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ کا سب سے درخشاں حوالہ ان کی علم دوستی ہے، جس نے ملتان کو دنیا بھر میں علم و عرفان کا مرکز بنا دیا تھا۔ آج اگر یورپ دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے تو اس کی اصل وجہ ان کے مضبوط تعلیمی ادارے ہیں، لیکن کیا ہم بھول گئے کہ ایک ہزار سال قبل ہمارا وسیب تعلیمی ترقی میں کس مقام پر تھا؟ حضرت زکریاؒ کے مدرسہ بہائیہ کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ بنگال، آسام، انڈونیشیا، تاجکستان، غزنی، فارس، روم، برما، ترکی اور عرب سے طلبہ علم کی پیاس بجھانے یہاں کھنچے چلے آتے تھے۔ شاہ ہمدان جیسے عظیم صوفی و عالم نے اسی مدرسے سے فیض پایا۔ حضرت بابا فریدؒ، حضرت سید جلال بخاریؒ، حضرت شہباز قلندرؒ، حضرت امیر خسروؒ اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ جیسے اکابر اس علمی مرکز کی پیداوار تھے، جنہوں نے پوری دنیا میں علم و عرفان کا نور پھیلایا۔ اس مدرسے کی لائبریری، جس میں آبِ زر سے لکھی ہوئی نایاب کتابیں موجود تھیں، آج اس کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ اگر ہم اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک بار پھر ملتان کو علمی مرکز بنانا ہوگا۔

آج کے دور میں وسیب کی ترقی اور خوشحالی کا واحد راستہ تعلیم ہی ہے۔ جب تک ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو زیورتعلیم سے آراستہ نہیں کریں گے، ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔ حضرت زکریاؒ کی تعلیمات کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ انسان علم کے بغیر معرفت الٰہی حاصل نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دربار کے پہلو میں ایک بار پھر عظیم الشان مدرسہ اور جدید لائبریری قائم کی جائے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے اسلاف کے علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ یہ صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں ہوگی بلکہ یہ ایک تحریک ہوگی جو وسیب کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جائے گی۔ حکومت اور مخیر حضرات کو اس مشن میں آگے آنا ہوگا تاکہ ملتان اپنی پرانی علمی شان کے ساتھ دوبارہ دنیا کے نقشے پر ابھر سکے۔ حضرت زکریاؒ کا پیغام علم، محبت اور رواداری ہے، اور اس پیغام کو عام کرنا ہی اس عرس کا اصل مقصد اور ہماری بقا کا ضامن ہے۔

تازہ ترین