• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر ذی شعور جانتاہے کہ کوئی بھی چیز اعتدال میں ہی فائدے مند ہوتی ہے ۔ فائدہ مند شے بھی حد سے زیادہ استعمال کی جائے تو بیماری جنم لیتی ہے ۔ وٹامنز اور فائدے مندشوگر سے بھرپور پھل کو بھی آپ دن رات بے تحاشا کھائیں تووہ بیماری بن جائیگا۔ گندم اور چاول توانائی کا ذخیر ہ ہیں ۔ شروع میں انسان کے پاس گودام نہ ہوا کرتے تھے ۔ شکار مل گیا تو پیٹ بھر گیا ورنہ بھوکے رہو۔ اسے آج انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کہتے ہیں ، جو صحت کیلئے بہت اچھی ہے ۔ آج مگر صورتِ حال یہ ہے کہ خوراک کے وسیع ذخائر کی بدولت دنیا کے ایک ارب افراد موٹاپے کا شکار ہیں ۔یہ تعداد ان 75کروڑ انسانوں سے بھی زیادہ ہے ، جو بھوکے مر رہے ہیں ۔

چربی جب جسم میں ذخیرہ ہونے لگتی ہے تو دل اور جگر سمیت تمام اعضا کی بربادی شروع ہو جاتی ہے ۔ مشینوں کی بدولت جسمانی مشقت کی اب انسان کو ضرورت ہی نہیں ۔ ایک دن آتا ہے ، جب اس کی ٹانگیں اور بازو کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ وہ سسکتا اور تڑپتا ہوا موت کی آغوش میں چلاجاتا ہے ۔

یہی صورتِ حال انٹرٹینمنٹ کی ہے ۔کبھی انسان کو راحت فراہم کرنے کیلئے میلے سجائے جاتے تھے ۔ لوگ کئی کئی گھنٹے سفر طے کر کے اپنا دل بہلانے جاتے ۔پھر وہ دن آیا کہ ٹی وی ایجاد ہوا ۔ بڑی بڑی حویلیوں میں ٹی وی دیکھنے لوگ اکھٹے ہوتے ۔ لڑکے پیسے اکھٹے کر کے چوروں کی طرح سینما میں کوئی فلم دیکھنے جاتے ۔ آج موبائل فون کی صورت میں ہر انسان کے ہاتھ میں اس کا اپنا سینما ہے ۔ اس میں فحش مواد بھی موجود ہے۔ فحش ویب سائٹس بن چکی ہیں ، جنہیں کسی طرح بھی روکا نہیں جا سکتا ۔ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد آپ کی اولاد آپ کے ہاتھ سے نکل چکی ہے ۔بچے موبائل پکڑ کر لیٹے رہتے ہیں اور کھانا کھانے کوبھی تیار نہیں ۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد کو عینک لگ چکی ہے ۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا، ہر چیز اعتدال میں اچھی لگتی ہے ۔ سمارٹ فون ، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا ،گیمز اوررنگ برنگی ایپس ایجاد ہونے کے بعد آدمی انٹرٹینمنٹ کے اس چیختے ہوئے نقار خانے میں دم بخود کھڑا ہے ۔ایسے جیسے ایک چھوٹے سے بچے کے گرد ہزاروں ڈھول بجنا شروع ہو جائیں ۔ اس کے حواس گم ہوچکے ہیں ۔ہر طرف سے اتنا بے شمارچیختا ہوا کانٹینٹ مسلسل نازل ہو رہاہے کہ آدمی ہکا بکاہے ۔واٹس ایپ، فیس بک ، انسٹاگرام، یوٹیوب ، ایکس ، ہر طرف سے ڈیٹا نازل ہو رہا ہے ۔ دوسروں کو کچوکے لگاتے جائیں ، خود زخم کھاتے جائیں ۔

سوشل میڈیا پہ لوگوں کانروس بریک ڈائون ہوتے میں نے دیکھا ہے ۔اس کے باوجودآج بھی اُن کا زیادہ تر ووقت اسی سوشل میڈیا پہ دھینگا مشتی میں گزرتا ہے ۔ دوسروں کو وہ اذیت پہنچاتے اور خود اذیت اٹھاتے ہیں۔رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللّٰہ تعالیٰ اسے تکلیف دیگا۔سنن الترمذي: 1940۔ سوشل میڈیا تو ایک ہنڈولا ہے ۔ یہ بات طے ہے کہ آج دشمن کو تکلیف پہنچی تو کل آپ کو بھی پہنچ کر رہے گی ۔

یہ سوشل میڈیا کیا ہے اور زندگیوں کو کس طرح متاثر کر رہا ہے؟ آج کے انسان کی حالت ایک نشئی کی سی ہو چکی ہے ۔ ایک ایپ بند کرو، ہاتھ بے اختیار دوسری ایپ کھول لیتاہے ۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتاہے کہ بے خیالی میں فیس بک بند کی اور ہاتھ نے خود بخود دوبارہ اسے ہی کھول دیا ۔ انگلی خود ہی سمارٹ فون کی سکرین پہ پھسلنا شروع ہو جاتی ہے ۔ آج ہم گویاسکرولنگ کرنے والے زومبی بن چکے ہیں۔ وہ چیزیں، انگلیاں موبائل پر مار مار کے دیکھتے رہتے ہیں ، جن کی ہمیں کوئی ضرورت ہی نہیں ۔ انٹرٹینمنٹ کے خوفناک دھارے ہر طرف سے کھل چکے ہیں ۔ لاہور دا پاوا، اختر لاوا، یہ ہم ہیں ، یہ ہماری پارٹی ہو رہی ہے ، میرا دل یہ پکارے آجا ۔

آج کے انسان کی خوراک کیا ہے ؟ ابرار الحق کا گانا یاد آتا ہے: پینی پیپسی تے کھانے برگر، بلے نی خوراکاں تیریاں ۔اگر اس دنیا میں عقل و دانش رکھنے والے لوگوں کی حکومت ہوتی تو سوڈا اور چینی تیار کرنا ایک سنگین جرم ہوتا ۔ ٹی وی چینلز پر کرکٹ ہیروز سوڈے کے کمرشلز کرتے نظرآتے ہیں ۔ ان اشتہاروں میں دکھایا یہ جاتا ہے کہ سوڈا اور سگریٹ پینے والے ہی مافوق الفطرت کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں ۔ آج چالیس برس کے جوانوں میں ذیابیطس، کولیسٹرول ، یورک ایسڈ اور بلڈ پریشر جیسی میٹابولک بیماریاں عام ہو چکی ہیں ۔آج دنیا میں امن و امان کی صورتِ حال کیا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تین لاکھ برس زمین پر گزارنے اور دنیا کی تاریخ پہ نظر رکھنے والا انسان امن پسند ہوتا۔ یوکرین سے لے کر ایران اور اسرائیل سے لیکر لبنان اور غزہ تک ہر جگہ قتل و غارت ہو رہی ہے ۔ یورپ اور روس کی براہِ راست فل سکیل جنگ کسی بھی لمحے شروع ہو سکتی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی عرب اتحادیوں پہ ایرانی میزائل برس رہے ہیں اور ایران پہ امریکی ۔

تہذیب کی صورتِ حال کیا ہے ؟جیسا کہ پہلے عرض کیا، ہر طرف Bullyبکھرے ہوئے ہیں ۔ سوشل میڈیا پہ خود کو تیس مار خان ثابت کرنے کے خواہشمند ہمہ وقت ٹرولنگ میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہ الگ بات کہ بالآخر ان کی باری بھی آ کر رہتی ہے ۔

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو

چراغ سب کے بجھیں گے ، ہوا کسی کی نہیں 

دن رات لوگ دوسروں کو روسٹ کر رہے ہیں اور خود روسٹ ہو رہے ہیں لیکن زومبیوں کی طرح اسی کارِ خیر میں مصروف ہیں ۔ انسانیت کا جتنا وقت سوشل میڈیا کی وجہ سے ضائع ہو رہاہے ، انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اس دنیا میں اگر ہوشمندغالب ہوتے تو سوشل میڈیا استعمال کرنے کا وقت مقرر کیا جاتا۔ ایک دن میں ایک یا دو گھنٹے ۔یہ ہے آج کے انسان کی قابلِ رحم زندگی ۔ شاعر نے کیا خوب کہا تھا: 

اس دور میں زندگی بشر کی

بیمار کی رات ہو گئی ہے

تازہ ترین