حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی جہازوں اور سعودی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو روکنے کی دھمکی نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی۔
الجزیرہ پر شائع ہونے والی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام حوثییوں کے سعودی عرب کے اسٹریٹجک صبر کا امتحان لینے کی نئی کوشش ہے۔
رپورٹ میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ کئی برس سے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے خطے میں استحکام اور اپنی معاشی ترقی کو ترجیح دی ہے تاہم پراکسی جنگ، سمندری دباؤ اور اقتصادی عدم استحکام پیدا کرنے کی حکمتِ عملی کے حوالے سے حوثی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کا مقصد سعودی معیشت، توانائی کی برآمدات اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے اور بحران کے وقت عالمی توانائی منڈی کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اس لیے اس کی برآمدات میں رکاوٹ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تجزیے کے مطابق گزشتہ 10 برس میں سعودی قیادت میں مشترکہ افواج اپنی عسکری صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی ہے، جدید انٹیلی جنس، مشترکہ کمانڈ، درست فضائی حملوں، میزائل دفاع، سائبر صلاحیتوں اور مربوط کارروائیوں نے اسے پہلے سے زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت میں مشترکہ فوجی اتحاد میں سعودی عرب، یمن، پاکستان، سوڈان اور خلیجی ممالک کی محدود افواج سمیت 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد اہلکار شامل ہیں جو ایک مربوط عسکری نظام کے تحت کام کر رہے ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر حوثیوں کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو سعودی عرب صرف میزائل یا ڈرون تنصیبات ہی نہیں بلکہ حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، لاجسٹک نیٹ ورک، مواصلاتی نظام اور انٹیلی جنس ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اب بھی خطے میں استحکام کو ترجیح دیتا ہے تاہم اگر حوثیوں کے ذریعے دباؤ بڑھتا رہا تو ریاض اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ تحمل کی قیمت فیصلہ کُن کارروائی سے زیادہ ہو چکی ہے اور ایسی صورت میں آئندہ فوجی مہم گزشتہ یمن جنگ سے کہیں زیادہ منظم، جدید اور وسیع پیمانے پر ہو سکتی ہے۔