• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پرامن ایٹمی توانائی کا معاہدہ صرف دو ملکوں کے دستخط نہیں، اکیسویں صدی کے ایک نئے سوال پر ثبت ہونے والی مہر ہے۔

یہ سوال ری ایکٹر سے بڑا ہے، یورینیم سے گہرا ہے اور سیاست سے زیادہ انسانیت سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا روشنی بھی دنیا میں برابر تقسیم ہوگی یا سورج کی طرح توانائی پر بھی چند طاقتوں کی جاگیرداری قائم رہے گی؟

ہم نے ایٹم کو اتنا بدنام کر دیا ہے کہ اب اس کا نام سنتے ہی ذہن میں بلب نہیں جلتا، ہیروشیماجل اٹھتا ہے۔ ہمیں بجلی گھر نہیں، مشروم کلاؤڈ یاد آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان نے ایٹم دریافت نہیں کیا، بلکہ اپنے خوف کو ایٹم کا نام دے دیا ہو۔حالانکہ ایٹم بجائے خودکبھی قاتل نہیں تھا۔ قاتل ہمیشہ انسان کا ارادہ تھا۔

ایٹم کے ہاتھ نہیں ہوتے، ہاتھ انسان کے ہوتے ہیں۔ ایک ہی ذرہ اگر نفرت کی انگلی پکڑ لے تو شہر ملبہ بن جاتا ہے، اور اگر علم کا ہاتھ تھام لے تو شہر جگمگا اٹھتا ہے۔ سائنس کے سینے میں نہ رحم ہوتا ہے نہ ظلم۔ یہ دونوں چیزیں انسان اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے۔

ہم ایک عجیب تہذیب میں رہتے ہیں۔ سورج سب کا ہے مگر اس پر کسی کا جھنڈا نہیں۔ ہوا سب کی ہے مگر اس پر کوئی ویزا نہیں لگتا۔ سمندر سب کیلئے ہیں مگر ان کی لہروں پر کسی کا نام نہیں لکھا۔ پھر توانائی کے حق پر دیواریں کیوں کھڑی کی جاتی ہیں؟ اگر ایک ریاست بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنے عوام کیلئے بجلی، صنعت، تحقیق اور علاج کا مستقبل تعمیر کرنا چاہے تو اس کی خواہش کو خوف کے پنجرے میں کیوں بند کر دیا جائے؟


سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا امریکی معاہدہ دراصل بم بنانے کا نہیں، بجلی پیدا کرنے، سائنسی ترقی، صنعتی خودمختاری اور مستقبل کی توانائی کا معاہدہ ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہماری سیاسی لغت میں ’’جوہری‘‘کا لفظ سنتے ہی ’’بم‘‘ لفظ دوڑتا ہوا آ جاتا ہے، جیسے کتاب دیکھتے ہی کسی کو آگ یاد آ جائے۔

دنیا کو اب یہ فرق سیکھنا ہوگا کہ ایٹمی ہتھیار اور ایٹمی توانائی ایک چیز نہیں۔ دونوں کے درمیان وہی فرق ہے جو چاقو اور سرجن کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک زندگی ختم کرتا ہے، دوسرا زندگی بچاتا ہے۔ ایک شہر ویران کرتا ہے، دوسرا شہر روشن کرتا ہے۔

یہ اکیسویں صدی ہے۔ اب طاقت صرف میزائلوں کی لمبائی سے نہیں ناپی جاتی، بجلی کی پائیداری سے بھی ناپی جاتی ہے۔ آنے والے زمانے میں وہ قومیں مضبوط ہوں گی جن کے پاس صرف تیل کے کنویں نہیں، علم کے چشمے بھی ہوں گے۔ جو صرف خام تیل نہیں بیچیں گی بلکہ ٹیکنالوجی پیدا کریں گی۔ جو صرف دولت نہیں، توانائی کی نئی تہذیب تخلیق کریں گی۔پرامن ایٹمی توانائی صرف بجلی نہیں بناتی۔ یہ اسپتالوں میں امید پیدا کرتی ہے، کینسر کے علاج کو نئی سمت دیتی ہے، سمندر کے پانی کو میٹھا بناتی ہے، صنعت کو رفتار دیتی ہے، اور تحقیق کو نئی آنکھ عطا کرتی ہے۔

بعض اوقات ایک ری ایکٹر ہزار توپوں سے زیادہ انسان دوست ثابت ہوتا ہے، کیونکہ توپ صرف سرحد کی حفاظت کرتی ہے، جبکہ توانائی پوری نسل کا مستقبل روشن کرتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کسی ملک کو پرامن ایٹمی توانائی کیوں چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ترقی صرف چند ملکوں کا پیدائشی حق ہے؟ اگر قانون ایک ہے تو اس کی روشنی بھی ایک جیسی ہونی چاہیے۔ انصاف دو الگ ترازوؤں میں نہیں تولا جا سکتا۔ اگر ایک ملک کیلئے ری ایکٹر ترقی کی علامت ہے تو دوسرے کیلئے وہ شک کی علامت کیوں بن جائے؟

یقیناً سائنس کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ شفاف نگرانی، بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی اور عدمِ پھیلاؤ کے اصول ہر ریاست پر یکساں لاگو ہونے چاہئیں۔ قانون کی عظمت اسی وقت قائم رہتی ہے جب وہ طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق نہ کرے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ انسان اپنی لغت بدل دے۔ ایٹم کا مطلب صرف دھماکا نہ رہے، روشنی بھی ہو۔ ’’جوہری‘‘ کا لفظ سنتے ہی جنگ نہیں، اسپتال یاد آئیں۔تباہی نہیں، تحقیق یاد آئے۔راکھ نہیں، بجلی کا وہ چراغ یاد آئے جو کسی دور افتادہ گاؤں میں پہلی بار اندھیرا ختم کرتا ہے۔

دنیا کو بموں سے زیادہ بجلی گھروں کی ضرورت ہے۔ اسے خوف سے زیادہ توانائی چاہیے۔ اسے جنگی سائنس نہیں، انسانی سائنس چاہیے۔ اگر امریکہ اور سعودی عرب کا یہ معاہدہ واقعی پرامن جوہری توانائی، شفاف نگرانی اور عالمی قوانین کی پاسداری کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو اسے صرف دو ملکوں کی خبر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اسے اس سوال کا آغاز سمجھنا چاہیے کہ کیا سائنس پر بھی سب انسانوں کا برابر حق ہے؟

کیونکہ آخرکار ایٹم کا سب سے خوبصورت روپ وہ نہیں جو آسمان میں آگ کا بادل بنائے، بلکہ وہ ہے جو ایک غریب بچے کی کتاب پر روشنی ڈالے، ایک مریض کو نئی زندگی دے، ایک کارخانے کا پہیہ چلائے، اور ایک قوم کو یہ احساس دلائے کہ سائنس کا سب سے بڑا مقصد طاقت نہیں، انسان ہے۔ اور جب انسان مرکز میں آ جائے تو ایٹم بم نہیں رہتا، چراغ بن جاتا ہے۔

تازہ ترین