• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی اور ٹھٹہ میں 99 قبر کشائیاں کر چکی: پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا میر رضا قتل کے جوڈیشل کمیشن کو جواب

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ—فائل فوٹو
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ—فائل فوٹو

میر رضا قتل کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے۔

میر رضا کے والد، بہن، تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری، ایس ایچ او عدیل افضال، ہیڈ محرر ذیشان، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ نسیم احمد جوڈیشل کمیشن میں پیش ہوئے۔

کمیشن نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سے سوال کیا کہ آپ کب سے پولیس سرجن کے عہدے پر کام کر رہی ہیں؟

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ 10 جون 2022ء سے بطور پولیس سرجن کراچی کام کر رہی ہوں۔

کمیشن نے پولیس سرجن سے سوال کیا کہ کتنے پوسٹ مارٹم کیے ہیں؟

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ کراچی اور ٹھٹھہ میں 99 قبر کشائی کر چکی ہوں، ڈاؤ میڈیکل کالج سے 1996ء میں ایم بی بی ایس کیا۔

جس پر کمیشن نے کہا کہ خوشی ہے کہ سندھ حکومت نے ایک قابل افسر کو تعینات کر رکھا ہے، جب ایک ڈیڈ باڈی اسپتال میں آتی ہے تو کیا ایس او پی ہوتی ہے؟

پولیس سرجن نے جواب دیا کہ 3 صورتوں میں لاش ہمارے پاس آتی ہے، رشتے دار لے کر آتے ہیں، پولیس یا پھر ایمبولینس لے کر آتی ہے، جو بھی لاش آتی ہے میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں، پولیس اگر وہاں نہیں ہوتی تو ہم پولیس کو اطلاع کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سمیعہ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس سے ضابطہ فوجداری کے دستاویزات درکار ہوتی ہیں، 2021ء میں پوسٹ مارٹم کے لیے پروفارما تیار کیا تھا، ناقابل شناخت باڈی کے لیے ڈی این اے سیمپل لیا جاتا ہے، پوسٹ مارٹم کے دوران قانون کے تحت لاش کی تصاویر لینا لازمی ہے، لاش کی ظاہری حالت اور ڈی کمپوزیشن سے متعلق نوٹس لینے ضروری ہیں، سر سے پیر تک کے زخم کی جانچ کی جاتی ہے، ہر زخم کو ثابت کرنے کے لیے تصویر ضروری ہوتی ہے، زخموں کا تعین کیا جاتا ہے کہ زخم موت سے قبل لگے یا بعد میں، پوسٹ مارٹم میں زیادتی یا فریکچر کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے، موت سے پوسٹ مارٹم تک کے وقت کا تعین کیا جاتا ہے، کیمیکل ایگزامنیشن کے بعد حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

کمیشن نے ان سے سوال کیا کہ ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم میں سوئپر کی معاونت کا بیان دیا تھا؟

جس پر ڈاکٹر سمیعہ نے جواب دیا کہ ڈاکٹر اسامہ نے غلط بیان دیا، جو شخص موجود تھا وہ لیب اسسٹنٹ ہے، لیب اسسٹنٹ شعیب راشد پوسٹ مارٹم کے لیے تربیت یافتہ ہیں، جناح اسپتال میں یومیہ 15 سے 18 پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں، میرے لیے تمام پوسٹ مارٹمز میں شامل ہونا ممکن نہیں، ہائی پروفائل یا مشکوک کیس کی صورت میں خود پوسٹ مارٹم کی نگرانی کی جاتی ہے۔

 کمیشن نے پولیس سرجن سے سوال کیا کہ کیا آپ کے ایم ایل او تربیت یافتہ ہیں؟

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ ایم ایل او تربیت کے باوجود دلچسپی نہیں لیتے، میڈیکل لیگل افسران کو تربیت دی جاتی ہے، پروٹوکول بھی دیے جاتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید