• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جولائی کی تڑپا دینے والی حبس زدہ گرمی کے بعد لاہور میں موسلادھار مینہ برس رہا ہے۔ برستی بارش نے جھلستی خشک زمین کو سیراب کیا۔ سبزے پر جمی گرد کی تہوں کو دھویا، آسمان سے زمین تک بچھے منظروں کو تر و تازہ اور شاداب کیا۔ایسے میں جب آپ برآمدے میں چائے کے کپ کے ساتھ برستی بارش کے کسی منظر کا حصہ بنے اس منظر میں بھیگتے ٹکونا کےکیسری پھولوں کیساتھ بھیگ رہے ہوں، اخبار اپنی نئی پرانی تازہ باسی خبروں کے ساتھ موجود ہو توذہن کی رو اچانک بارش میں بھیگی منی پلانٹ کی بیلوں سے بلوچستان کے سنگلاخ میدانوں کی طرف مڑ جاتی ہے۔جہاں ریاست کی حفاظت پر مامور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ریاست کے بیٹے قتل کیے جا رہے ہیں۔ بارش میں بھی ٹکونا کے کیسری پھولوں سے سجا ہوا گھر کا یہ کونا یکا یک خوف کی فضا میں بدل جاتا ہے ایسے جیسے بطور شہری میرے گرد تحفظ کی ساری دیوار بھربھری ہوکر بکھر رہی ہوں۔یہ حسی تجربہ مجھے منیر نیازی کے اس شعر کی تمثیل لگا جو ایک روز ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیو میں بیٹھے ہوئے منو بھائی نےسنایا تھا۔مشرف کا دور تھا اور ملک میں وار آن ٹیرر کی لہو رنگ نحوست جگہ جگہ خود خودکش دھماکوں کی صورت میں نظر آتی۔اس روز بھی شہر میں کسی خودکش حملے میں بے گناہ شہری مارے گئے تھے۔ ریڈیو پاکستان لاہور کےا سٹوڈیو میں ہر فرد خاموش تھا خوف اور بے یقینی کی زرد فضا نے سب کے دلوں کو آکٹوپس کی طرح جکڑا ہوا تھا حالانکہ ہم محفوظ تھے لیکن بے یقینی کا خوف ہمارے دلوں کو کھائے جا رہا تھا اس روز منو بھائی نےگفتگو کرتے ہوئے منیر نیازی کا یہ شعر سنایا

ایک تیز رعد جیسی فضا سارے شہر میں

لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہیے

دہشت گردوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ریاست کے ہر شہری کو عدم تحفظ کی اذیت سے دوچار کر دیا جائے۔ ریاست میں بسنے والے ہر شخص کو خوف اور بے یقینی سے دوچار کرکےریاست پر انکے اعتماد کو متزلزل کردیا جائے۔ایسا ہی احساس مجھے ہوا اور بارش کا حسین بھیگا ہوا منظر یکا یک مستونگ کے سنگلاخ پہاڑوں میں بدل گیا جہاں کوئٹہ کے سیشن جج جناب کاکڑ صاحب اپنےڈرائیور کے ساتھ دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بنے، احساس کی یہ رو مجھے ٹانک لے گئی جہاں ملک کے محافظوں کے جسد خاکی پڑے تھے وہ دہشت گردوں کی مذ موم کارروائیوں کا نشانہ بنے وطن کی حفاظت میں شہادت ان کا نصیب ہوئی۔دہشت گردی کا یہ سلسلہ کہیں تھمنے میں نہیں آرہا میں خود کو کبھی زیارت کے ان پولیس جوانوں کے درمیان محسوس کرتی تھی جو یرغمال بنا کرشہید کردیے گئے ۔سوال ہی سوال سرسراتے پھرتے ہیں جیسے بارش کے بعد کیچوے گیلی مٹی سے نکل کر چاروں اور پھیل جاتے ہیں۔ایک جرات مندانہ آؤٹ آف دا باکس مربوط حکمت عملی سے ریاست کے تمام اداروں کو اس عفریت کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے ۔بلوچستان کے بیٹے بیٹیاں دشمن کے بیانیے سے گمراہ ہوکر ان کے سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں یہ تکلیف ہر تکلیف دہ احساس سے بڑھ کر ہے ۔ حالی یاد آتے ہیں۔

حملہ اپنے پہ بھی اک بعدِ ہزیمت ہے ضرور

رہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت

بلوچستان کی علیحدگی پسند جماعتوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کیوں اور کیسے شامل ہورہے ہیں۔ بلوچ نوجوان ہمارے بچے ہیں۔ ان کی شکایتیں دل سے سنیں ہر پالیسی میں بلوچستان کے لوگوں کی نمائندگی کو پورا حصہ دیں ہر اسٹیک ہولڈر کو آن بورڈ لیں کہ کہیں کوئی تشنگی نہ رہے۔ اس چو مکھی جنگ کا یہ محض ایک محاذ ہے اس کے اور بھی محاذ ہیں۔معرکہ حق میں پاکستان کی بے مثال کامیابی اور پوری دنیا میں پاکستانی فوج کی صلاحیتوں کا ڈنکا بجنے کےبعد بھارت کے شکست کے زخموں سے لہو رستا رہتا ہے۔بد نسل اور ازلی دشمن شکست کا زخم نہیں بھولا پاک فوج واضح طور پر دہشت گردی کے ان پروگرامرز کو فتنہ الہندوستان اور فتنہ خوارج کا نام دے چکی ہے ۔کیونکہ جنگیں صرف اب میدان جنگ میں نہیں ہوتیں لوگوں کی ذہن سازی کر کے ان کو اپنے ہی گلی کوچوں، اپنے ہی لوگوں کے خلاف بھڑکا کر بھی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا بوٹ کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلا کرافواج پاکستان اور ریاست کے دوسرے اداروں کیخلاف پروپیگنڈا کر کے نفرت انگیز بیانیے ترتیب دئیے جاتے ہیں۔انفارمیشن وار فیئر کے سد باب کیلئے جدید طریقے استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔دہشت گرد کارروائیوں میں افغان رجیم سہولت کاری کا کردار ادا کررہی ہے۔ بظاہر مسلمان ملک اپنے ہی برادر ملک کیخلاف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے یہی وہ خوارج ہیں جو اسلامی تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے اور کفر کی قوتوں کے آلہ کار بنے رہے۔دینداری کے لبادے میں دین کی غلط تشریح کرنے والےدشمنوں کے سہولت کار ہیں۔ میڈیا کے تمام ذرائع ابلاغ سے ان خوارج کے بارے میں آسان زبان میں معلوماتی پروگرام ہونے چاہئیں۔

اس پر فلمیں اور ڈرامے بھی بننےچاہئیں کیونکہ اس میڈیم سے لوگ زیادہ سمجھتے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کو علم ہونا چاہئے کہ خوارج کون ہوتے ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ریاست پاکستان کو اس بیانیے کی ترویج کیلئے ہر ممکن ذرائع ابلاغ استعمال کرنے چاہئیں، اسکولوں کے نصاب میں خوارج کے بارے میں پڑھایا جائے۔ جنگ اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب یہ میدان جنگ سے شہریوں کے ذہنوں، احساس اور سوچ تک پہنچ جائے انہیں اپنے مطابق ڈھال کر سہولت کاری کرے، جنگ کا یہ درجہ نہایت خطرناک ہے۔ کچھ آؤٹ آف دی باکس مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔ بارش اب بھی برس رہی ہے، منی پلانٹ کی بیلیں ٹکونا کے کیسری پھول بارش میں بھیگ رہے ہیں مگر بارش کے رومانس کا احساس اب بلوچستان کی دہشت گردی کے رنج آمیز احساس میں ڈھل چکا ہے۔ بلوچستان کی سنہری سرزمین پر دہشت گردی کے گھاؤ اب بھرنے چاہئیں۔

تازہ ترین