واشنگٹن ڈی سی کی صبح کسی مصور کے کینوس پر بکھرے رنگوں کی مانند تھی۔ امریکہ کا دارالحکومت اپنی پوری شان کے ساتھ میرے سامنے تھا۔ کچھ دیر پہلے میں وائٹ ہاؤس کے سامنے کھڑا تھا۔ دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی عمارت جس نے دنیا کی سیاست پر اپنی گہری چھاپ ثبت کر رکھی ہے۔وہاں سے میرا رخ پاکستان کے سفارت خانے کی طرف تھا۔جیسے ہی گاڑی واشنگٹن کے ایک انتہائی خوبصورت اور مہنگے علاقے میں داخل ہوئی، اچانک میری نظر ایک بلند عمارت پر پڑی جہاں نیلے اور سفید رنگ کا پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا۔ میں چونک گیا۔ یہ اسرائیل کا سفارتخانہ تھااور اس کے بالکل برابر میںپاکستان کا سفارتخانہ۔چند لمحوں کیلئے جیسے وقت رک گیا۔ ذہن میں ایک ہی خیال آیا کہ دنیا کے دو ایسے ممالک، جن کے درمیان سفارتی تعلقات تک قائم نہیں، جن میں سے ایک خود کو اسلامی دنیا کی نمائندگی کرنے والا ملک سمجھتا ہے اور دوسرا مشرق وسطیٰ کی سب سے متنازع ریاست، وہ واشنگٹن میں ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ عالمی سیاست شاید اسی کا نام ہے، جہاں فاصلے نظریات کے ہوتے ہیں، عمارتوں کے نہیں۔
پاکستانی سفارتخانے میں داخل ہوا تو پریس قونصلر سرفراز صاحب نے نہایت محبت سے استقبال کیا۔ چند لمحوں بعد ہم اس خوبصورت اور باوقار عمارت کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ کے دفتر میں پہنچے۔ انہوں نے انتہائی گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور پاکستان اور امریکہ کے بدلتے ہوئے تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور مستقبل کی سفارتی حکمت عملی پر تفصیل سے گفتگو کی۔ اسی دوران احساس ہوا کہ ان دنوں واشنگٹن میں پاکستان کی حکومت کا ایک بڑا حصہ موجود تھا۔ وزیر خزانہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی، پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اور کئی دیگر اہم شخصیات مختلف اجلاسوں اور ملاقاتوں میں مصروف تھیں۔ایک زمانہ تھا جب امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا بڑا حصہ پاکستان سے آنے والی حکومتی شخصیات کے خلاف شدید ردعمل رکھتا تھا۔ احتجاج، نعرے بازی اور سیاسی تلخی معمول بن چکی تھی۔ لیکن اس مرتبہ منظر مختلف تھا۔میں نے احسن اقبال کو قریب سے دیکھا۔ وہ صرف سرکاری اجلاسوں تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی جامعات کے دورے کیے، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں، پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم سے خطاب کیا، نوجوانوں سے مکالمہ کیا اور ہر جگہ پاکستان کا مقدمہ مدلل انداز میں پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں سیاسی نعرے نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور قومی ترقی کا وژن نمایاں تھا۔شاید یہی وجہ تھی کہ کئی ایسے پاکستانی، جو پہلے حکومت سے شدید فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے تھے، اب کم از کم سننے اور مکالمہ کرنے پر آمادہ نظر آئے۔ احسن اقبال نے خود راقم سے گفتگو میں کہا کہ ان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا، امریکی حکام سے کئی اہم منصوبوں پر بات چیت ہوئی، پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان کی معاشی بحالی میں کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی اور مختلف شعبوں میں نئے تعاون کے امکانات روشن ہوئے۔
واشنگٹن سےمیں نیویارک پہنچا۔یہ شہر واقعی کبھی نہیں سوتا۔ تیز رفتار زندگی اور اقوام متحدہ کی عظیم عمارت، جہاں دنیا کے فیصلوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اسی علاقے میں پاکستان کا مستقل مشن اور قونصل خانہ واقع ہے، جو نیویارک کے انتہائی اہم اور قیمتی علاقے میں پاکستان کی موجودگی کا ایک باوقار اظہار ہے۔اسی مشن میں پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں کیساتھ ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ امریکہ کی معروف جامعات میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ، محققین، انٹرنز اور نوجوان پروفیشنلز بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ان کے چہروں پر پاکستان کے بارے میں جاننے اور کچھ کرنے کا جذبہ نمایاں تھا۔
تقریب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد بھی شریک تھے۔ انہوں نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار اور نئی نسل کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم سے ملاقات بھی یادگار رہی۔ بینائی سے محروم ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، محنت اور عزم سے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔امریکہ میں ایک ہفتے سے زائد قیام کے دوران متعدد کامیاب پاکستانی کاروباری شخصیات، سائنس دانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد سے ملاقات ہوئی۔ ان سب کی کہانیوں میں ایک قدر مشترک تھی۔امریکہ مواقع دیتا ہے۔یہاں اگر صلاحیت موجود ہو تو ترقی کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ پالیسیاں تسلسل رکھتی ہیں، ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے اور محنت کرنے والے کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روکتا۔واپسی کے سفر میں ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کرتا رہا۔ہمارے سیاست دان امریکہ کے دورے تو بار بار کرتے ہیں، مگر کیا وہ امریکہ سے کچھ سیکھتے بھی ہیں؟اگر اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی، پالیسیوں کا تسلسل، میرٹ، تعلیم، تحقیق، نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کار دوست ماحول جیسی کامیاب روایات پاکستان میں بھی پوری دیانت داری سے نافذ کر دی جائیں تو شاید ترقی ہمارے لیے بھی کوئی خواب نہ رہے۔اور پاکستان کو آج سب سے زیادہ اسی سبق کی ضرورت ہے۔